08/August/2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین تاریخی دفاعی معاہدہ طے، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

👁️ 767 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین تاریخی دفاعی معاہدہ طے، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین تاریخی دفاعی معاہدہ طے، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

مکہ  (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ روئٹرز/ اے پی) پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ایک تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح جارحیت کو تمام فریقوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

 

یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، علاقائی کشیدگی میں اضافہ اور نئے سفارتی و دفاعی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔

 

اسلام آباد سے جمعہ 7 اگست کو موصولہ رپورٹس کے مطابق پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے یہ اہم معاہدہ کیا گیا ہے۔

 

مختلف عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق معاہدے کی دستاویز پر جمعہ کو سعودی عرب کے شہر مکہ میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے دستخط کیے۔

 

معاہدے کی اہم شق

 

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف جارحیت یا مسلح حملے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

 

معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب یا ترکی میں سے کسی ایک کے خلاف ہونے والا مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا اور فریقین اس کا مشترکہ طور پر جواب دینے کے لیے تعاون کریں گے۔

 

یہ شق تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو محض فوجی تربیت یا سکیورٹی تعاون سے آگے لے جاتی ہے اور ایک دوسرے کی سلامتی کے حوالے سے باہمی عزم کو واضح کرتی ہے۔

 

مکہ میں دستخط کی علامتی اہمیت

 

اس تاریخی معاہدے کے لیے سعودی عرب کے شہر مکہ کا انتخاب بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی تینوں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن اور مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ مکہ مسلمانوں کے لیے دنیا کا مقدس ترین شہر ہے اور یہاں خانہ کعبہ واقع ہے، جہاں ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حج اور عمرے کے لیے پہنچتے ہیں۔

 

اس لیے تینوں ممالک کے درمیان اہم دفاعی معاہدے پر مکہ میں دستخط کو نہ صرف سیاسی اور سفارتی بلکہ مذہبی و علامتی اعتبار سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

 

پاکستان مسلم دنیا کی واحد جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست ہے، جبکہ ترکی نیٹو کا رکن ہے اور سعودی عرب خطے کی اہم ترین عرب طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔ یوں تینوں ممالک کی دفاعی اور تزویراتی صلاحیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود علاقائی سطح پر نمایاں اثر رکھتی ہیں۔

 

پاکستان اور سعودی عرب کا پہلے سے دفاعی معاہدہ

 

نئے سہ فریقی معاہدے سے قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ سطح پر بھی ایک اہم دفاعی معاہدہ موجود تھا۔

 

گزشتہ برس ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ‘ کیا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا تھا کہ ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

 

نئے سہ فریقی معاہدے کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود دفاعی شراکت داری کو ترکی کے ساتھ بھی ایک وسیع تر فریم ورک میں جوڑ دیا گیا ہے۔

 

علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت

 

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی اور سفارتی توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور مختلف علاقائی طاقتیں اپنے دفاعی و تزویراتی تعاون کو وسعت دے رہی ہیں۔

 

پاکستان حالیہ عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں شامل رہا ہے، جبکہ ترکی غزہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں جنگ بندی کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

 

سعودی عرب بھی خطے میں اپنی سلامتی کو مضبوط بنانے اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

 

ایسے ماحول میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی، دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتا ہے۔

 

تینوں ممالک کے لیے اس معاہدے کی اہمیت

 

تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ تینوں ممالک اپنے اپنے خطوں میں نمایاں فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

 

پاکستان جنوبی ایشیا میں ایک اہم جوہری طاقت ہے، سعودی عرب خلیج اور عرب دنیا میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ ترکی نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ، بحیرہ اسود اور بحیرہ روم کے خطوں میں اہم عسکری طاقت ہے۔

 

تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافے سے مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی صنعت، انٹیلی جنس تعاون، تربیت اور سکیورٹی کے دیگر شعبوں میں بھی تعاون کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

 

تاہم معاہدے کی عملی نوعیت، اس کے تحت مشترکہ دفاع کے طریقہ کار اور کسی ممکنہ حملے کی صورت میں فریقین کے عملی ردعمل کی تفصیلات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گی۔

 

مجموعی طور پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا میں بدلتے ہوئے علاقائی تزویراتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C