09/August/2026

یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع، بڑے پیمانے پر جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

👁️ 143 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع، بڑے پیمانے پر جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع، بڑے پیمانے پر جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

صنعا (ڈیلی اردو رپورٹ) یمنی حکومت نے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے مارب اور حضرموت میں کیے گئے حالیہ حملوں کے جواب میں حوثیوں اور ان کے فوجی سازوسامان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کی تصدیق کردی ہے۔

 

یمنی فوج کے ترجمان ماجد النزیلی نے کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کے بعد حکومتی فورسز نے ان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی فوج اپنے شہریوں، فوجی اہلکاروں اور اہم تنصیبات کے خلاف کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گی۔

 

ماجد النزیلی کا کہنا تھا کہ یمنی عوام اور فوج کو درپیش خطرات کا فیصلہ کن فوجی جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے حوثی باغیوں کی کارروائیوں کو غدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی فورسز ملک کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گی۔

 

یمنی وزارت دفاع نے بھی حوثیوں اور ان کے فوجی سازوسامان کے خلاف کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آپریشن حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کارروائیوں کے جواب میں شروع کیا گیا ہے۔

 

وزارت دفاع کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بیرونی ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے یمن کو علاقائی تنازعات میں دھکیل دیا ہے، جبکہ ان کی کارروائیوں نے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا اور عوام میں فرقہ واریت کو فروغ دیا۔

 

مارب اور حضرموت میں حوثیوں کے حملے

 

یمنی حکام کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے حالیہ دنوں میں مارب اور حضرموت میں حکومتی فورسز کے متعدد فوجی کیمپوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

 

ان حملوں میں کم از کم 30 یمنی فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 15 زخمی ہوئے ہیں۔

 

حوثی باغیوں کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ انہوں نے مارب میں حکومتی فوج کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا۔

 

مارب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ حکومتی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

مارب میں ایک روز قبل 10 افراد ہلاک

 

واضح رہے کہ جمعے کے روز یمن کے تیل سے مالا مال صوبے مارب میں حوثی باغیوں کے حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

یمنی فوجی ذرائع کے مطابق مارب میں ہونے والے حملوں میں حکومتی فورسز کے 8 اہلکار ہلاک اور 12 زخمی ہوئے تھے۔

 

حوثی باغیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے مارب میں سرکاری فوج کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا تھا۔

 

اقوام متحدہ کا بڑے پیمانے پر جنگ کے خطرے سے انتباہ

 

دوسری جانب یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے یمن میں بڑھتے ہوئے تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

 

گرنڈبرگ کے مطابق اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن کو اس وقت بڑے پیمانے پر جنگ کی واپسی کا خطرہ کسی بھی وقت سے زیادہ لاحق ہے۔

 

انہوں نے یمنی فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کی جانب واپس آئیں۔

 

اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا کہ موجودہ کشیدگی یمن میں گزشتہ چند برسوں کے دوران حاصل ہونے والے نسبتاً امن کے فوائد کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور ملک کو ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں بھی دھکیل سکتی ہے۔

 

گرنڈبرگ نے اس بات پر زور دیا کہ یمن میں بحران کا پائیدار حل صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔

 

یمن میں 2014 سے جاری خانہ جنگی میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمالی علاقوں کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے، جبکہ سعودی عرب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

 

حالیہ حملوں اور یمنی حکومت کی جانب سے حوثیوں کے خلاف نئے فوجی آپریشن کے اعلان کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں کہ یمن میں کئی برس سے جاری نسبتاً پرسکون صورتحال ایک بار پھر وسیع پیمانے پر مسلح تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C