26/August/2021

کابل ایئرپورٹ کے باہر دو خودکش دھماکے، 4 امریکی فوجیوں سمیت 50 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی

👁️ 21 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کابل ایئرپورٹ کے باہر دو خودکش دھماکے، 4 امریکی فوجیوں سمیت 50 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی

کابل ایئرپورٹ کے باہر دو خودکش دھماکے، 4 امریکی فوجیوں سمیت 50 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی

کابل (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) افغانستان کے کابل ایئرپورٹ کے باہر دو خودکش دھماکوں کے نتیجے میں چار امریکی فوجیوں کم از کم 50 افراد ہلاک اور طالبان کے گارڈز سمیت 130 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق طالبان کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں بچوں سمیت 43 افراد ہلاک ہوئے اور طالبان کے گارڈز سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے دارالحکومت میں ایئرپورٹ کے باہر دوسرا دھماکا ہوا، جس سے 40 افراد ہلاک اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

امریکی عہدیدار نے ابتدائی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زخمیوں میں امریکی فوجی بھی شامل ہیں، چار ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

کابل کے ایمرجنسی ہسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں 60 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا اور 6 افراد کو جب ہسپتال لایا گیا تو دم توڑ چکے تھے۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ پہلا دھماکا آبے گیٹ کے قریب ہوا اور دوسرا بیرون ہوٹل کے قریب ہوا، دو امریکی عہدیداروں نے کہا کہ ایک دھماکا خودکش تھا۔

جان کربی نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ آبے گیٹ کے قریب ہونے والا دھماکا بدترین حملہ تھا، جس کے نتیجے میں امریکی اور شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم ایک اور دھماکے کی تصدیق کرسکتے ہیں جو بیرون ہوٹل کے قریب، آبے گیٹ سے مختصر فاصلے پر ہوا’۔

خبرایجنسی رائٹرز کو امریکی عہدیدار نے بتایا کہ زخمیوں میں امریکی فوج کے تین عہدیدار شامل ہیں لیکن تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق امریکی فوج کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوا ہے۔

کابل میں قائم امریکی سفارت خانے نے واقعے کو ‘ایک بڑا دھماکا’ سے تعبیر کیا اور کہا کہ فائرنگ کی رپورٹس بھی ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کہا تھا کہ خفیہ اطلاع ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکا ہوسکتا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر جوبائیڈن کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے کے بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن اس وقت سیکیورٹی حکام کے ساتھ افغانستان کی صورت حال ہونے والے ایک اجلاس میں شریک تھے اور پہلے دھماکے کی رپورٹ آئی۔

برطانیہ کی وزارت دفاع نے کہاکہ دھماکے کی اطلاع کے بعد وجوہات کے تعین کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ‘ہم ہنگامی طور پر کابل میں کیا ہوا اور انخلا کی کوششوں پر اس کے کیا اثرات ہوں گے، اس کا تعین کر رہے ہیں’۔

برطانوی وزارت دفاع نے کہا کہ ‘ہماری اولین ترجیح اپنے عہدیداروں، برطانیہ اور افغانستان کے شہریوں کی سلامتی ہے، ہم اپنے امریکی اور نیٹو اتحادیوں سے قریبی رابطے میں ہیں تاکہ واقعے پر فوری امدادی کام کیا جائے’۔

ترک وزارت دفاع نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے ہیں تاہم ترک فوج کے کسی عہدیدار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کا دعویٰ

افغان اسلامک پریس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یہ کابل کے طالبان کے قبضے میں جانے کے بعد وہاں ہونے والا پہلا حملہ ہے۔ اب تک اس حملے میں کم از کم 43 افراد کی ہلاکت اور 130 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

مغربی ممالک کا انتباہ

خیال رہے کہ مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر فوری طور پر کابل ایئرپورٹ کے اطراف سے نکل جائیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے نامعلوم ’سیکیورٹی خطرات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایبی گیٹ، جنوبی گیٹ یا شمالی گیٹ پر موجود افراد کو فوری طور پر نکل جانا چاہیے’۔

آسٹریلیا کے خارجہ امور کے محکمے نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ برقرار ہے اور بہت زیادہ ہے اس لیے کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سفر نہ کریں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ ہوائی اڈے کے علاقے میں ہیں تو کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں اور مزید مشورے کا انتظار کریں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C