08/November/2026

آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ، امریکہ نے بحیرۂ عمان میں ایرانی بندرگاہ سے آنے والا کارگو جہاز ناکارہ بنا دیا

👁️ 68 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ، امریکہ نے بحیرۂ عمان میں ایرانی بندرگاہ سے آنے والا کارگو جہاز ناکارہ بنا دیا

آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ، امریکہ نے بحیرۂ عمان میں ایرانی بندرگاہ سے آنے والا کارگو جہاز ناکارہ بنا دیا

خلیج عمان (ڈیلی اردو) آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس کے مشرقی حصے میں دو تیل بردار جہاز بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فوج نے ایران کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہونے والے تجارتی کارگو جہاز کو بحیرۂ عمان میں حملہ کرکے ناکارہ بنا دیا۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے مطابق دونوں آئل ٹینکرز نے اپنے نیویگیشن اور پوزیشننگ سسٹم بند کر رکھے تھے اور ایران کی جانب سے غیر مجاز قرار دیے گئے سمندری راستوں سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی فورس کا دعویٰ ہے کہ ایک جہاز آبنائے ہرمز کے اندر جبکہ دوسرا اس کے مشرقی حصے میں بارودی سرنگ سے ٹکرایا، جس کے بعد دونوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم ایرانی حکام نے جہازوں کے نام، ان کے پرچم، عملے کی صورتحال اور نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ایرانی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری ضوابط کی خلاف ورزی کرکے ممنوعہ راستوں سے گزرنے والے جہازوں کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بیان میں تجارتی جہازوں کو امریکی سینٹرل کمانڈ کی ہدایات پر انحصار نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اسی دوران صوبہ ہرمزگان کے مختلف علاقوں، جن میں قشم جزیرہ، بندر عباس، جاسک اور سیریک شامل ہیں، دھماکوں جیسی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تاہم ان آوازوں کی وجوہات اور آیا ان کا تیل بردار جہازوں کے واقعات سے کوئی تعلق تھا، اس بارے میں ایرانی حکام نے وضاحت نہیں کی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ امریکی فوجی طیارے نے بحیرۂ عمان میں سینٹ کٹس اینڈ نیوس کے پرچم بردار تجارتی جہاز ’’ایم وی ہُدا‘‘ کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔ امریکی حکام کے مطابق جہاز نے ایران کی ایک بندرگاہ پر قیام کے بعد خطے کے پانیوں سے نکلنے کی کوشش کی اور امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد انتباہات کو نظرانداز کیا۔

سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکی فوج نے حملے سے پہلے جہاز کے عملے کو نشانہ بنائے جانے والے حصوں سے دور ہونے کی ہدایت دی تھی، جس کے بعد امریکی فوجی طیارے نے جہاز کے پچھلے حصے پر درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہوگیا اور اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔ امریکی حکام نے جہاز کے عملے کی حالت اور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ جولائی سے اب تک اس کی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کے دوران 147 تجارتی جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ احکامات نہ ماننے والے پانچ تجارتی جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق ایران کی تیل کی برآمدات روکنے کے لیے جاری ناکہ بندی کے باعث تہران کو 25 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے روکا جاچکا ہے۔

برطانوی بحری تجارتی آپریشنز مرکز نے بھی بحیرۂ عمان میں ایک تجارتی جہاز اور فوجی دستوں کے درمیان پیش آنے والے واقعے کی اطلاع دی ہے۔ ادارے کے مطابق جہاز کو پہنچنے والے نقصان، عملے کی صورتحال اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں اور واقعے کی تحقیقات جاری تھیں۔

امریکی اور ایرانی کارروائیوں کے درمیان زمانی قربت کے باوجود تاحال یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ امریکی فوج کی جانب سے ایم وی ہُدا کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے واقعات کا آپس میں کوئی براہِ راست تعلق ہے۔ اسی طرح ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کی بھی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی کہ دونوں تیل بردار جہاز واقعی بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرائے تھے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان سمندری راستوں پر کنٹرول اور بحری ناکہ بندی کے معاملے پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی پابندیوں اور بحیرۂ عمان میں امریکی فوجی کارروائیوں نے عالمی تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کو مزید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں عالمی سطح پر سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا فوجی کارروائی عالمی توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C