08/August/2026

ایران مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح، صدر پزشکیان

👁️ 93 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح، صدر پزشکیان

ایران مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح، صدر پزشکیان

تہران (ڈیلی اردو) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم ملک اپنے حقوق کے حصول کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔

 

مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر نے یہ بات اپنی حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر بات چیت کے ذریعے ایران اپنے حقوق حاصل کرسکتا ہے تو جنگ کی ضرورت کیوں پیش آئے گی۔

 

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران مذاکرات کے ذریعے اپنے مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری رکھے گا، تاہم تہران اپنے اصولی مؤقف سے دستبردار نہیں ہوگا۔

 

ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور اسے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جاسکے۔

 

انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے خواہاں نہیں، تاہم اگر مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں تو تہران سفارتی راستے کو ترجیح دے گا۔

 

مذاکرات سے حاصل ہونے والی پیش رفت کا دعویٰ

 

صدر پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے ذریعے ایران بعض معاملات میں پیش رفت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

 

ان کے مطابق سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران لبنان میں جنگ روکنے، ناکہ بندی ختم کروانے اور بعض پابندیوں میں نرمی کروانے میں کامیاب ہوا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ان پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نتائج حاصل کرسکتا ہے۔

تاہم ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کا مطلب ایران کے بنیادی مؤقف سے دستبرداری نہیں ہے۔

 

ایرانی مذاکراتی ٹیم میں قالیباف کی شمولیت

 

مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب کے دوران ایران کی مذاکراتی ٹیم کی تشکیل سے متعلق بھی بات کی۔

 

انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ایرانی مذاکراتی ٹیم میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تھی، جسے انہوں نے قبول کرلیا۔

 

ایرانی صدر کے مطابق عدلیہ، پارلیمنٹ، مسلح افواج اور دیگر ریاستی اداروں کے نمائندے بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستی اداروں کے نمائندوں کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ایران میں اس معاملے پر ریاستی ادارے ایک مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں اور ”ہم سب اس معاملے میں ایک ساتھ ہیں۔“

 

جنگ اور سفارت کاری کے درمیان توازن

 

صدر پزشکیان کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تہران کی آئندہ حکمت عملی پر توجہ مرکوز ہے۔

 

ایرانی صدر نے ایک جانب مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی حمایت کی، جبکہ دوسری جانب واضح کیا کہ تہران اپنے بنیادی مطالبات اور مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

 

ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت جنگ سے گریز اور سفارتی ذرائع کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کو ترجیح دے رہی ہے، تاہم وہ مذاکرات کو اپنے قومی مفادات اور حقوق کے تحفظ سے مشروط سمجھتی ہے۔

 

پزشکیان نے اپنے خطاب میں ایران کے مختلف ریاستی اداروں کے درمیان مذاکرات کے معاملے پر ہم آہنگی کا بھی تاثر دیا اور کہا کہ مذاکراتی ٹیم میں مختلف اداروں کے نمائندوں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی اہم ریاستی مشینری اس عمل میں شریک ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C