22/October/2026

تزویراتی معاہدے، بے بس پارلیمان اور معاشی بحران کی دلدل

👁️ 56 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
تزویراتی معاہدے، بے بس پارلیمان اور معاشی بحران کی دلدل

تزویراتی معاہدے، بے بس پارلیمان اور معاشی بحران کی دلدل

تحریر : محمد عامر حسینی 

 

گزشتہ روز ترکیہ کی پارلیمنٹ میں سہ فریقی دفاعی معاہدہ جسے "معاہدہ مکّہ " کا نام دیا گیا کا مسودہ پارلیمنٹ کی منظوری کے لیے پیش کیا گیا ۔ مصر جہاں باوردی صدر برسراقتدار ہیں کی پارلیمنٹ میں بھی اس معاہدے کی منظوری لینے کے لیے رائے شماری کی جا رہی ہے۔ 

عالمی زرایع ابلاغ نے درج بالا دو خبروں کو نمایاں جگہ دی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی روزنامہ ڈان کی اشاعت 21 اکتوبر 2026ء کے صفحہ اول پر ترکیہ پارلیمنٹ میں پیش ہونے والے معاہدے کے متن کو شایع کیا گیا ہے۔ 

پاکستان کی موجودہ حکومت جس کے بارے میں یہ تاثر مضبوط ہے کہ اسے پاکستان کی عسکری اسٹبلشمنٹ کنٹرول کر رہی ہے اور تمام اہم ترین فیصلوں میں حقیقی فیصلوں کا مرکز جنرل ہیڈکوارٹر – جی ایچ کیو ہے ناکہ حکومت ، کابینہ اور پارلیمنٹ ۔ ترکی اور مصر کی پارلیمنٹ میں "مکّہ معاہدے " کے مسودے کو پیش کیا جانا اور اس معاہدے کی منظوری لیے جانے کے عمل نے پاکستان کے بارے میں یہ تاثر مزید مضبوط کردیا ہے کہ پاکستان میں عسکری ہئیت مقتدرہ اپنے آپ کو اسقدر طاقتور اور با اختیار سمجھ رہی ہے کہ وہ "مکّہ معاہدے " جیسے اہم ترین معاہدے کی نہ تو پارلیمنٹ سے منظوری لینے کی ضرورت سمجھتی ہے اور نہ ہی اس نے اتنے اہم معاملے پر ملک میں اتفاق رائے حاصل کرنے کی ضرورت سمجھی ہے۔ 

اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی زرایع ابلاغ میں اسی سے متعلق ایک اور خبر بھی ہے جس میں بتایا گیا کہ پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا نے دفاعی پیداوار اور عسکری صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے بدھ کے روز ایک کثیرالجہتی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق چاروں برادر ممالک کے مابین طے پانے والی اس باہمی مفاہمتی یادداشت کو ’بدر میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

پاکستان کی پارلیمنٹ نے 2015ء میں مشترکہ اجلاس میں ایک قرارداد پاس کی تھی جس کی رو سے پاکستان "یمن ۔ سعودی جنگ " میں غیرجانبدار رہے گا اور اس تنازعے میں کسی فریق کے ساتھ مل کر شریک جنگ نہیں ہوگا ۔ لیکن حال ہی میں مسلح افواج کے ترجمان ادارے اور دفتر وزرات خارجہ پاکستان کے ترجمان کے مطابق پاکستان حوثی قبائل کے خلاف سعودی عرب کی جنگی کاروائیوں میں تعاون کر رہا ہے ۔ یہ اعلان پارلیمنٹ کی 2015ء کی قرارداد اور پاکستان کی اس مسئلے پر سرکاری پوزیشن کے بالکل متضاد ہے۔ اس معاملے پر موجودہ حکومت نے نہ تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی پارلیمانی حزب اختلاف کی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا۔ 

پاکستان میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں جن کی سربراہی پاکستان مسلم لیگ نواز کر رہی ہے اور اس اتحادی حکومت میں شرکت نہ کرکے اسے حمایت دینے والی پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سہ فریقی دفاعی معاہدے کی کھلی حمایت کر رہی ہیں ۔ ان جماعتوں نے سرکاری طور پر اس معاہدے کے متن کو صیغہ راز میں رکھنے ، اس کی منظوری پارلیمنٹ سے نہ لینے کے مسئلے کو نہیں اٹھایا ۔ دوسری طرف اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان ، اس اتحاد سے باہر اپوزیشن سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام – جے یو آئی ایف  کی طرف سے بھی اس معاہدے کے متن کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کیے جانے اور اس پر خاموشی اختیار کرنے پر بھی سرکاری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ۔ صرف متحدہ اپوزیشن اتحاد کے رہنماء اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے پارلیمنٹ کے جاری اجلاس میں سینٹ کے اندر تقریر کرتے ہوئے پاکستان کی حوثی قبائل کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ اس مطالبے کو پاکستان میں شیعہ مسلک کے سیاسی سربراہ کے بیان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 

پاکستان کی موجودہ حکومت نے مڈل ایسٹ میں چل رہے جنگی تنازعوں ، ایران ۔ امریکہ لڑائی ، ایران اور مڈل ایسٹ کی خلیج عرب بادشاہتوں کی باہمی کشاکش کے حوالے سے جو پوزیشن لے رکھی ہے اس کی تفصیلات کبھی بھی آفیشل طور پر پارلیمنٹ میں نہ تو پیش کی ہیں اور نہ ہی اس پر کوئی بحث ہوئی ہے۔ 

اپوزیشن جماعتیں حال ہی میں صوبہ خبیر پختون خوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج لگائے  جانے کے ساتھ صوبہ کو چلائے جانے کے حوالے سے جو ادارہ جاتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں انھیں غیر جمہوری، غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ ساتھ صوبہ خبیر پختون خوا کے معدنی وسائل خاص طور پر چھے قبائلی اضلاع کے معدنی وسائل پرمبنہ کنٹرول اور ان کو امریکی کمپنیوں کو بیچے جانے کے منصوبے پر عمل درآمد کا زریعہ قرار دے رہے ہیں ۔ 

پاکستان میں اس وقت اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی میں جمہوریت کے ناپید ہوجانے ، پارلیمنٹ ، عدلیہ ، پریس کے عضو معطل ہوجانے پر شدید تشویش کا اظہار تو کیا جارہا ہے لیکن اس حوالے سے مشترکہ  لائحہ عمل کے سوال پر انتشار اور عدم اتفاق کی صورت حال نظر آتی ہے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا حالیہ لانگ مارچ جس طرح سے اختتام پذیر ہوا اور خود پاکستان تحریک انصاف کے اندر مستقبل کے لائحہ عمل پر اختلاف کی خبریں آ رہی ہیں اس سے بھی عوام میں کافی مایوسی اور فرسٹریشن پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔ 

موجودہ پاکستانی رجیم معشیت کے میدان میں عوام کو کوئی ریلیف فراہم کرنے میں یکسر ناکام رہا ہے۔ عالمی بینک کی پاکستان کی معشیت کی مجموعی صورت حال اور حکومت کی کارکردگی پر جاری کی گئی رپورٹ میں پاکستان میں غربت 48 فیصد ہوجانے کا زکر کیا گیا ہے۔ ایک اور بین الاقوامی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان بھوک کا شکار ممالک میں پہلے نمبر پر جہاں ایک کروڑ 60 لاکھ افراد شدید غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہیں ۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں فیصل آباد ڈویژن میں پاور لومز سیکٹر کے 40 فیصد یونٹ بند ہوگئے ہیں اور اس شعبے سے وابستہ ایک لاکھ مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ بڑے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے سرمایہ داروں کی جانب سے یارن اور رنگین کپڑا چین سے درآمد کیا جانا بتایا جا رہا ہے۔ پنجاب ، صوبہ سندھ میں کاٹن جننگ ، اسپننگ مینوفیکچرنگ ، پریسنگ اینڈ آئل انڈسٹری بدترین بحران کا شکار ہے۔ جب کہ دیہی علاقوں میں آلو، کپاس ، چاول ، گندم وغیرہ کی فصلوں میں چھوٹے کسانوں کے مسلسل نقصان اٹھانے اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور دیہی علاقوں میں پھیلتی ہوئی بے انتہا غربت نےدیہی آبادی سے شہری علاقوں کی طرف ہجرت کرنے کی شرح میں بے تحاشا اضافہ کیا ہے ۔ پاکستان میں شہری ، نیم شہری اور قصباتی علاقوں میں رہنے والی درمیانے طبقے ، سفد پوش اور غریب آبادی آمدن میں کمی اور اخراجات کے بے تحاشا دباؤ کے سبب اس وقت بدیرین حالات سے دوچار ہے۔ درمیانے اور چھوٹے تاجر ،دکاندار کاروبار میں مسلسل مندے ، اخراجات میں اضافے کے بحران کا سامنا کر رہے  ہیں ۔ اس وقت افغانستان سے تجارت بند ہونے کی وجہ سے پاکستان سے افغانستان برآمدات سے جڑے کاروبار شدید متاثر ہوئے ہیں ۔ پاکستان کی پولٹری ، فارما سیوٹیکل ، فلور ، سمینٹ ،آئرن ، فوڈ اور بیوریجز کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے ۔ متعدد پولٹری شیڈ بند ہوگئے ہیں ۔ اس بحران میں ان شعبوں سے وابستہ لاکھوں ہنرمند اور غیر ہنر مند مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ جبکہ پاک – افغان باڈر کے ساتھ جڑے علاقوں کی معشیت بھی پاک- افغان تجارت بند ہوجانے کے سبب بالکل بیٹھ گئی ہے جس سے ان علاقوں میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ 

وفاق ، پنجاب سمیت چاروں صوبائی حکومتیں سرکاری ملازمتوں کا بڑے پیمانے پر خاتمہ کر رہی ہیں ۔ صحت اور تعلیم کے شعبے خاص طور پر نشانے پر ہیں ۔ درمیانے اور چھوٹے درجے کے سرکاری ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ سفید پوش اور غریب طبقات پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ ، تعلمی شعبے میں سرکاری فنڈنگ کی شدید کمی نے پاکستان بھر کی جامعات اور کالجوں میں طالب علموں کے داخلے کی شرح میں بڑے پیمانے پر کمی کو جنم دیا ہے۔ نوجوانوں میں بے رووگاری کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ 

مرکزی، صوبائی اور ضلعی انتظامیہ عوامی بے چینی ، احتجاج اور اختلاف کو ریاستی طاقت سے دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پریس پابند سلاسل ہے۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے این سی سی آئی اے ، ایف آئی اے ، پولیس ، نیم فوجی ایجنسیوں کی مداخلت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے ہاں 'مشترکہ لائحہ عمل ' پر اتفاق نہ ہونا اور عوامی بے چینی اور احتجاج کی قیادت سے گریز  نے نراجیت پسندی اور پرتشدد واقعات میں اضافہ کردیا ہے۔ 

کیا پاکستان کی اپوزیشن سیاسی جماعتیں ، سول سوسائٹی ، لیفٹ گروپس ، اور مجموعی شہری سماج آنے والے دنوں میں جمہوریت ، اظہار رائے کی آزادی ، روٹی ، امن جیسے اہم مطالبات کے گرد کوئی تحریک تعمیر کر پائے گا جس میں پاکستان کے محنت کش طبقات ، مزدور، کسان ، شہری و دیہی غریب اور طالب علم  بھی شامل ہوں؟ 

آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے ۔ 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C