08/August/2026

امریکا کا ایرانی ’شیڈو بینکنگ‘ نیٹ ورکس کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

👁️ 115 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکا کا ایرانی ’شیڈو بینکنگ‘ نیٹ ورکس کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

امریکا کا ایرانی ’شیڈو بینکنگ‘ نیٹ ورکس کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے ایران کے مبینہ ’شیڈو بینکنگ‘ نظام سے منسلک متعدد افراد، کمپنیوں اور مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کردیا ہے۔

 

امریکی حکام کے مطابق یہ نیٹ ورکس کئی ممالک میں سرگرم تھے اور ایران کے لیے کروڑوں ڈالر کی رقوم کی منتقلی اور مالیاتی لین دین میں سہولت فراہم کر رہے تھے۔

 

امریکی محکمۂ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نئی کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی کے تحت کی گئی ہے۔ 

 

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کے مالیاتی اور تیل کے شعبوں سے منسلک ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جو امریکی پابندیوں سے بچنے میں تہران کی مدد کر رہے ہیں۔

 

ایرانی ’شیڈو بینکنگ‘ نظام نشانے پر

 

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کا مبینہ شیڈو بینکنگ نظام شدید دباؤ میں ہے اور ایرانی حکومت کے لیے رقوم کی منتقلی کے راستے مسلسل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

 

امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق ایران کا شہر بینک اور اس سے منسلک ادارے بیرون ملک ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی ایران منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

 

امریکی حکام کا الزام ہے کہ اس مالیاتی نیٹ ورک سے ایران کی نیشنل ایرانی آئل کمپنی، نفتیران انٹرٹریڈ کمپنی، ٹرائلیئنس پیٹروکیمیکل اور دیگر ایرانی اداروں کو فائدہ پہنچتا رہا ہے۔

 

واشنگٹن کے مطابق مذکورہ نیٹ ورک نے ایران کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مختلف مالیاتی راستوں کے ذریعے منتقل کرنے اور امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کی۔

دبئی، ہانگ کانگ، سنگاپور اور امارات کی کمپنیاں بھی شامل

 

امریکی محکمۂ خزانہ نے نئی پابندیوں کے تحت متعدد کمپنیوں کو نامزد کیا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں قائم ٹائٹن ایکسچینج اور ایلپس انٹرنیشنل بھی شامل ہیں۔

 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس کے لیے رقوم کی منتقلی اور مختلف مالیاتی لین دین میں سہولت فراہم کرتی رہی ہیں۔

 

پابندیوں کی فہرست میں ہانگ کانگ، سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ متعدد دیگر کمپنیوں کے علاوہ کئی ایرانی شہریوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

 

امریکی حکام کے مطابق ان اداروں اور افراد نے ایران سے متعلق مالیاتی سرگرمیوں، تیل کی آمدنی کی منتقلی اور پابندیوں سے بچنے کے لیے قائم مالیاتی ڈھانچے میں مختلف کردار ادا کیے۔

 

عراقی شہری پر بھی پابندیاں

 

امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک عراقی شہری بشیر عبدالقاظم علوان الشبانی کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

 

واشنگٹن کا الزام ہے کہ الشبانی ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرتے رہے ہیں۔

 

امریکی حکام کے مطابق ان کی سرگرمیاں ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس اور قدس فورس سے منسلک مالیاتی معاونت کے نظام سے جڑی ہوئی تھیں۔

 

پابندیوں کے اثرات

 

امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق پابندیوں کے نتیجے میں نامزد افراد اور اداروں کی ملکیت میں موجود یا امریکی دائرہ اختیار میں آنے والے تمام اثاثے منجمد تصور کیے جائیں گے۔

 

اس کے علاوہ امریکی شہریوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد اور اداروں کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ مالی لین دین کرنے سے روک دیا جائے گا، جب تک کہ امریکی حکومت کی جانب سے اس کی اجازت نہ دی جائے۔

 

واشنگٹن نے غیر ملکی مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ نامزد ایرانی نیٹ ورکس کے ساتھ اہم لین دین یا کاروباری تعلقات برقرار رکھنے کی صورت میں وہ بھی امریکی ثانوی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔

 

ایران پر دباؤ بڑھانے کی امریکی حکمت عملی

 

امریکی حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایران کے مالیاتی اور توانائی کے شعبوں پر دباؤ بڑھانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔

 

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی اور متبادل مالیاتی نظاموں کو اپنی حکومت، اقتصادی سرگرمیوں اور خطے میں موجود اتحادی نیٹ ورکس کی معاونت کے لیے استعمال کرتا ہے۔

 

امریکی محکمۂ خزانہ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایران کے لیے پابندیوں سے بچنے کے راستے بند کرنا اور اس کی تیل کی آمدنی کو عالمی مالیاتی نظام تک پہنچانے والے نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے۔

 

تہران کی جانب سے فوری طور پر امریکی پابندیوں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C