21/August/2021

چین کا گوادر خودکش حملے کی تحقیقات کا مطالبہ

👁️ 30 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
چین کا گوادر خودکش حملے کی تحقیقات کا مطالبہ

چین کا گوادر خودکش حملے کی تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان میں چینی سفارتخانے نے گوادر میں ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے حملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

پاکستان میں چینی سفارت خانے نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘چین دہشت گردی کے اس فعل کی شدید مذمت کرتا ہے، دونوں ممالک کے زخمیوں کے ساتھ مخلصانہ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور پاکستان میں بے گناہ متاثرین سے گہری تعزیت کا اظہار بھی کرتا ہے۔

بیان کہا گیا کہ پاکستان میں چینی سفارت خانے نے فوری طور پر ہنگامی منصوبے کا آغاز کیا اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ زخمیوں کا مناسب علاج کرے، حملے کی مکمل تحقیقات کرے اور قصور واروں کو سخت سے سخت سزائیں دے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس ہی دوران پاکستان میں تمام سطح پر متعلقہ محکموں کو لازمی طور پر مضبوط حفاظتی اقدامات اور اپ گریڈ شدہ سیکورٹی تعاون میکانزم کو نافذ کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

چینی سفارت خانے نے کہا کہ حالیہ وقتوں میں پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی خراب ہوئی ہے، پے درپے کئی دہشت گردی کے حملے ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں کئی چینی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘سفارت خانہ، پاکستان میں موجود چینی شہریوں کو چوکس رہنے، حفاظتی احتیاطی تدابیر کو مضبوط بنانے، غیر ضروری باہر جانے کو کم کرنے اور مؤثر حفاظتی اقدامات کی یاد دہانی کراتا ہے’۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے گوادر میں گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے پروجیکٹ پر چینی اہلکاروں کو لے جانے والی ایک گاڑی پر خودکش حملہ آور نے حملہ کیا تھا۔

حملے کے نتیجے میں ایک چینی زخمی، دو مقامی بچے ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے، واقعے کے بعد زخمیوں کو فوری طور ہر گوادر کے ہسپتال میں علاج کے لیے منتقل کردیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھماکے سے قریب ہی کھیلنے والے دو بچے ہلاک ہوئے اور چین کا ایک شہری معمولی زخمی ہوا۔

خودکش دھماکا بلوچ وارڈ گوادر ایکسپریس وے کے قریب ہوا تھا۔

دوسری جانب گوادر میں چینی انجنیئروں کے قافلے پر خودکش حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرلی۔

https://twitter.com/Hakkal_media0/status/1428760459143000064?s=19

ترجمان بی ایل اے نے دعوی کیا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 9 چینی انجنیئر اور ورکر ہلاک و متعدد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے فدائی سربلند بلوچ عرف عمر جان نے کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ 14 جولائی 2021 کو بھی ضلع کوہستان کے علاقے داسو میں توانائی کے زیر تعمیر ہائیڈرو پلانٹ کے پاس ہی چینی انجینیئرز کی ایک بس پر بھی خودکش حملہ ہوا تھا۔ اس بس میں سوار تقریبا دس چینی ورکرز اور تین پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی بلوچستان کی پہلی منظم عسکریت پسند تنظیم ہے جس نے اس سے قبل دالبندین میں چینی انجینیئرز کی بس پر خودکش حملہ، کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ کیا ہے۔

مجید بریگیڈ مجید بلوچ کے نام سے بنائی گئی ہے جس نے 1970 کی دہائی میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دستی بم سے حملے کی کوشش کی تھی۔

چینی قونصل خانے پر حملے کے بعد افغانستان میں بی ایل اے کے کمانڈر اسلم عرف اچھو ایک مشتبہ خودکش حملے میں ساتھیوں کے ہمراہ مارے گئے تھے، جس کے بعد بی ایل اے کی قیادت بشیر زیب نے سنبھالی ہے۔

یاد رہے کہ سال 2018 میں بھی بلوچستان کے علاقے دالبندین میں چینی باشندوں کو لے جانے والی ایک بس پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں دو چینی انجینئرز سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

سال 2019 ء میں بھی گوادر کے پی سی ہوٹل پر بھی اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب چینی باشندے بھی ہوٹل میں موجود تھے۔ اس حملے میں تین حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C