15/September/2026

بلوچستان سے کردستان تک مسلح مزاحمت، ایرانی پاسداران انقلاب پر دباؤ بڑھنے لگا

👁️ 70 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان سے کردستان تک مسلح مزاحمت، ایرانی پاسداران انقلاب پر دباؤ بڑھنے لگا

بلوچستان سے کردستان تک مسلح مزاحمت، ایرانی پاسداران انقلاب پر دباؤ بڑھنے لگا

تہران(ڈیلی اردو)ایران کے جنوب مشرقی اور مغربی علاقوں میں مسلح سرگرمیوں نے پاسداران انقلاب کے لیے سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کردیا ہے۔ سیستان و بلوچستان اور کرد اکثریتی علاقوں میں مختلف نوعیت کے مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث ایرانی سیکیورٹی اداروں کو ایک ہی وقت میں متعدد محاذوں پر افرادی قوت اور وسائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

ایرانی حکومت کی مخالف شخصیات سے وابستہ ذرائع کے مطابق سراوان میں حالیہ جھڑپوں کے بعد پاسداران انقلاب کی بری فوج نے جنوبی سیستان و بلوچستان میں مزید نفری اور سیکیورٹی وسائل منتقل کیے ہیں۔ سراوان، راسک اور سرباز کے علاقوں میں قدس فورس کے اہلکاروں، انٹیلی جنس ٹیموں اور نگرانی کے آلات کی تعیناتی بڑھانے کے ساتھ پاکستان کی سرحد کی جانب جانے والے راستوں پر بھی نگرانی سخت کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سراوان میں تین سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد حساس تنصیبات کے تحفظ سے متعلق منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لیا گیا، جبکہ راسک میں بسیج کے ایک مقامی کمانڈر عبدالرؤف اسحاقی کی 8 ستمبر کو ہلاکت کے بعد علاقے میں سیکیورٹی الرٹ مزید بڑھا دیا گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق 12 ستمبر کو سراوان میں ہونے والی کارروائی میں پاسداران انقلاب، وزارت انٹیلی جنس اور پولیس نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ ایرانی سرکاری مؤقف کے مطابق اس کارروائی میں تین سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ چار مسلح افراد بھی مارے گئے۔

اس سے قبل اگست کے آخر میں ایرانی حکام نے ایک کارروائی کے دوران ایک شخص کی ہلاکت اور چھ افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا، جنہیں مبینہ طور پر ’’جیش العدل‘‘ سے وابستہ قرار دیا گیا۔ زاہدان کے قریب پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کے متاثر ہونے کی اطلاعات اور راسک میں ایک مقامی کمانڈر کی ہلاکت نے بھی خطے میں سیکیورٹی دباؤ کو نمایاں کیا ہے۔

سیکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق جنوب مشرقی ایران میں صورتحال اب محض مقامی فورسز کے ذریعے قابو رکھنے تک محدود نہیں رہی، کیونکہ مختلف کارروائیوں میں انٹیلی جنس، جنگی یونٹس، نگرانی کے نظام اور دیگر وسائل بیک وقت استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مسلح گروہوں کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں اور مقامی کمانڈروں کو محدود مگر ہدفی کارروائیوں میں نشانہ بنانا بھی ایرانی اداروں پر مسلسل دباؤ برقرار رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے مغربی علاقوں میں کرد مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بھی تہران کے لیے ایک الگ چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ ’’حزب حیات آزاد کردستان‘‘ یعنی پی جے اے کے بارے میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ وہ ایرانی ریاستی اداروں کے خلاف اپنی مسلح اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی حکام نے کرد علاقوں میں مہاباد، بوکان، مریوان، پیرانشہر اور اشنویہ سمیت مختلف مقامات پر گرفتاریوں کا سلسلہ بھی تیز کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی فورسز کی جانب سے عراق کے کردستان ریجن میں موجود بعض ایرانی کرد جماعتوں کے ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے گئے ہیں۔

ایرانی امور کے تجزیہ کار امیر اعتمادی کے مطابق بلوچستان اور کردستان میں سرگرم گروہوں کی جغرافیائی اور تنظیمی صلاحیتیں مختلف ہیں، تاہم دونوں محاذ ایرانی حکومت کے لیے سیکیورٹی وسائل کی تقسیم کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک جانب ایران کو سرحدی اور شورش زدہ علاقوں میں فورسز برقرار رکھنا پڑ رہی ہیں جبکہ دوسری جانب اہم فوجی، جوہری اور حکومتی تنصیبات کے تحفظ کے لیے بھی بڑی تعداد میں اہلکار درکار ہیں۔

حالیہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران پہلے ہی بیرونی فوجی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ تنازعات سے متعلق ڈیٹا کے ایک منصوبے کے مطابق ستمبر کے پہلے ہفتے کے دوران ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے متعدد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جس سے ایرانی سیکیورٹی اداروں پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی اندرونی سیکیورٹی سرگرمیاں پاسداران انقلاب کے لیے صرف افرادی قوت کا نہیں بلکہ خصوصی تربیت یافتہ انٹیلی جنس اور انسدادِ مسلح گروہوں کی صلاحیتوں کا بھی مسئلہ پیدا کرسکتی ہیں۔ مختلف محاذوں پر بیک وقت موجودگی کے باعث ایرانی فورسز کے لیے اپنی طاقت کو کسی ایک اہم مقام پر مرکوز رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C