دایکندی: افغان طالبان کے ہاتھوں ہزارہ شہریوں کا قتل جنگی جرم، ایمنسٹی انٹرنیشنل
👁️ 119 بار دیکھا گیا
دایکندی: افغان طالبان کے ہاتھوں ہزارہ شہریوں کا قتل جنگی جرم، ایمنسٹی انٹرنیشنل
کابل (ڈِیلی اردو/اے پی/روئٹرز) ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان میں طالبان فورسز نے غیرقانونی طور پر ہزارہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے 13 افراد کو قتل کردیا۔ ان میں سے بیشتر سابق افغان فوجی تھے، جو طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال چکے تھے۔
منگل کے روز ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ طالبان جنگجوؤں نے 30 اگست کو مرکزی افغان صوبے دائی کنڈی کے گاؤں کاہور میں ہزارہ اقلیتی برادری کے 13 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان میں سے گیارہ افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کے اراکین جبکہ دو عام شہری تھے، جن میں ایک 17 سالہ لڑکی بھی شامل تھی۔
Taliban forces unlawfully killed 13 ethnic Hazaras, including a 17-year-old girl, in Afghanistan’s Daykundi province after members of the security forces of the former government surrendered.https://t.co/1MTAa5MDcM
— Amnesty International (@amnesty) October 5, 2021
قتل کے واقعات کب پیش آئے
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات کے مطابق افغانستان میں ہزارہ اقلیتی برادری کے اراکین کا قتل طالبان کے افغانستان پر قبضے اور سقوط کابل کے تقریباً دو ہفتے بعد ہوا۔ ایک ایسے وقت پر جب طالبان افغان عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ماضی میں، 90 کی دہائی میں جس طرح حکومت کرتے رپے تھے، اب وہ ایسا نہیں کریں گے اور اپنے رویے میں تبدیلی کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں۔
عالمی برادری اس وقت کابل حکومت پر نظریں جمائے ہوئے ہے اور انتہائی سنجیدگی سے طالبان کی سرگرمیوں پر غور کر رہی ہے۔ خاص طور پر کابل میں طالبان کی نئی حکومت اور کابینہ کے اراکین کے ناموں کے اعلانات کے ساتھ ساتھ طالبان کے ان بیانات کا بھی گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے جس میں وہ روا داری، خواتین اور اقلیتوں کی شمولیت کا یقین دلا رہے ہیں۔ تاہم عملی طور پر طالبان نے اب تک اپنے اقدامات سے یہ ثابت نہیں کیا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ خاص طور سے افغانستان میں خواتین پر لگنے والی نئی پابندیاں اور کابل میں حکومتی نظام پر صرف مردوں کی اجارہ داری جیسے اقدامات عالمی برادری کے لیے مایوسی کا سبب ہیں۔
صوبے دائی کنڈی میں کیا ہوا؟
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے 14 اگست کو جب دائی کنڈی صوبے کا کنٹرول سنبھالا، اس وقت ایک اندازے کے مطابق 34 سابق فوجیوں نے ضلع خضر میں ایک محفوظ مقام پر پناہ لے لی۔ ایسے سابق فوجی جن کے پاس حکومتی فوجی ساز و سامان اور اسلحہ موجود تھے، وہ ہتھیار ڈالنے پر راضی ہو گئے تھے۔
افغانستان کی 36 ملین کی آبادی میں سے قریب نو فیصد ہزارہ باشندے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نو منتخب سیکرٹری جنرل، جو انسانی حقوق کے امور کی ایک فرانسیسی ماہر ہیں، کے بقول، ”ہزارہ باشندوں کا سفاکانہ قتل اس امر کا ثبوت ہے کہ طالبان انہی ہولناک پامالیوں میں مصروف ہیں، جن کی وجہ سے وہ اپنے سابقہ دور حکومت میں بھی بدنام تھے۔‘‘ ہزارہ باشندوں کے قتل سے متعلق ایمنسٹی کی رپورٹ سامنے آنے پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور بلال کریمی سے اس خبر رساں ایجنسی نے تبصرہ کرنے کے لیے کال کی، تو ایجنسی کو ان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔
ایمنسٹی کے مطابق طالبان کی نئی انتظامیہ کی طرف سے مقرر کردہ دائی کنڈی صوبے کی پولیس کے نئے چیف صادق اللہ عابد نے ہزارہ باشندوں کے کسی بھی قتل کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس صوبے میں ہونے والے ایک حملے میں طالبان کا ایک رکن مارا گیا۔
تصاویر اور ویڈیو بطور ثبوت
سابق فوجیوں کے گروپ کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کا بندوبست کرنے والے محمد عظیم صداقت کے مطابق 30 اگست کو ایک اندازے کے مطابق 300 طالبان جنگجو ایک قافلے کی شکل میں ایک گاؤں کے قریب پہنچے، جہاں سکیورٹی فورسز کے اراکین موجود تھے۔ ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے کچھ اپنے خاندانوں کے ساتھ تھے۔ جیسے ہی سکیورٹی فورسز کے اراکین نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ علاقہ چھوڑنے کی کوشش کی، طالبان نے ان پر فائر کھول دیا۔ اس کے نتیجے میں معصومہ نامی ایک 17 سالہ لڑکی ماری گئی۔ ایک سابق فوجی نے جوابی فائر کیا، جس میں طالبان کا ایک جنگجو ہلاک اور ایک دوسرا زخمی ہو گیا
اس دوران طالبان کی طرف سے مسلسل فائرنگ کی جاتی رہی۔ ایمنسٹی کے مطابق دو سابق فوجی ہلاک ہوئے۔ نو سکیورٹی اہلکاروں کو ہتھیار ڈال دینے کے بعد بھی طالبان ایک قریبی ندی کی طرف لے گئے اور وہاں لے جا کر انہیں قتل کر دیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ان ہلاکتوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں اسے ویڈیوز اور تصاویر بھی ملی ہیں، جن کی اس نے تصدیق بھی کر لی ہے۔
https://twitter.com/ShabbirTuri/status/1445410624876519429?s=19
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
حوثیوں کی سعودی عرب میں تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں سے دور رہنے کی وارننگ، حملوں میں شدت کا خدشہ
18/October/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر: فوجی افسر کی اہلیہ کے خلاف حساس معلومات غیر ملکی اداروں کو دینے کے الزام میں مقدمہ درج
18/October/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
ایتھوپیا کے علاقے تیگرائے میں کشیدگی بڑھ گئی، ڈرون حملوں کے بعد اریٹیریا کی فوج اور مقامی جنگجو پیچھے ہٹنے پر مجبور
18/October/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
امریکا کے تعاون سے ایران پر 36 ہزار بم گرائے، جوہری پروگرام تباہ کردیا،اسرائیلی وزیر دفاع کا دعویٰ
18/October/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
خضدار: ماربل فیکٹری پر مسلح حملہ، مالک کے بیٹے سمیت 18 افراد اغوا، ایک مزدور زخمی
18/October/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
یمن میں تعز اور باب المندب کے محاذ گرم، جنوبی جائنٹس بریگیڈز کا حوثیوں کے خلاف نئے حملے کا دعویٰ
18/October/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26380 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15618 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11912 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9265 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7522 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5473 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C