21/December/2019

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان سے کالعدم تنظیموں کے کارکنوں اور رہنماؤں کو سزا دلوانے کا مطالبہ

👁️ 60 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایف اے ٹی ایف کا پاکستان سے کالعدم تنظیموں کے کارکنوں اور رہنماؤں کو سزا دلوانے کا مطالبہ

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان سے کالعدم تنظیموں کے کارکنوں اور رہنماؤں کو سزا دلوانے کا مطالبہ

اسلام آباد (ڈیلی اردو) منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی سرمایہ کاری کی روک تھام کے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان سے مدارس کے متعلق کئے گئے قانونی اقدامات کی تفصیلات مانگی ہیں۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 150 سوالات پر مشتمل سوال نامہ موصول ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی رپورٹ پر ایف اے ٹی ایف نے 150 سوالات بھی بھجوائے ہیں، یہ سوالات ای میل کے ذریعے پاکستانی حکام کو بھیجے گئے ہیں۔ ان سوالات میں پاکستان میں مدرسوں سے متعلق زیادہ وضاحتیں طلب کی گئی ہیں جب کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق پیش رفت اور دہشت گردوں پر قائم مقدمات سمیت تمام 150 سوالوں کے جواب 8 جنوری تک مانگے گئے ہیں۔

کالعدم تنظیموں کے خلاف درج مقدمات کی نقول بھی مانگی گئی ہیں۔

پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں سے منسلک افراد، کارکنوں اور رہنماؤں کو سزا دلوائی جائے۔ سوال نامہ پاکستان کی 3 دسمبر کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے جواب میں بھیجا گیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو سوال نامہ 20 دسمبر کو ارسال کیا ہے اور جس کا جواب 8 جنوری تک جمع کرانا ہوگا۔ ایشیا پیسفک گروپ سڈنی میں پاکستان کی جانب سے 3 دسمبر کو بھیجی گئی رپورٹ کا جائزہ لے رہا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)حکام کے درمیان مذاکرات کا آئندہ دور 21تا25 جنوری تک چین میں ہوں گے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کی سولہ رکنی ٹیکنیکل کمیٹی وفاقی وزیر اکانومک افیئرز حماد اظہر کی قیادت میں بیجنگ میں ایف اے ٹی ایف حکام سے مذکرات کرے گی۔

یاد رہے فرانس کے دارلحکومت پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی بجائے فی الحال گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ایف اے ٹی ایف کے صدر نے مختصر پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔ صدر نے کہا پاکستان میں نئی حکومت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے اچھے اقدامات کیے ہیں۔

پاکستان کی کارکردگی دوبارہ جانچنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کا اگلا اجلاس فروری 2020 میں پیرس میں ہوگا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس خدشے کا ظاہر کیا تھا کہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ کی جانب دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  پاکستان نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق بنکاک میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور ایشیا پیسفک گروپ کو اقدامات سے متعلق آگاہ کیا۔

پاکستان ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے گزشتہ سال جون کے مہینے میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے رقوم کی فراہمی کو روکنے کے لیے مناسب کوششوں میں ناکام رہے ہوں۔

ایف اے ٹی ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جسے 1989 میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے منسلک مالی معاونت کی روک تھام اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کو اس سلسلے میں درپیش خطرات سے بچانے لیے قائم کیا گیا تھا۔پاکستان اس سے قبل 2012 سے 2015 تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں رہ چکا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایف اے ٹی ایف کا پاکستان سے مطالبہ کے وہ منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی امداد کرنے والے لوگوں اور اداروں کے خلاف موثر اقدامات اٹھائے۔ پاکستان ایسے اقدامات بھی اٹھاتے ہوئے نظر آئے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خطرات کی سنگینی کا ادارک کرتے ہوئے ان پر کڑی نظر رکھ رہا ہے۔

اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کا پاکستان سے یہ بھی مطالبہ ہیکہ غیرقانوی طور پر دولت اور اثاثے منتقل کرنے والے ذرائع کی شناخت کی جائے اور ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور مختلف ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھائیں.

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C