10 سالہ دفاعی گھیراؤ: ترکیہ مکہ معاہدے کی توثیق کے لیے تیار، مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی!
👁️ 43 بار دیکھا گیا
10 سالہ دفاعی گھیراؤ: ترکیہ مکہ معاہدے کی توثیق کے لیے تیار، مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی!
انقرہ ، اسلام آباد (ڈیلی اردو) ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے تاریخی سہ فریقی "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے" کی باضابطہ توثیق کا عمل شروع کرتے ہوئے مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج کو ریاض کے ساتھ باضابطہ دفاعی وعدے کے اور قریب لے آئی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں ایک مشترکہ دفاعی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو کہ نیٹو کے چارٹر کے آرٹیکل 5 اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے حقِ دفاعِ خود اختیاری سے مماثلت رکھتا ہے۔
معاہدے کی دفعات کے مطابق فریقین ایک دوسرے کی خودمختاری، جغرافیائی سالمیت اور بین الاقوامی سرحدوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری ذرائع بروئے کار لائیں گے، جبکہ دفاعی صنعت، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، لاجسٹک سپورٹ، جدید ٹیکنالوجی کی مشترکہ پیداوار اور ہر قسم کی دہشت گردی کے انسداد کے لیے مربوط تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ معاہدے کی رو سے ابتدائی 10 برسوں کے دوران کوئی بھی ملک اس اتحاد سے یکطرفہ طور پر الگ نہیں ہو سکے گا، جبکہ توثیقی دستاویزات ریاض میں قائم سیکرٹریٹ میں جمع ہونے پر یہ غیر معینہ مدت کے لیے نافذ العمل ہو جائے گا۔
جہاں پاکستان اپنے آئینی طریقہ کار اور انتظامی اختیارات (آرٹیکل 90) کے تحت اس معاہدے کی پہلے ہی توثیق کر چکا ہے اور واضح کر چکا ہے کہ معاہدے کے تحت 'اجتماعی انسدادی اقدامات' پہلے سے فعال ہیں، وہیں ترکیہ کے آئین کے مطابق معاہدے کی توثیق اور بیرونِ ملک فوج کی تعیناتی کے لیے پارلیمان کی باضابطہ منظوری لازم ہے۔ ترک اسپیکر پارلیمنٹ اس مسودے کو خارجہ امور کی کمیٹی کے سپرد کریں گے جہاں اس پر تفصیلی اور گرما گرم بحث متوقع ہے۔ ترک ایوانِ صدر کے شعبہ ابلاغیات کے ڈائریکٹر برہان الدین دوران نے اسے تینوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کا اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدہ کوئی جارحانہ معاہدہ نہیں ہے اور انقرہ کی جانب سے دیگر ملکوں میں فوج بھیج کر حملے کرنے کا ارادہ نہیں، بلکہ ترک حکام کے مطابق ترکیہ کا ابتدائی کردار اسلحہ، عسکری سازوسامان اور انٹیلی جنس شیئرنگ تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران خطے میں ممکنہ توسیعی پیش رفت کے تحت مصری پارلیمنٹ بھی 26 اکتوبر کو سعودی عرب کی ممکنہ عسکری حمایت کے حوالے سے ووٹنگ کرے گی، جب کہ دوحہ میں پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے مابین دفاعی صنعتی تعاون کے ایک علیحدہ اہم معاہدے پر بھی پیش رفت متوقع ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
چار ملکی ’بدر‘ دفاعی معاہدہ طے پا گیا: پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بڑا عسکری اتحاد!
22/October/2026 👁️ 36 بار دیکھا گیا
10 سالہ دفاعی گھیراؤ: ترکیہ مکہ معاہدے کی توثیق کے لیے تیار، مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی!
22/October/2026 👁️ 43 بار دیکھا گیا
مکّہ معاہدہ کا متن سامنے آگیا
22/October/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
تزویراتی معاہدے، بے بس پارلیمان اور معاشی بحران کی دلدل
22/October/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
لکی مروت: سول کیمپ میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ
21/October/2026 👁️ 95 بار دیکھا گیا
حوثی حملوں کے بعد فرانسیسی صدر میکخواں کا سعودی عرب کا اچانک دورہ، تیل تنصیبات کے تحفظ پر بات چیت
21/October/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26390 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15626 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11923 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9276 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7536 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5492 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C