القاعدہ ایک سال کے اندر امریکہ کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، امریکی جنرل مارک ملے
👁️ 32 بار دیکھا گیا
القاعدہ ایک سال کے اندر امریکہ کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، امریکی جنرل مارک ملے
واشنگٹن (ڈیلی اردو/بی بی سی) اعلیٰ امریکی جنرل مارک ملے نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں موجود القاعدہ کے دہشتگرد 12 ماہ کے اندر اندر امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
'At no time was I attempting to change or influence the process, usurp authority or insert myself in the chain of command,' said General Mark Milley, the chairman of the U.S. Joint Chiefs of Staff, denying that he tried to 'usurp' former president Donald Trump's legal authority pic.twitter.com/7T2QPTFxfA
— Reuters (@Reuters) September 28, 2021
جنرل ملے کا کہنا ہے کہ اب افغانستان سے ہونے والے شدت ہسند حملوں سے امریکیوں کو بچانا مشکل ہوگا۔
انھوں نے کہا ’طالبان ایک شدت پسند تنظیم تھی اور ہیں اور انھوں نے القاعدہ سے روابط ختم نہیں کیے ہیں۔‘
جنرل ملے اور وزیر دفاع کو سخت سوالات کا سامنا
امریکی پارلیمان میں گذشتہ ماہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر اعلیٰ امریکی جنرل اور وزیر دفاع کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کابل میں طالبان کی تیزی سے پیش قدمی کے باعث وہاں حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔
سینیٹر اور کمیٹی لیڈر جیک ریڈ کا کہنا تھا کہ امریکی قانون ساز یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ کیا امریکہ کابل میں حکومت گرنے سے متعلق ’اشاروں سے بے خبر‘ رہا۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اب اس کا دھیان انسداد دہش گردی جیسے اہداف پر ہوگا۔
سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی جانب سے اس سماعت کا انعقاد کابل ایئرپورٹ پر ہنگامی انخلا کے چند ہفتوں بعد کیا جا رہا ہے جہاں غیر ملکی طاقتیں اپنے شہریوں کو گھر واپس لانے کی کوشش کرتی رہیں اور ہزاروں مایوس افغان خود کو ریسکیو کیے جانے کی اپیلیں کرتے رہے۔
انخلا کے اس آپریشن کے دوران 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ کے گیٹ پر ایک خودکش حملے میں 182 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں 169 افغان شہری جبکہ 13 امریکی فوجی شامل تھے۔
کمیٹی کی منگل کو کارروائی کا آغاز ہوا تو پہلے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور پھر اس کے بعد جنرل مارک ملے نے اپنی گواہیاں دیں۔
اس کمیٹی کے سامنے ایک اور امریکی جنرل کینیتھ مکینزی بھی پیش ہوں گے۔ یو ایس سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کے طور پر جنرل مکینزی نے افغانستان سے انخلا کے آپریشن کے بھی نگران تھے۔
9/11 کے حملوں کے فوراً بعد امریکی افواج 2001 کے اواخر میں افغانستان میں داخل ہوئیں۔ جب امریکی افواج افغانستان سے نکلیں تو اس وقت تک امریکہ نے افغان جنگ پر تقریباً 985 ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا۔ جنگ کے دوران وہاں دسیوں ہزاروں فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور سنہ 2011 میں امریکی فوجیوں کی سب سے بڑی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار افغانستان میں تعینات تھی۔
طالبان کے کابل پر قبضے اور 31 اگست کی انخلا کی ڈیڈلائن کے درمیان چند ہفتوں میں امریکہ نے افغانستان سے اپنے چار ہزار فوجی واپس بلائے۔ اس دوران امریکہ نے فضائی آپریشن کے دوران 50 ہزار سے زائد افغان پناہ گزینوں کا بھی کابل سے انخلا یقینی بنایا۔
جنرل مارک ملے کون ہیں؟
جنرل مارک ملے امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلیٰ فوجی مشیر بھی ہیں۔ وہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ہیں۔ اس کمیٹی میں امریکہ کے آٹھ سینیئر ترین فوجی افسران شامل ہوتے ہیں۔ جنرل مارک ملے فوج کی ’چین آف کمانڈ‘ کا حصہ نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ افواج کو براہ راست کوئی حکم نہیں دیتے۔ تاہم وہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے درمیان رابطہ کار ہیں۔
سنہ 2019 میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف بننے سے قبل جنرل مارک ملے فور سٹار جنرل تھے اور آرمی چیف آف سٹاف کے عہدے پر تعینات تھے۔
جنرل ملے کو ریپبلیکنز کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا ہے جو یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں عہدے سے ہٹا دیا جائے۔
جنرل مارک ملے اور جنرل مکینزی کو کابل میں 29 اگست کو کیے جانے والے ڈرون حملے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس حملے میں ایک ہی خاندان کے دس افراد مارے گئے تھے۔
اس حملے کے بعد جنرل میکینزی نے کہا تھا کہ امریکی انٹیلیجنس نے ایک کار کا پتہ چلایا جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے گروپ سے منسلک ایک خاندان کے رکن کی ہے۔
جنرل مارک ملے نے پہلے اس حملے کو ایک درست قدم قرار دیا تھا۔ جب امرکی وزارت دفاع نے اس کی تصدیق کر دی کہ مرنے والے معصوم افراد تھے تو اس کے فوراً بعد انھوں نے یہ تسلیم کرتے ہوئے اپنا بیان واپس لے لیا تھا کہ اس میں جلد بازی کی گئی تھی۔
غداری کا الزام
خیال رہے کہ حال ہی میں جنرل مارک ملے نے ایک کتاب میں یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد اپنا دفاع کیا تھا کہ انھوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں خدشات سے متعلق چین کو ‘خفیہ’ ٹیلی فون کالیں کی تھیں۔
جنرل ملے نے کہا تھا کہ گذشتہ جنوری اور اکتوبر میں کی جانے والی کالیں چینی فوج کو یقین دہانی کے لیے تھیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ یہ دعوے من گھڑت ہیں جبکہ ریپبلکنز نے جنرل کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ انہیں جنرل ملے پر ‘بھر پور اعتماد’ ہے۔
جنرل ملے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ کالیں ان کے ‘فرائض اور ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی تھیں تاکہ سٹریٹجک استحکام برقرار رکھا جا سکے۔’
ریپبلکنز سے تلعق رکھنے والے سینیٹر مارکو روبیو نے اسے ‘غداری’ قرار دیا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پاکستانی وزیراعظم امریکہ، ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ
21/June/2026 👁️ 135 بار دیکھا گیا
لبنان میں جھڑپیں جاری، ایک اور اسرائیلی فوجی ہلاک
20/June/2026 👁️ 191 بار دیکھا گیا
بنوں میں مسافر گاڑیوں کے قریب دو دھماکے، 7 افراد ہلاک، 6 زخمی
20/June/2026 👁️ 120 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 5 افراد ہلاک، 12 زخمی
20/June/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
لکی مروت: دو مختلف مقامات سے تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد
20/June/2026 👁️ 115 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، امریکہ کی تردید
20/June/2026 👁️ 197 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8845 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4593 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2465 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2114 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1914 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C