09/August/2026

خطے کا نیا طاقتور دفاعی اتحاد؟ ترکی نے اہم راز کھول دیا

👁️ 116 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خطے کا نیا طاقتور دفاعی اتحاد؟ ترکی نے اہم راز کھول دیا

خطے کا نیا طاقتور دفاعی اتحاد؟ ترکی نے اہم راز کھول دیا

استنبول (ڈیلی اردو رپورٹ) ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والا باہمی دفاعی معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے معاہدے کی شق 5 سے مشابہت رکھتا ہے، تاہم اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ تینوں ممالک کی سلامتی کے لیے مشترکہ عزم کو مضبوط بنانا ہے۔

 

ہاکان فیدان نے کہا کہ معاہدے کے تحت اگر تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم حملے کی صورت میں ردعمل کی نوعیت اور دائرہ کار کا فیصلہ تینوں ممالک باہمی مشاورت سے کریں گے۔

 

ترک وزیر خارجہ کے مطابق کسی رکن ملک پر حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اس بات کا مشترکہ جائزہ لیں گے کہ متاثرہ ملک کو کس نوعیت، کس سطح اور کس شکل میں مدد فراہم کی جائے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک کسی رکن ملک کو براہ راست حملے کا نشانہ نہیں بنایا جاتا، معاہدے کے تحت کسی ملک کو محض ممکنہ خطرے کی بنیاد پر دشمن یا حملہ آور تصور نہیں کیا جائے گا۔

 

ایران کے خلاف مخصوص معاہدہ نہیں

 

ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ یہ دفاعی معاہدہ ایران یا کسی دوسرے مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔

 

ان کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینا اور کسی بھی مسلح جارحیت کی صورت میں مشترکہ ردعمل کے لیے ایک فریم ورک قائم کرنا ہے۔

 

فیدان نے کہا کہ معاہدہ کسی ملک کو ہدف بنانے کے بجائے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی یکجہتی اور باہمی سلامتی کے عزم کو مضبوط کرتا ہے۔

 

دیگر ممالک کو شامل کرنے کا امکان

 

ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ صدر رجب طیب اردوغان اس دفاعی تعاون کو خطے کے دیگر ممالک تک وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔

 

ان کے مطابق مستقبل میں دیگر علاقائی ممالک بھی اس فریم ورک میں شامل ہوسکتے ہیں اور بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر کی شمولیت کا امکان بھی موجود ہے۔

 

نیٹو طرز کی وزارتی کمیٹی قائم ہوگی

 

ہاکان فیدان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ ڈھائی سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔

 

انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت نیٹو کی طرز پر ایک وزارتی کمیٹی قائم کی جائے گی، جو تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے اہم امور پر رابطہ کاری کرے گی۔

 

معاہدے کے تحت اتحاد کا جنرل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔

 

مکہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط

 

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے سعودی عرب کے شہر مکہ میں ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں۔

 

معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

 

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ اور خطے میں سکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

 

ترکی کے وزیر خارجہ کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ معاہدے کا مقصد صرف موجودہ تین رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تک محدود رہنا نہیں بلکہ مستقبل میں اسے خطے کے دیگر ممالک تک بھی وسعت دینے کی گنجائش رکھتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C