پنجگور، نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے: ‘چار روز موت اور خوف کی سائے میں گزارے‘
👁️ 23 بار دیکھا گیا
پنجگور، نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے: ‘چار روز موت اور خوف کی سائے میں گزارے‘
کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی/وی او اے) ‘پہلے ہم نے ٹیلی ویژن کے سکرینوں پر جنگوں کے مناظر دیکھتے تھے مگر کبھی سوچا نہیں تھا کہ اصل زندگی میں ایسا ہو گا، لیکن گذشتہ دنوں لگاتار چار روز تک جنگ کیسی ہوتی ہے اس کا مشاہدہ ہم نے اپنے شہر میں کیا ہے۔ یہ خوفزدہ کر دینے والا تھا۔‘
یہ کہنا ہے ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع پنجگور کے رہائشی آغا شاہ حسین کا، جن کا گھر ایف سی ہیڈکوارٹر سے بہت زیادہ دور نہیں ہے۔
نوشکی کی طرح دو فروری کی شب پنجگور میں بھی مسلح افراد نے ایف سی کے ہیڈکوارٹر پر ایک بڑا حملہ کیا تھا جو کہ سکیورٹی کے حوالے سے پنجگور میں ایف سی کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔
آغا شاہ حسین نے بتایا کہ ‘ہم چار روز تک اپنے گھروں میں محصور تھے اور اس دوران مسلسل دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں آ رہی تھیں، اس دوران ذہن پر بس یہ سوچ غالب تھی کہ بچ پائیں گے یا نہیں۔‘
بلوچستان میں 2000 کے بعد نئی شورش کے آغاز کے بعد پنجگور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرپر ہونے والے حملہ سب سے طویل تھا جو کہ دو فروری کی شب شروع ہوا اور پانچ فروری کی صبح تک جاری رہا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پنجگور میں ہونے والے حملے میں فوج کے ایک افسر سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔
مقامی حکام نے اس واقعے میں دو سویلین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایف سی ہیڈکوارٹر سے متصل بعض سرکاری عمارتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے علاوہ گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے اعلانیہ طور پر کرفیو کا اعلان نہیں کیا گیا تھا لیکن چار روز انھوں نے کرفیو جیسے ماحول میں گزارے، تاہم اتوار کو پنجگور میں معمولات زندگی بحال ہوئے ہیں۔
پنجگور کے رہائشی محمد ابراہیم (فرضی نام) نے فون پر بی بی سی بتایا کہ دو فروری کی رات آٹھ بجے کے قریب ایک بہت زوردار دھماکہ ہوا تھا جس کے ساتھ ایک تیز روشنی بلند ہوئی جو آسمان پر واضح نظر آئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جس وقت دھماکہ ہوا، اس وقت میں اپنے گھر میں تھا اور دھماکے کی شدت نے مجھ سمیت تمام گھر والوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ چونکہ پنجگور میں دھماکے طویل عرصے سے ہو رہے ہیں اس لیے بہت زیادہ شدید دھماکہ ہونے کے باوجود ہم سمجھے کہ معاملہ ختم ہو گیا ہے، لیکن اس کے تھوڑی دیر بعد شدید فائرنگ اور مسلسل دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔‘
‘ماضی میں بھی دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکار حفظ ماتقدم کے طور پر فائرنگ کرتے رہے ہیں جس کے باعث ہم یہی سمجھے فائرنگ بھی تھوڑی دیر بعد ختم ہو جائے گی لیکن نہ صرف یہ ختم نہ ہوئی بلکہ اگلے روز ہیلی کاپٹر بھی فائرنگ اور گولہ باری کرتے رہے اور یہ سلسلہ چار روز تک جاری رہا۔‘
‘چار روز موت اور خوف کی سائے میں گزارے‘
انھوں نے بتایا کہ دو فروری کی شب آٹھ بجے سے لے کر پانچ فروری کی صبح تک گھروں میں محصور ہم لوگ تھے اور دوسری جانب بس مسلسل دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں تھیں۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ نے گھر سے نکلنے سے منع کیا تھا اگر وہ منع نہ بھی کرتے تو فائرنگ کی شدت اور تسلسل اتنا زیادہ تھا کہ اس میں باہر نکلنا بہت مشکل اور موت کو دعوت دینے کے مترادف تھی۔
‘ہم خوف اور موت کے سائے میں تھے لیکن اللہ نے رحم کیا جس کے باعث ملک الموت نے ہماری جانب رُخ نہیں کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ املاک کا نقصان ہوا لیکن انسانی جانوں کا بہت زیادہ ضیاع نہیں ہوا۔ ‘ہمارے محلے میں ایک بچی زخمی ہوئی ہے لیکن وہ بھی معمولی۔‘
انھوں نے کہا کہ بعض گھروں پر گولوں کے ٹکڑے گرے ہیں اور بازار میں دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
محمد ابراہیم نے بتایا کہ ’‘نیند ایسی صورتحال میں کسے آ سکتی ہے۔ بچے، خواتین اور ہم سب مرد سہمے ہوئے بیٹھے تھے کہ مسلسل فائرنگ اور دھماکوں میں معلوم نہیں کس لمحے کیا ہو جائے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر صبح سات، ساڑھے سات بجے کے قریب آتے اور پھر وقفے وقفے سے شام تک شیلنگ اور فائرنگ کرتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ تین چار روز تک ایک مکمل جنگ کی خوفناک کیفیت تھی جو کہ پنجگور شہر میں بالخصوص ان لوگوں پر گزری جو کہ ایف سی ہیڈ کوارٹر کے قریب تھے۔ ‘جس خوف اور اذیت سے ان تین چار دنوں میں ہم گزرے ان کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہر وقت بس موت کا خوف سروں پر منڈلا رہا تھا۔‘
ایک اور شہری نے بتایا کہ پنجگور میں حالات تو ویسے بہت خراب ہیں۔ ‘کوئی دن ایسا نہیں جس میں لوگ نہیں مارے جاتے ہوں یا لاپتہ اور اغوا نہیں کیے جاتے ہوں لیکن یہ چار دن ایسے تھے کہ اس میں وہ مکمل طور پر محصور ہوکر رہ گئے۔‘
سویلین ہلاکتیں، سرکاری املاک اور گھروں کو نقصان
نقصانات کے حوالے سے معلومات کے لیے ڈپٹی کمشنر پنجگور اور ایس ایس پی پنجگور سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تاہم سی ٹی ڈی کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سول ہسپتال پنجگور میں جن آٹھ افراد کی لاشیں منتقل کی گئی ہیں ان میں دو عام شہریوں کی لاشیں بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کی موت گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی یا کسی اور وجہ سے، تاہم ان کی ہلاکت ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے کے دوران ہوئی ہے۔
نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر صحت بلوچستان رحمت صالح کا تعلق پنجگور شہر سے ہے۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چار روز تک پنجگور کے لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار رہے۔
انھوں نے کہا کہ بہت سارے دفاتر، ایف سی ہیڈکوارٹر سے متصل ہیں جن میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کا دفتر، ایلیمنٹری کالج، بوائز ڈگری کالج ،میونسپل کمیٹی چتکان کا دفتر، پولیس تھانہ اور پولیس لائن وغیرہ شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قرب و جوار کے دفاتر میں نقصان ہوا ہے اور بہت سارے گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ان دفاتر کے حوالے سے پنجگور کے سینیئر صحافی برکت مری نے جو تصاویر شیئر کیں ان میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے دفتر میں ہونے والے نقصانات بہت زیادہ ہیں جبکہ دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
برکت مری نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ سرکاری دفاتر اور دکانوں کو پہنچنے والے نقصانات کے علاوہ بجلی کی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے شہر میں بہت سارے علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بہت سارے محلوں اور گھروں میں گولوں کے ٹکڑے پڑے ہوئے ہیں لیکن تاحال ان کو نہیں اٹھایا گیا ہے۔
تاہم چار روز کے بعد پنجگور شہر میں معمولات زندگی بحال ہو گئی ہیں۔
برکت مری نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کے بعد لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے اور اتوار کے روز شہر میں دکانیں کھل گئیں۔
پاکستانی فوج کا 13 حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
تین فروری کو پنجگور اور نوشکی میں دہشت گردوں کے سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں پر حملے میں ایک فوجی افسر سمیت سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے جب کہ فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے 13 حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سکیورٹی فورسز نے نوشکی اور پنجگور میں فوری کارروائی کر کے دونوں حملوں کو پسپا کیا، جس کے بعد نوشکی میں نو دہشتگرد ہلاک جبکہ اس دوران ایک افسر سمیت چار فوجی بھی ہلاک ہوئے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دوسری جانب ’پنجگور میں فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد دہشتگردوں کے حملے کو پسپا کیا گیا اور کچھ دہشتگرد علاقے سے بھاگ گئے۔
’بھاگنے والوں میں سے چار دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ دیگر چار کا گھیراؤ کیا گیا جنھیں آج ہلاک کیا گیا ہے کیونکہ وہ ہتھیار ڈالنے سے انکاری تھے۔ ‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ‘پنجگور میں 72 گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں پانچ فوجی ہلاک ہوئے اور چھ زخمی ہیں۔’
آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ ‘ان حملوں سے منسلک تین دہشتگردوں کو گذشتہ روز بالگتر اور کیچ میں ہلاک کیا گیا تھا جن میں سے دو انتہائی مطلوب تھے۔’
ادھر بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس حملے میں شامل اس کے تمام 16 فدائین ہلاک ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ دو فروری کی شب بلوچستان کے دو مقامات پنجگور اور نوشکی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹرز پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
حملوں میں 100 سے زیادہ اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ترجمان نے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں نوشکی اور پنجگور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کی مجید بریگیڈ کی جانب سے کیے گئے حملوں میں فوج کے تقریباً 100 اہل کار ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم حکام نے بی ایل اے کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
جنوبی کوریا: پانچ لاکھ ڈرون جنگجو تیار کیے جائیں گے
27/June/2026 👁️ 180 بار دیکھا گیا
یوکرین کا روس پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ
27/June/2026 👁️ 241 بار دیکھا گیا
اسرائیل اور لبنان میں امریکی ثالثی سے فریم ورک معاہدہ طے
27/June/2026 👁️ 120 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، دو حملہ آور ہلاک
27/June/2026 👁️ 233 بار دیکھا گیا
جنگ بندی کیخلاف ورزی: امریکہ کا ایران میں اہداف پر فضائی حملہ
27/June/2026 👁️ 201 بار دیکھا گیا
50 سال بعد اسرائیل نے اینتیبے آپریشن کے خفیہ راز بے نقاب کر دیے
27/June/2026 👁️ 120 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8861 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4637 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3313 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2482 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2240 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1928 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C