07/January/2025

کرم: پارا چنار امدادی سامان لے جانے والا قافلہ تاحال ٹل کے مقام پر موجود

👁️ 76 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم: پارا چنار امدادی سامان لے جانے والا قافلہ تاحال ٹل کے مقام پر موجود

کرم: پارا چنار امدادی سامان لے جانے والا قافلہ تاحال ٹل کے مقام پر موجود

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے لوئر کرم میں 93 روز سے مرکزی شاہراہ ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند ہے جس کے باعث پاڑہ چنار کے لیے امدادی سامان لے جانے والا قافلہ چار روز سے ٹل کے مقام پر موجود ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اجازت نامے کا منتظر ہے۔

حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے قافلے کو محفوظ راستا فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ راستے کو محفوظ بناکر قافلے کو جلد روانہ کر دیا جائے گا۔

بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ کرم کی مرکزی شاہراہ پر سکیورٹی مزید سخت کی جارہی ہے۔

کرم پولیس نے گاڑیوں سے علاقے میں اعلانات کیے ہیں کہ صبح چھ بجے سے شام چھ بجے تک لوگوں کی آمد ورفت پر پابندی ہو گی اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسی طرح ضلع کرم میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت جلسے، جلوس کے علاوہ اسلحہ کی نمائش پر بھی پابندی ہے۔

ان اقدامات پر عمل درآمد کروانے کے لیے لوئر کرم کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ایف سی کی گاڑیاں گشت کر رہی ہیں۔ کئی علاقوں میں پولیس اور ایف سی کی نفری میں اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے پابندی کے اعلانات اور نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد پاڑہ چنار میں جاری دھرنا معطل کردیا گیا ہے جبکہ بگن کے علاقے میں دھرنا اب مندروی منتقل کر دیا گیا ہے۔

’کیا اب ہم احتجاج بھی نہ کریں؟‘

بگن کے تاجر رہنما محمد شاہین کا کہنا ہے کہ حکومت نے پابندی کے اعلانات کیے اور اس بارے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے جبکہ دوسری جانب بگن میں بازار جل چکے ہیں، ہمارے گھر بھی جل چکے ہیں اور ان پر کوئی بات نہیں کرتا۔ ’تو کیا اب ہم احتجاج بھی نہ کریں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ مندوری میں جاری دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

دوسری جانب کوہاٹ امن معاہدے پر دستخط نہ کرنے والے کم از کم ایک مشر نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھیں پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔ حاجی سیف اللہ خان نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھیں گذشتہ روز دو بجے کے بعد پولیس نے اپنی تحویل میں لیا۔ اور ’مجھے کچھ بتایا نہیں جا رہا کہ مجھے پولیس کی تحویل میں کیوں رکھا گیا ہے۔‘

تاہم کرم پولیس نے حاجی سیف اللہ خان سمیت کوہاٹ امن معاہدہ پر دستخط نہ کرنے والے عمائدین کو تحویل میں لیے جانے کی نہ تصدیق کی ہے نا ہی تردید۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C