13/August/2025

نئی حکمتِ عملی کے تحت داعش عراق، شام اور لبنان میں دوبارہ منظم

👁️ 400 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
نئی حکمتِ عملی کے تحت داعش عراق، شام اور لبنان میں دوبارہ منظم

نئی حکمتِ عملی کے تحت داعش عراق، شام اور لبنان میں دوبارہ منظم

بغداد(ڈیلی اردو) عراق، شام اور لبنان میں دہشت گرد تنظیم داعش ایک نئی حکمتِ عملی کے تحت اپنی صف بندی دوبارہ منظم کر رہی ہے، جس نے ایک بار پھر خطے کی سلامتی پر خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں اس کی عسکری طاقت کو شدید دھچکے لگے اور اس سے اس کے بیشتر اسٹریٹجک علاقے چھن گئے، تاہم تنظیم اب بھی شام کی بادیہ، رِیف دیرالزور، مشرقی الحسکہ اور عراق کے سرحدی علاقوں میں سرگرم ہے، جہاں دشوار گزار پہاڑی اور صحراوی علاقے اسے چھپ کر کارروائیاں کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

داعش اب براہِ راست محاذ پر لڑنے کے بجائے خفیہ نیٹ ورک اور ’’خوابیدہ‘‘ یا ’’سلیپر سیلز‘‘ کے ذریعے کام کر رہی ہے، جو خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ اور چھوٹے پیمانے پر بم دھماکے کرتے ہیں۔ سکیورٹی رپورٹس کے مطابق شام اور لبنان کے سرحدی دیہات اور کمزور سکیورٹی والے دیہی علاقوں میں بھی یہ خلیے سرگرم ہیں۔

شامی اور عراقی حکام، بین الاقوامی اتحاد اور دیگر عالمی طاقتیں مشترکہ آپریشنز، حساس انٹیلی جنس شیئرنگ اور بارڈر سکیورٹی کو مضبوط بنا کر اس نیٹ ورک کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ عالمی ادارے انتہا پسندانہ سوچ کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کے اسباب ختم کرنے کے لیے آگاہی پروگرام چلا رہے ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی کے ماہر سامر الحمصی نے کہا کہ ’’سلیپر سیلز اب بھی ایک حقیقی خطرہ ہیں، کیونکہ تنظیم غیر روایتی حربے جیسے محدود پیمانے پر دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ پر انحصار کر رہی ہے۔‘‘ ان کے مطابق، خطے کے ممالک کو مشترکہ انٹیلی جنس تعاون، مربوط کارروائی اور فکری محاذ پر بھی مقابلہ جاری رکھنا ہوگا۔

سکیورٹی اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے وسط تک شام، لبنان اور عراق کے سرحدی علاقوں میں داعش کے 150 سے 200 چھوٹے خلیے سرگرم ہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف وار اسٹڈیز اور مڈل ایسٹ سکیورٹی ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں سرحدی دراندازی اور بھرتی کی کوششوں میں 25 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ خطے کے اقتصادی اور سماجی بحران ہیں جنہیں داعش اپنے اثرورسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

رواں سال 2025 میں داعش کے خلاف نمایاں کارروائیوں میں جنوری میں شامی فورسز نے حمص کے دیہی علاقے سے 12 دہشت گرد گرفتار کیے اور بھاری اسلحہ برآمد کیا۔ فروری میں لبنان کے جوسیہ بارڈر کے قریب ایک خودکش دھماکے کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ جون میں شام اور عراق کی مشترکہ کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک اور اسلحہ کے ذخائر تباہ کیے گئے، جبکہ جولائی میں لبنان میں ایک نیٹ ورک پکڑا گیا جو جنگجوؤں کو شام اور عراق بھیج رہا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق داعش اب چھپ کر اور محدود پیمانے پر کارروائیاں کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلانے، نئے وسائل حاصل کرنے اور مقامی بھرتی بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مسلسل اور ہمہ پہلو سکیورٹی دباؤ برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C