پاکستان نے مغربی ممالک کو اپنے افغان اتحادی منتقل کرنے کیلئے ڈیڈ لائن دے دی
👁️ 198 بار دیکھا گیا
پاکستان نے مغربی ممالک کو اپنے افغان اتحادی منتقل کرنے کیلئے ڈیڈ لائن دے دی
اسلام آباد (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر امریکہ سمیت مغربی ممالک نے بیرونِ ملک آباد کرنے کے وعدے پر لائے گئے افغان شہریوں کو رواں برس مارچ تک منتقل نہیں کیا تو انہیں ملک بدر کردیا جائے گا۔
مذکورہ افغان شہری 2021 میں افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد پاکستان آئے تھے۔ یہ وہ افغان شہری تھے جنھوں نے امریکہ اور نیٹو فورسز سے اپنے تعلق کے باعث کسی ممکنہ انتقامی کارروائی سے بچنے کے لیے پاکستان میں پناہ لی تھی۔
حال ہی میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے بتایا تھا کہ لگ بھگ 80 ہزار افغان باشندوں کو مختلف ممالک اپنے ہاں بسانے کے لیے لے جاچکے ہیں اور تقریباً 40 ہزار اس وقت بھی پاکستان میں ہیں۔ ان میں سے مبینہ طور پر 15 ہزار افغان شہری ایسے بھی ہیں جو امریکہ منتقلی کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیرِ اعظم کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں لگ بھگ 30 لاکھ افغان شہریوں کے اسٹیٹس کا جائزہ لیا گیا۔ ان افغان پناہ گزینوں میں دستاویزات رکھنے اور نہ رکھنے والے پناہ گزین، کاروباری مقاصد سے نقل مکانی کرنے والے اور ایسے افغان شامل ہیں جو کسی تیسرے ملک جانے کے منتظر ہیں۔
وی او اے نے پیر کو اس اجلاس سے متعلق ایک دستاویز دیکھی ہے جس میں کسی تیسرے ملک منتقلی کے منتظر افغان شہریوں کو 31 مارچ 2025 تک اسلام آباد اور ملحقہ شہر راولپنڈی سے بے دخل کرنے کے منصوبے کا خاکہ دیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے وزارتِ خارجہ کو ان ممالک کے سفارتی مشنز سے رابطے یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے جہاں منتقلی کے وعدے پر یہ افغان شہری اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم ہیں یا جن ممالک یہ جانا چاہتے ہیں۔ اگر اس سلسلے میں پیش رفت نہیں ہوتی تو ان افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجا جائے گا۔
ساڑھے تین برس قبل امریکہ اور مغربی ممالک کے انخلا کے بعد طالبان نے کابل میں افغانستان کا اقتدار سنبھال لیا تھا۔ انخلا سے قبل امریکہ دیگر اتحادیوں کے ساتھ دو دہائیوں تک افغان جنگ میں سرگرم رہا جس دوران ہزاروں افغان شہریوں نے ان کے لیے کام کیا۔
انخلا کے وقت اتحادی فورسز نے ہزاروں افغان شہریوں کو بیرونِ ملک بسانے کے وعدے پر افغانستان کے پڑوسی ممالک منتقل کیا۔ ان میں ایک بڑی تعداد کو عارضی طور پر پاکستان لایا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے پناہ گزینوں سے متعلق یو ایس ایڈمیشن پروگرام معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ حکومت کے مطابق اس پروگرام کا جائزہ لیا جائے گا کہ یہ امریکہ کے مفادات سے کتنا ہم آہنگ ہے۔ اس اعلان نے پہلے سے سست روی کے شکار افغان شہریوں کی منتقلی کے عمل کو مزید پیچیدہ کردیا۔
پاکستان کے منصوبے کے مطابق شہباز شریف ہدایت کر چکے ہیں کہ حکام تمام قانونی افغان پناہ گزینوں بشمول رہائشی پرمٹ نہ رکھنے والوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی سے باہر منتقل کریں اور افغانستان واپس بھیج دیں۔
اگرچہ پاکستان میں قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی مجموعی تعداد کے بارے میں اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے ہیں تاہم سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں قانونی طور پر مقیم افغان سٹیزن کارڈ (اے سی سی) رکھنے والے افغانوں کی تعداد آٹھ لاکھ سے زائد ہے۔
سرکاری دستاویز میں پیش کیے گئے خاکے میں کہا گیا ہے کہ افغان شہریوں کو نکالنے کے لیے آپریشنز کا اعلان نہیں کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایک بار جانے کے بعد یہ واپس نہ آئیں۔
پاکستان نے 2023 کے اختتام کے بعد ویزا یا سفری دستاویز نہ رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا جس میں آٹھ لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔
پاکستان میں اقوامِ متحدہ میں رجسٹرڈ اور پروف آف رجسٹریشن(پی او وی) کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کی تعداد 10 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔
شہباز شریف کی حکومت نے پہلے ہی پی او آر رکھنے والے افغان شہریوں کو 30 جون 2025 تک پاکستان میں رہنے کی مہلت دے دی ہے۔ ان میں زیادہ بڑی تعداد ایسی ہے جو افغانستان کی خانہ جنگی اور طالبان کی 1996 سے 2001 تک کی پہلی حکومت کے خوف کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے مطابق غیر قانونی پناہ گزیوں کی اکثریت یا تو پاکستان میں پیدا ہوئی یا ان کی پرورش یہاں ہوئی ہے اور ان میں زیادہ تر ایسے ملک واپس نہیں جانا چاہتے جس سے وہ مانوس ہی نہیں۔
مزید برآں اقوامِ متحدہ کے مطابق گزشتہ برسوں میں جاری رہنے والے تنازعات، قدرتی آفات اور طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد امدادی سرگرمیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ امدادی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق افغانستان کی نصف آبادی کو کوئی نہ کوئی معاونت درکار ہے اور یہی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی حوصلہ شکنی کا باعث بننے والا اہم محرک ہے۔
افغانستان میں طالبان کی اسلامی قوانین کی سخت گیر تشریحات کے مطابق خواتین پر تعلیم، معلومات اور عام زندگی سے متعلق عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے بھی کئی پناہ گزین پاکستان نہیں چھوڑنا چاہتے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور
19/October/2026 👁️ 73 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو ایران کے ساتھ نئی جنگ کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں، عباس عراقچی کا الزام
19/October/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
تل ابیب سے ویانا جانے والی پرواز کی صوفیہ میں ہنگامی لینڈنگ، بم کی دھمکی پر مسافروں سے پوچھ گچھ
19/October/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
یمن میں سعودی فضائی حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک و زخمی ، حوثی باغیوں کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس آپریشنز کا منصوبہ، نقل مکانی نہ ہونے کی یقین دہانی
19/October/2026 👁️ 59 بار دیکھا گیا
حوثیوں کی سعودی عرب میں تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں سے دور رہنے کی وارننگ، حملوں میں شدت کا خدشہ
18/October/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26383 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15620 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11914 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9268 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7525 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5473 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C