ہانی بلوچ: طلبہ کے حقوق کیلئے مصروفِ عمل کارکن کی وفات پر ساتھیوں کا خراجِ عقیدت
👁️ 103 بار دیکھا گیا
ہانی بلوچ: طلبہ کے حقوق کیلئے مصروفِ عمل کارکن کی وفات پر ساتھیوں کا خراجِ عقیدت
کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی) ’کوئٹہ میں طلباء کے احتجاج کے دوران ایک دن ہم حیران ہوئے کہ ہانی بلوچ کے ہاتھ میں کینولا لگا ہوا تھا۔ اُن کے چہرے سے بھی یہ عیاں تھا کہ ان کی طبیعت بہت زیادہ ٹھیک نہیں لیکن اس کے باوجود وہ طلباء کے احتجاج میں شرکت کے لیے آئیں۔‘
ہانی بلوچ کی تنظیمی ساتھی سازین بلوچ بی بی سی کو بتا رہی تھیں کہ کیسے طالبعلم کارکن ہانی بیمار ہونے کے باوجود طلبہ کے احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئی تھیں۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گذشتہ دو ہفتے سے زائد کے عرصے سے طلباء اور طالبات کی احتجاجی تحریک جاری ہے۔ طلباء اور طالبات یہ احتجاج پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے آن لائن ٹیسٹ کے نظام کے خلاف کر رہے ہیں۔
اتوار کو ہانی بلوچ وفات پا گئی ہیں۔
سازین بلوچ نے ہانی کی اچانک موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد ان کو اپنی صحت سے زیادہ عزیز تھی یہی وجہ ہے کہ طبیعت ناساز ہونے کے باجود وہ احتجاج میں شرکت کرتی رہیں۔
اُنھوں نے بتایا کہ اگرچہ ہانی کا اس تحریک سے کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں تھا لیکن وہ یہ سمجھتی تھیں کہ طلباء اور طالبات کے ساتھ بے انصافی ہوئی ہے اس لیے صحت کی پرواہ کیے بغیر وہ اس تحریک میں صف اول میں رہیں۔
بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل چنگیز بلوچ نے کہا کہ ہانی بلوچ اگرچہ اب دنیا میں نہیں رہیں لیکن وہ اب ہمیشہ کے لیے جدوجہد کی ایک علامت بن گئی ہیں۔
ہانی بلوچ کون تھیں؟
ہانی بلوچ کوئٹہ شہر میں سمنگلی روڈ کی رہائشی تھی۔ ایف اے کرنے کے بعد اُنھوں نے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں بی ایس ماس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ داخلہ لیا۔
وہ بلوچ قوم پرست طلباء تنظیم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مرکزی کمیٹی کی رکن تھی۔
تنظیم کے سیکریٹری جنرل چنگیز بلوچ نے بتایا کہ ہانی بلوچ ایک متحرک کارکن تھیں اور وہ نہ صرف تنظیم کے امور میں سرگرم رہتی تھیں بلکہ طلباء کو تعلیمی اور سیاسی حقوق کے لیے متحرک کرنے میں بھی پیش پیش رہتی تھیں۔
سازین بلوچ نے بتایا کہ 23 ستمبر کو جب طلباء گورنر ہاﺅس کے قریب دھرنا دینے کے لیے آئے تو سازین بلوچ وہاں موجود تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ساتھیوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ زیادہ دیر تک وہاں نہیں بیٹھ سکتیں اس لیے اُن کو مشورہ دیا گیا کہ وہ گھر جائیں۔
سازین بلوچ نے کہا کہ ساتھیوں کے مشورے اور اصرار پر وہ دھرنے کو چھوڑ کر گھر چلی گئیں۔ ’چونکہ رات کو بہت سارے ساتھی گرفتار اور بہت سارے زخمی ہوئے جس کے (باعث) اگلے دو روز تک ہمارا ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ جب گرفتار ساتھی رہا ہوئے تو ہمیں پتہ چل گیا کہ ہانی بلوچ وفات پا گئی ہیں۔
I appreciate the fairness by Aurangzeb by clarifying the reality
Mistrust, distances and grudges are developed by miss and fake news. pic.twitter.com/LSykY0DWmb
— Jam Kamal Khan (@jam_kamal) September 26, 2021
میڈیکل کالجوں کے انٹری ٹیسٹ کے خلاف پیش پیش
سازین بلوچ نے بتایا کہ ہانی ان کی نظریاتی ساتھی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہانی بلوچ 13 ستمبر سے احتجاج کے آغاز کے ساتھ ہی طلبہ کے احتجاج میں شریک رہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اُن کے چہرے سے یہ لگ رہا تھا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے لیکن ہم نے کبھی ان کو پیچھے ہٹتے ہوئے نہیں دیکھا۔
سازین نے بتایا کہ اُنھوں نے بیماری کا بہانہ نہیں بنایا بلکہ دوسروں کو حوصلہ دینے کے لیے میدان میں رہیں۔
سازین بلوچ کے مطابق جب ایدھی چوک پر پولیس نے احتجاج میں شریک طلباء پر لاٹھی چارج کیا تو ہانی بلوچ وہاں بھی موجود تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک مشکل صورتحال تھی لیکن اس کے باوجود ہانی نہ صرف وہاں کھڑی رہیں بلکہ طلباء اور طالبات کو حوصلہ بھی دیتی رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس لاٹھی چارج کے دوران ان کا ہاتھ بھی معمولی زخمی ہوا لیکن ہم نے کبھی ان کو پیچھے ہٹتے نہیں دیکھا۔
’اگرچہ ہانی بلوچ کا تعلق متاثرہ طلباء اور طالبات سے نہیں تھا لیکن ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے وہ اس بات کو اپنی ذمہ داری سمجھتی تھیں کہ وہ اس احتجاج میں شریک ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہانی بلوچ اس مارچ میں بھی شریک تھی جو طلباء نے گرمی میں بلوچستان یونیورسٹی سے ایدھی چوک تک کیا۔
’یونیورسٹی سے لے کر ایدھی چوک تک کا فاصلہ اچھا خاصا ہے مگر ہانی جلوس میں پیچھے نہیں بلکہ پیش پیش رہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ جب وہ کینولا کے ساتھ احتجاج میں شرکت کے لیے آئیں تو تمام ساتھیوں نے کہا کہ آپ کو کم از کم اس حالت میں نہیں آنا چاہیے تھا لیکن ان کا جواب یہ تھا کہ پریشانی کی بات نہیں ہے بلکہ ہمیں احتجاج کی جانب توجہ دینی چاہیے کیونکہ طلباء اور طالبات کے ساتھ بے انصافی ہوئی ہے۔
لاپتہ افراد کی بازیابی کے مظاہروں میں بھی شرکت
کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جو مظاہرے وغیرہ ہوتے رہے ہانی بلوچ ان میں بھی شرکت کرتی رہیں۔
لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ جب لاپتہ افراد کے حوالے سے کوئی مظاہرہ وغیرہ ہوتا تو ہانی بلوچ ان میں شرکت کے لیے آتی رہتی تھیں۔
طلباء اور طالبات نے بھی اتوار کے دن ہانی بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرنے کی ریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن کی طالبہ نعیمہ زہری نے بتایا کہ ہانی ان سے جونیئر تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ ڈپارٹمنٹ میں وہ زیادہ تر خاموش رہتی تھیں لیکن کبھی کبھار وہ جس نوعیت کے جوتے اور چادر پہنتی تھی اس سے وہ عملی کامریڈ لگتی تھی۔
ان کے ایک قریبی عزیز اور تنظیمی ساتھی اورنگزیب بلوچ نے بتایا کہ وہ ایک باہمت اور نظریاتی کامریڈ تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں لڑکیاں تو دور کی بات ہے، لوگ اپنے لڑکوں کو بھی سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہانی بلوچ ہر قسم کی قدغنوں کی پرواہ کیے بغیر سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کرتی رہیں۔
’ہمارا ایک قدامت پسند سماج ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ہانی کے سامنے بھی بہت ساری رکاوٹیں تھیں لیکن وہ اس سماج کی تمام قدغنوں سے بغاوت کرتے ہوئے نہ صرف طلباء بلکہ دیگر لوگوں کے حقوق کے لیے فرنٹ لائن پر موجود رہیں۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران کو حساس ٹیکنالوجی فروخت کرنے پر ایرانی نژاد امریکی گرفتار
04/June/2026 👁️ 19 بار دیکھا گیا
سعودی عرب نے کویت اور بحرین پر حملوں کو ایرانی جارحیت قرار دے دیا
04/June/2026 👁️ 59 بار دیکھا گیا
امریکی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کر لی
04/June/2026 👁️ 45 بار دیکھا گیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 10 افراد ہلاک، متعدد زخمی
04/June/2026 👁️ 45 بار دیکھا گیا
ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک
03/June/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقے میں بس پر ڈرون حملہ، 8 افراد ہلاک، 11 زخمی
03/June/2026 👁️ 54 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8783 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4465 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3192 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2366 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2051 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1861 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C