ایرانی عوام حزب اللہ، حماس اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کی مدد کرنے پر سخت غصہ
👁️ 118 بار دیکھا گیا
ایرانی عوام حزب اللہ، حماس اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کی مدد کرنے پر سخت غصہ
تہران (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) ایرانی باشندے اپنی حکومت سے ناراض ہیں اور ان کے غصے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تہران حکومت ملک کے اندر پائے جانے والے معاشی مسائل کو حل کرنے کی بجائے بیرون ملک حزب اللہ اور حماس جیسے عسکریت پسند گروپوں کی مدد میں ملوث ہے۔
ایران میں عوام کے اندر اپنی ہی حکومت کے خلاف غصہ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ انہیں یہ خدشہ ہے کہ حکومت اندرون ملک پائے جانے والیے شدید معاشی بحران کے حل پر بیرون ملک تنازعات میں ملوث ہونے کو ترجیح دے رہی ہے۔
رواں ہفتے کے اوائل میں ایرانی اہداف پر اسرائیل کے فوجی حملوں کے تناظر میں، ایران میں بہت سے لوگ اپنی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہی کی کوشش کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔
ایرانی حکام طے کریں اسرائیل کو کیسے جواب دیا جائے، خامنہ ای
اسرائیل نے اس ماہ کے شروع میں اسلامی جمہوریہ کی طرف سے اسرائیل پر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کے حملے کے رد عمل میں فضائی حملوں کے ذریعے ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایران پہلے ہی قومی کرنسی کی قدر گرنے اور مہنگائی میں اضافے کے ساتھ معاشی بحران کا شکار ہے۔ بہت سے ایرانی باشندے حکومت کی ترجیحات پر تیزی سے سوال اٹھا رہے ہیں۔ وہ اسے ایک ایسی حکومت سمجھ رہے ہیں جو گھریلو ضروریات کو حل کرنے کی بجائے غیر ملکی تنازعات پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی نظر آرہی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر فوجی محاذ پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو ایران کے سرکاری بیانیے اور عوامی جذبات کے درمیان رابطہ منقطع ہونے کے سبب ایران کے داخلی استحکام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آزادی صحافت کی زبوں حالی
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق ایران ”آزادی صحافت کے حوالے سے دنیا کے سب سے زیادہ جابرانہ ممالک میں سے ایک ہے۔‘‘ اسرائیلی حملوں کے براہ راست بعد میں سخت سنسر شپ نظر آئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ابتدا میں حملوں پر خاموشی اختیار جو کہ ملک کے اندر متحرک سوشل میڈیا سرگرمی کے بالکل برعکس تھا، جہاں ایرانی عوام نے ٹیلی گرام اور X جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آسمان میں چمکتی روشنیوں اور بلند آوازوں کی ویڈیوز شیئر کرنے کے لیے آن لائن پابندیوں کے سبب VPNs کا استعمال کیا۔
ساتھ ہی، ایران کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی اپریٹس سے منسلک اکاؤنٹس نے سوشل میڈیا پر خبردار کیا کہ غیر ملکی میڈیا کے ساتھ تصاویر شیئر کرنے کو جاسوسی قرار دیا جا سکتا ہے۔
آخر کار، کچھ سرکاری ایرانی خبر رساں ذرائع نے اعتراف کیا کہ ایران پر حملہ ہوا ہے لیکن دعویٰ کیا کہ ایرانی دفاع نے کامیابی کے ساتھ حملوں کو روک لیا ہے۔
ریاست سے منسلک میڈیا اور سوشل چینلز نے حملے کی شدت کو کم کرکے اطلاعات جاری کیں۔ مثال کے طور پر ایران کے پاسداران انقلاب سے وابستہ ٹیلیگرام چینلز نے ہفتہ کی صبح تہران کے مرکز میں پرہجوم چوکوں کی تصاویر شیئر کیں اور یہ تاثر دیا کہ کچھ اہم واقعات رونما نہیں ہوئے ہیں۔
حکومت سے وابستہ متعدد صحافیوں نے ہفتے کے روز دارالحکومت تہران کے مصروف عوامی علاقوں سے بھی نشریات پیش کیں، اور اس بات پر زور دیا کہ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ تہران میں مقیم ایک صحافی، جو حفاظتی وجوہات کی بناء پر نام نہیں لے رہا، نے ہفتے کے روز ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”کچھ بھی تحریر نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے ایک پیغام میں لکھا،”میڈیا میں سرکاری موقف کے علاوہ کچھ لکھنے کی ہمت نہیں ہے۔ صحافیوں کو ان کے ذاتی سوشل میڈیا پیجز پر پوسٹ کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔‘‘
بیرون دنیا سے معلومات کا حصول
سابق ایرانی صدر حسن روحانی کے دور حکومت میں وزارت ثقافت کے تعلقات عامہ اور اطلاعاتی مرکز کے سابق مشیر اور سربراہ بابک دوربیکی نے اسرائیل کے حملے کے بعد آزاد میڈیا پر عائد ہونے والی پابندیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”بحرانوں کے دوران سرکاری میڈیا جس انداز سے خبروں کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے وہ کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے اور اس میں الجھن اور ہم آہنگی کا فقدان بھی واضح نظر آتا ہے۔‘‘
ایران کے عوام عام طور پر غیر مستحکم صورتحال میں ملک سے باہر فارسی زبان کے میڈیا کے ذریعے اور X پر سرگرم ایرانی صحافیوں سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے حکومت کے خلاف غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ انہیں پناہ لینے کے لیے حملوں کی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔ انہوں نے پناہ گاہوں کی کمی کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا کیونکہ ملک ممکنہ طور پر جنگ کے قریب پہنچ گیا ہے۔
ایرانی باشندوں نے اسلامی جمہوریہ کی قیادت سے اپنی مایوسی کا بھی اظہار کیا۔ کچھ لوگوں نے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تنازعے کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اسلامی انقلابی گارڈ کور کا ان کے بقول ”لاپرواہ تعاقب‘‘ قرار دیا۔ ایران کی ریاستی مسلح افواج پر انقلابی حکومت کے دفاع کا الزام بھی لگایا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل سابق شامی جنرل طارتوس سے گرفتار
07/September/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے اہم فوجی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا، حوثیوں ساتھ صومالی جنگجوؤں کی موجودگی کا انکشاف
07/September/2026 👁️ 84 بار دیکھا گیا
سنٹرل کرم میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ، دو شہری ہلاک
07/September/2026 👁️ 77 بار دیکھا گیا
وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایرانی شہری سمیت متعدد دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
مستونگ میں تھانے پر دستی بم سے حملہ، پولیس اہلکار زخمی
07/September/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : کارگو ٹرانسپورٹ پر 6 روزہ پابندی، دفعہ 144 نافذ
07/September/2026 👁️ 77 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26277 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11810 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9107 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7397 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5096 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C