12/May/2026

یوکرین جنگ کی تباہی میں انوکھا موڑ: 22 سالہ کرینا کی سروگیسی کہانی نے سب کو چونکا دیا

👁️ 129 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یوکرین جنگ کی تباہی میں انوکھا موڑ: 22 سالہ کرینا کی سروگیسی کہانی نے سب کو چونکا دیا

یوکرین جنگ کی تباہی میں انوکھا موڑ: 22 سالہ کرینا کی سروگیسی کہانی نے سب کو چونکا دیا

کییف (ڈیلی اردو)مشرقی یوکرین کی 22 سالہ کرینا چھ ماہ کی حاملہ ہیں، تاہم ان کے پیٹ میں موجود بچہ ان کا اپنا نہیں بلکہ چین میں رہنے والے ایک جوڑے کے بیضے اور نطفے سے تیار کردہ جنین ہے۔ کرینا اس وقت ایک سروگیٹ ماں کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور جنگ، غربت اور معاشی دباؤ نے ان کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

 

کرینا کا تعلق باخموت سے ہے، جو 2022 میں روسی حملے کے ابتدائی مرحلے میں شدید لڑائی کا مرکز رہا۔ اس دوران ان کا گھر تباہ ہو گیا اور وہ اپنے ساتھی کے ساتھ کیئو منتقل ہو گئیں، تاہم مستقل روزگار نہ ملنے کے باعث مالی مشکلات بڑھتی گئیں۔

 

ایک موقع پر جب ان کے پاس صرف اتنی رقم تھی کہ وہ اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی کے لیے روٹی اور ڈائپر خرید سکیں، تو انہوں نے معاوضے کے عوض سروگیسی کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے تحت انہیں تقریباً 17 ہزار امریکی ڈالر ملیں گے، تاہم زیادہ تر ادائیگی بچے کی پیدائش کے بعد ہوگی۔

 

کرینا اس وقت کیئو کے مضافات میں ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہی ہیں جو انہیں سروگیسی کلینک کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر جنگ نہ ہوتی تو وہ کبھی یہ راستہ نہ اپناتیں، لیکن موجودہ حالات نے انہیں اس فیصلے پر مجبور کیا۔

 

یوکرین جنگ سے پہلے تجارتی بنیادوں پر سروگیسی کا ایک بڑا مرکز تھا اور امریکہ کے بعد اسے دنیا کا دوسرا بڑا ہب سمجھا جاتا تھا۔ جنگ کے باوجود یہ شعبہ دوبارہ فعال ہوا ہے، تاہم اب اس پر قانونی اور اخلاقی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

 

خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اور سماجی کارکن اس عمل کو غریب خواتین کے استحصال سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کلینکس معاشی طور پر کمزور خواتین کو نشانہ بنا کر انہیں سروگیسی پر آمادہ کرتے ہیں، جبکہ کلینکس اس عمل کو قانونی اور محفوظ ذریعہ معاش قرار دیتے ہیں۔

 

یوکرینی پارلیمان اس وقت ایک ایسے قانون پر غور کر رہی ہے جس کے تحت سروگیسی کے شعبے پر سخت نگرانی اور ممکنہ طور پر غیر ملکی جوڑوں کے لیے پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ اس مجوزہ قانون پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، کچھ اسے ضروری اصلاح قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ اسے خواتین کے معاشی حقوق کے خلاف سمجھتے ہیں۔

 

کرینا اس عمل کو استحصالی نہیں سمجھتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور وہ اپنے جسم کے ذریعے بہتر مستقبل، خاص طور پر گھر خریدنے کی امید رکھتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ بچے سے جذباتی طور پر جڑی ہوئی ہیں اور اس کی بہتر زندگی کی دعا کرتی ہیں، تاہم وہ واضح کرتی ہیں کہ وہ جانتی ہیں کہ یہ بچہ ان کا نہیں ہوگا۔

 

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C