07/January/2025

کرم میں شیعہ سنی فسادات: ٹاسک فورس اور 48 نئی چیک پوسٹیں قائم کرنے کا فیصلہ

👁️ 88 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم میں شیعہ سنی فسادات: ٹاسک فورس اور 48 نئی چیک پوسٹیں قائم کرنے کا فیصلہ

کرم میں شیعہ سنی فسادات: ٹاسک فورس اور 48 نئی چیک پوسٹیں قائم کرنے کا فیصلہ

پشاور (ڈیلی اردو) صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں امن و امان کی بحالی کے لیے ٹاسک فورس بنانے، اور چیک پوسٹیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ کی دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے ٹل پاراچنار روڈ پر 48 چیک پوسٹیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پولیس چیک پوسٹوں کے لیے درکار فنڈز سے متعلق حکومت کو آگاہ کیا جائے گا جبکہ محکمہ داخلہ کے پی وفاقی حکومت سے پاراچنار میں ایف آئی اے سائبر ونگ قائم کرنے کی درخواست کرے گا۔

اس کے علاوہ ٹل پاراچنار روڈ کی حفاظت کے لیے سپشل فورس قائم کی جائے گی جس میں 399 ایکس سروس مینز کو بھرتی کیا جائے گا۔ کرم میں تمام بنکرز کا خاتمہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے کیا جائے گا، حکومت کرم کے رہائشیوں سے اسلحہ خریدنے پر غور کرےگی اور کرم میں اسلحہ لائسنس کے جلد اجرا کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا جائےگا۔

دستاویزات کے مطابق کرم سے ایپکس کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں یکم فروری تک اسلحہ جمع کیا جائے گا، اسلحہ کا ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا جب کہ اسلحہ کی نگرانی ضلعی انتظامیہ کے ذمہ ہو گی۔

ادھر کرم میں امن معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر ضلعی انتظامیہ نے تین عمائدین کو گرفتار کر لیا۔

ضلعی انتظامیہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سید رحمان، سیف اللہ اور کریم خان نے تاحال امن معاہدے پر دستخط نہیں کئے تھے اس لئے ان کے خلاف ایکشن لیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایپیکس کمیٹی اور صوبائی حکومت کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ پاراچنار پریس کلب کے باہر دھرنا دے کر روڈ بند کرنے والوں پر بھی مقدمات درج کر لئے گئے۔

اعلامیہ کے مطابق تمام راستے ہر صورت کھول کر آمدورفت یقینی بنائی جائے گی؛ بگن میں ڈی سی کرم جاویداللہ محسود پر حملے میں ملوث ایک اور دہشت گرد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے؛ ایف آئی آر میں نامزد پانچ دہشت گردوں میں اب تک تین پکڑے جا چکے ہیں، باقی دو دہشت گردوں اور دیگر نامعلوم حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے کوششیں جاری ہیں۔

خیال رہے کہ کرم سابق ڈی سی کرم جاوید اللہ محسود پر فائرنگ میں ملوث ملزمان کی حوالگی پر صوبائی حکومت نے کرم کے متاثرین کی امداد بھی بند کر دی ہے۔

جاوید اللہ محسود پر 4 دسمبر کو اس وقت فائرنگ کی گئی تھی جب وہ بگن میں دھرنا کے منتظمین سے مذاکرات کرنے آئے تھے، واقعہ میں ڈپٹی کمشنر کرم سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

دوسری جانب پاراچنار پریس کلب کے باہر دھرنا، سڑک بند کرنے، اور دفعہ 144 کی خؒاف ورزی کرنے والے 200 سے زائد افراد کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

اُدھر لوئر کرم میں بگن میں دیا جانے والا دھرنا اب مندروی کے مقام پر جاری ہے۔ جرگہ منتظمین نے اعلان کیا کہ اپیکس کمیٹی اجلاس کے فیصلوں، کرم کو اسلحہ سے پاک، اور بگن متاثرین کو امداد دینے کے وعدے، پر عمل درآمد تک دھرنا جاری رہے گا۔

کرم پولیس نے گاڑیوں سے علاقے میں اعلانات کیے ہیں کہ صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک لوگوں کی آمد ورفت پر پابندی ہو گی اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسی طرح ضلع کرم میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت جلسے، جلوس کے علاوہ اسلحہ کی نمائش پر بھی پابندی ہے۔

ان اقدامات پر عمل درآمد کروانے کے لیے لوئر کرم کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ایف سی کی گاڑیاں گشت کر رہی ہیں۔ کئی علاقوں میں پولیس اور ایف سی کی نفری میں اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C