05/November/2026

ایران نواز حوثی باغیوں کا ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

👁️ 61 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران نواز حوثی باغیوں کا ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ایران نواز حوثی باغیوں کا ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ریاض (ڈیلی اردو) یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے اور اسے براہِ راست ہدف پر لگنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق میزائل حملے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کو بھاری نقصان پہنچا، تاہم سعودی حکام نے اس دعوے یا کسی بڑے نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

حوثی فوجی ترجمان نے 4 نومبر کو جاری بیان میں کہا کہ ان کی فورسز نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل داغا، جو ان کے بقول براہِ راست ہدف پر لگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔

یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں بین الاقوامی فضائی کمپنیوں، ایئرپورٹ کے عملے اور مسافروں کو سعودی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کے استعمال سے گریز کرنے کی تنبیہ بھی کی۔ ان کے مطابق سعودی فضائی حدود محفوظ نہیں، تاہم انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی فضائی حدود کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیا۔

سعودی عرب کی جانب سے خطرے کی وارننگ

میزائل حملے کے دعوے سے قبل سعودی سول ڈیفنس نے ریاض کے علاقے میں ممکنہ خطرے سے متعلق مختصر ہنگامی انتباہ جاری کیا تھا، جسے کچھ دیر بعد منسوخ کردیا گیا۔ تاہم اس انتباہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میزائل ایئرپورٹ پر گرا یا حوثیوں کا دعویٰ درست ہے۔

سعودی حکام کی جانب سے تازہ دعوے کے بعد ایئرپورٹ کو پہنچنے والے نقصان، ممکنہ جانی نقصان یا فضائی دفاعی نظام کی کارروائی سے متعلق کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق اس حملے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔

ریاض ایئرپورٹ پہلے بھی حملوں کی زد میں رہا

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اکتوبر 2026 کے دوران ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعدد حملوں اور میزائل خطرات کے باعث فضائی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں۔ سعودی حکام کے مطابق اس عرصے میں ایئرپورٹ کے ایک مسافر ٹرمینل کو نامعلوم فضائی ہتھیار سے نقصان پہنچا تھا، جبکہ ایک اور میزائل کو ایئرپورٹ کے قریب روکنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔

اکتوبر میں ہونے والے حملوں کے بعد سعودی سول ایوی ایشن حکام نے حفاظتی معائنے کے لیے ایئرپورٹ کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل اور بعد ازاں بحالی کا عمل شروع کیا تھا۔ 12 اکتوبر کو جاری ہونے والی اطلاعات کے مطابق بندش میں توسیع بھی کی گئی تھی۔ تاہم 4 نومبر کے نئے دعوے کے بعد ایئرپورٹ کی مکمل بندش یا تمام پروازیں منسوخ ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

یمن کے شہر تعز میں ریڈ کراس کی طبی امداد پہنچ گئی

دریں اثنا یمن میں جاری لڑائی کے باعث انسانی بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے 4 نومبر کو اعلان کیا کہ اس نے کئی ہفتوں کی مشکلات کے بعد یمن کے شہر تعز میں چار ٹرکوں کے ذریعے ضروری طبی سامان پہنچایا ہے، جس میں جنگ کے دوران زخمی ہونے والے مریضوں کے علاج کے لیے جراحی کٹس بھی شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق تعز کے اسپتالوں میں طبی سامان کی شدید قلت ہے اور حالیہ لڑائی کے باعث شہر تک امدادی رسائی اور شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔ ریڈ کراس کے مطابق تعز کے اسپتالوں کو طبی امداد کی اس نوعیت کی فراہمی 23 ستمبر کے بعد پہلی مرتبہ ممکن ہوئی ہے۔

شہر کے گرد لڑائی اور اہم راستوں کی بندش کے باعث خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ریڈ کراس نے متحارب فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ امدادی کارکنوں اور طبی سامان کی محفوظ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے۔

یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور ایران نواز حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرچکی ہے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے یمنی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے، جبکہ حوثی باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں نے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C