بھارت: ہندو نشانیاں سامنے آنے کے بعد مسلمانوں کو مسجد میں محدود اجتماع کا حکم
👁️ 54 بار دیکھا گیا
بھارت: ہندو نشانیاں سامنے آنے کے بعد مسلمانوں کو مسجد میں محدود اجتماع کا حکم
نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست اترپردیش کی ایک عدالت نے شمالی بھارت کی مشہور ترین مسجد میں سروے ٹیم کی جانب سے ہندو دیوتا شیو اور دیگر ہندو نشانیاں سامنے لانے کے بعد مسلمانوں کو مسجد میں محدود اجتماع کرنے کا حکم دے دیا۔
غیر ملکی خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق وکیل ایچ ایس جین کا کہنا تھا کہ ہندوؤں کے مقدس شہر اور تاریخی گیانواپی مسجد کا مقام واراناسی (بنارس) کی عدالت نے فیصلہ سنایا کہ مسلمانوں کو مسجد میں تعداد 20 افراد تک محدود کرنی چاہیے۔
عدالت نے حکم دیا کہ جین مت کی نمائندگی کرنے والی 5 خواتین کی جانب سے مسجد میں کیے گئے سروے کے بعد مسجد کے ایک حصے میں ہندوؤں کو عبادت کی اجازت دی جائے۔
گیانواپی مسجد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حلقے میں واقعے ہے جو شمالی ریاست اترپردیش میں واقع کئی مساجد میں سے ایک ہے، جن کے بارے میں سخت گیر ہندووں کا ماننا ہے کہ ہندو کے مندر گرا کر مسجد تعمیر کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق سخت گیر ہندووں کا دیگر مذہبی مقامات کے بارے میں ایسا ہی عمومی خیال ہے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم سے امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملے گی کیونکہ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے منسلک گروپس کی جانب سے چند مساجد کے اندر کھدائی اور تاج محل کے اندر تلاشی کی اجازت کا مطالبہ کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب بھارت میں بسنے والے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے رہماؤں کا خیال ہے کہ یہ اقدامات بی جے پی کے منصوبوں کے ساتھ آزادی سے عبادت کرنے اور مذہبی آزادی کے حق کو سلب کرنے کی کوشش ہے۔
اترپردیش کے وزیراعلیٰ اور بی جے پی کے رہنما کیشیو پراساد موریا نے مقامی خبرایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ حکومت نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور ہم اس پر عمل کریں گے۔
یاد رہے کہ 2019 میں بھارت کے سپریم کورٹ نے 16 ویں صدی میں تعمیر ہونے والے مشہور بابری مسجد کی جگہ پر ہندووں کو مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اس بات کے قابل اعتماد شواہد موجود ہیں کہ بابری مسجد کسی خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی تھی۔
فیصلے کے بعد مسلم تنظیموں اور افراد کی جانب سے بھارتی عدالت عظمٰی میں نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی تھیں جس کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔
بابری مسجد کو 1992 میں ہندو مظاہرین نے شہید کردیا تھا، جن کا دعویٰ تھا کہ مسجد کو ہندو لارڈ رام کی جائے پیدائش پر تعمیر کی گئی ہے۔
اس واقعے کے بعد بھارت بھر میں مذہبی فسادات ہوئے تھے اور 2 ہزار افراد جان سے گئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
مودی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 1992 میں ایک مہم شروع کی تھی جس کا مقصد رام مندر کی تعمیر تھا جو بابری مسجد کی شہادت سے قبل شروع کی گئی تھی۔
بعد ازاں جب نریندر مودی 2002 میں بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو ایودھیہ سے آنے والی ریل میں آگ لگنے کے باعث 59 ہندو ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد کو بے دردی سے مارا گیا تھا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پاکستانی وزیراعظم امریکہ، ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ
21/June/2026 👁️ 137 بار دیکھا گیا
لبنان میں جھڑپیں جاری، ایک اور اسرائیلی فوجی ہلاک
20/June/2026 👁️ 193 بار دیکھا گیا
بنوں میں مسافر گاڑیوں کے قریب دو دھماکے، 7 افراد ہلاک، 6 زخمی
20/June/2026 👁️ 122 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 5 افراد ہلاک، 12 زخمی
20/June/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
لکی مروت: دو مختلف مقامات سے تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد
20/June/2026 👁️ 119 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، امریکہ کی تردید
20/June/2026 👁️ 198 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8845 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4593 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2466 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2114 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1914 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C