24/October/2026

آبنائے ہرمز میں مزید دو آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ، پاسدران انقلاب کا دعویٰ

👁️ 65 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آبنائے ہرمز میں مزید دو آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ، پاسدران انقلاب کا دعویٰ

آبنائے ہرمز میں مزید دو آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ، پاسدران انقلاب کا دعویٰ

تہران (ڈیلی اردو) ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں مزید دو بڑے آئل ٹینکرز بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کے انجن رومز میں دھماکے ہوئے اور شدید آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں جہاز ناکارہ ہونے کے بعد سمندر میں رک گئے اور عملے نے انہیں چھوڑ دیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ دونوں ٹینکرز میں مجموعی طور پر 45 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل موجود تھا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے جمعہ 23 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ دونوں ٹینکرز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایسے بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے تہران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔ ایرانی بیان کے مطابق بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد انجن رومز میں دھماکوں اور شدید آتش زدگی نے جہازوں کو حرکت کے قابل نہیں چھوڑا، جس کے بعد عملے نے انہیں جنوبی ساحل کے قریب چھوڑ دیا۔ تاہم ایرانی حکام نے جہازوں کے نام، پرچم، عملے کی قومیت، ممکنہ جانی نقصان یا تیل کے رساؤ کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے 22 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اس سے ایک روز پہلے خلیج فارس کے شمالی حصے میں تیل کی غیر قانونی منتقلی میں ملوث چار جہازوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کے مغرب میں مزید تین جہازوں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ رائٹرز کی رپورٹ میں ان واقعات کے حوالے سے ایرانی حکام کے بیان کا ذکر کیا گیا، تاہم جہازوں کو پہنچنے والے نقصان اور جانی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔

سمندری امور کی ویب سائٹ جی کیپٹن نے 20 اکتوبر کو اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے آئل ٹینکرز کے ٹکرانے سے متعلق پاسدارانِ انقلاب کے بعض سابقہ دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ رپورٹ کے مطابق مشترکہ بحری معلوماتی مرکز (جے ایم آئی سی) نے 18 اکتوبر کی اپنی صورتِ حال سے متعلق رپورٹ میں 17 اکتوبر کو دو بڑے آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے ایرانی دعوے کو غیر مصدقہ قرار دیا تھا۔ یہ جائزہ 23 اکتوبر کے تازہ دعوے سے پہلے جاری ہوا تھا، اس لیے اسے موجودہ واقعے کی تردید نہیں سمجھا جا سکتا، تاہم تازہ دعوے کی آزادانہ تصدیق بھی تاحال سامنے نہیں آئی۔

رائٹرز کے مطابق اکتوبر 2026 آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تجارتی جہازوں پر حملوں کے حوالے سے ریکارڈ پر سب سے زیادہ پُرتشدد مہینہ بن چکا ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے بحری واقعات سے متعلق اعداد و شمار میں اکتوبر کے دوران 28 تصدیق شدہ اور رپورٹ شدہ حملے درج کیے گئے، جبکہ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایسے واقعات کی مجموعی تعداد 113 بتائی گئی۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے ریکارڈ میں بھی خطے میں 120 واقعات درج کیے گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں تک خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار پہنچائی جاتی ہے۔ اس راستے میں جہازوں کو نقصان پہنچنے یا آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی تیل کی فراہمی، بحری بیمے اور ترسیل کے اخراجات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔


 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C