23/October/2026

ایران ایٹم بم بنا کر اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتا ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ؛ ایرانی حکومت کے خاتمے پر زور

👁️ 66 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران ایٹم بم بنا کر اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتا ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ؛ ایرانی حکومت کے خاتمے پر زور

ایران ایٹم بم بنا کر اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتا ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ؛ ایرانی حکومت کے خاتمے پر زور

تل ابیب (ڈیلی اردو) اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرکے اسرائیل کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے ایرانی حکومت کو اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کو مسائل کے حل سے جوڑا اور کہا کہ اسرائیل ایران سے لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے اقدامات کرے گا۔

نیتن یاہو کے بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ ٹرمپ نے اکتوبر کے آغاز میں اسرائیل کو ایران پر حملے سے روک دیا تھا۔ تاہم، ایران پر ممکنہ نئی فوجی کارروائی اور واشنگٹن و تل ابیب کے درمیان اس معاملے پر اختلافات سے متعلق رپورٹس سامنے آچکی ہیں۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے 10 اور 11 اکتوبر کے دوران ایران پر حملوں کی تیاری کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ اہداف میں جوہری تنصیبات، ایرانی حکومت سے وابستہ مقامات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شامل کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے جنگ دوبارہ شروع کرنے کی مخالفت کی، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مجوزہ کارروائی کی صورت میں امریکا خود بھی حملوں میں شریک ہوتا یا اسرائیل تنہا کارروائی کرتا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے 8 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ امریکا 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملے نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کے ساتھ ایران کے ساتھ جاری بات چیت کو بھی اہم قرار دیا تھا۔ اس کے برعکس اسرائیلی فوجی تیاریوں سے متعلق رپورٹوں نے خطے میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہونے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر اسرائیلی مؤقف کے حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس نے جون 2026 میں اپنی حقائق پر مبنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے اور انہیں اسرائیل کے خلاف استعمال کرنے سے متعلق نیتن یاہو کے دعووں کی تائید میں عوامی سطح پر قابلِ تصدیق شواہد موجود نہیں تھے۔ ایران مسلسل اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیتا رہا ہے، اگرچہ یورینیم کی اعلیٰ سطح تک افزودگی کے معاملے پر عالمی سطح پر خدشات برقرار رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں ایران کے جوہری پروگرام، ممکنہ فوجی کارروائیوں اور امریکا و اسرائیل کے درمیان پالیسی اختلافات کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C