06/November/2026

راولا کوٹ : ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے خلاف سکیورٹی آپریشن، فائرنگ کا تبادلہ، ہلاکتوں اور متعدد زخمیوں کے دعوے

👁️ 60 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
راولا کوٹ : ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے خلاف سکیورٹی آپریشن، فائرنگ کا تبادلہ، ہلاکتوں اور متعدد زخمیوں کے دعوے

راولا کوٹ : ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے خلاف سکیورٹی آپریشن، فائرنگ کا تبادلہ، ہلاکتوں اور متعدد زخمیوں کے دعوے

راولا کوٹ (ڈیلی اردو) پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کے شہر راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام کئی ماہ سے جاری دھرنا ختم کرانے کے لیے آپریشن کیا، جس کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ واقعے میں دونوں جانب جانی نقصان اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی سرکاری تصدیق نہیں ہوسکی۔

5 نومبر کی علی الصبح شروع ہونے والی کارروائی کا مرکز راولا کوٹ کا مرکزی بس ٹرمینل تھا، جہاں ایکشن کمیٹی کے کارکن گزشتہ تقریباً پانچ ماہ سے دھرنا دے رہے تھے۔ ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق آپریشن صبح تقریباً 5 بجے شروع ہوا اور ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بس ٹرمینل کا کنٹرول سنبھال لیا۔

پونچھ ریجن پولیس کے مطابق کارروائی کا مقصد عوامی شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹانا اور ٹریفک کی آمدورفت بحال کرنا تھا۔ پولیس کا الزام ہے کہ رکاوٹیں ہٹانے کے دوران مظاہرین میں موجود مسلح افراد نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس کے بعد جوابی کارروائی کی گئی۔ پولیس نے متعدد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ دوسری جانب موجود بعض افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی دی گئی ہیں۔

تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے بیانات میں بھی زخمی اہلکاروں کے حوالے سے فرق سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اپنے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، جبکہ ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ انہیں سکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ملی۔ حکام نے زخمیوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی۔

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے صبح تقریباً 5 بجے دھرنے کے شرکا پر براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں راولا کوٹ کے ڈی چوک میں موجود تھیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور ضلعی انتظامیہ نے بھی ہلاکتوں کی تعداد کی باضابطہ توثیق نہیں کی۔

کارروائی کے بعد انتظامیہ نے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی، جس کے تحت دو یا دو سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کی گئی۔ شہریوں کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ بس ٹرمینل کے اطراف اور شہر کے داخلی راستوں پر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات رہی۔

پانچ ماہ سے جاری احتجاج اور مطالبات

راولا کوٹ میں ایکشن کمیٹی کا دھرنا جون 2026 سے جاری تھا۔ احتجاجی تحریک کے تحت 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، جن میں بجلی کے نرخوں میں ریلیف، مہنگائی میں کمی، روزگار کے مواقع، بنیادی شہری سہولیات، سیاسی نمائندگی اور حکومتی مراعات میں اصلاحات شامل تھیں۔

کمیٹی کا ایک اہم مطالبہ پاکستان میں آباد کشمیری مہاجرین کے لیے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 12 مخصوص نشستوں کا خاتمہ بھی ہے۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے خطے کے انتخابی اور سیاسی معاملات میں بیرونی اثر و رسوخ بڑھتا ہے اور مقامی آبادی کی نمائندگی متاثر ہوتی ہے۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے جاری دھرنے اور سڑکوں کی بندش کے باعث عام شہریوں، مسافروں، کاروباری سرگرمیوں، تعلیمی اداروں اور مریضوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی تھی۔ حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مطالبات پر مذاکرات اور معاہدوں کے باوجود اختلافات برقرار رہے، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

عالمی میڈیا کی رپورٹس اور سابقہ جھڑپیں

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جولائی 2026 میں بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق یہ تشدد مجوزہ احتجاجی مارچ اور انتخابی نمائندگی سے متعلق تنازع کے دوران پیش آیا تھا۔

الجزیرہ نے بھی 15 جولائی کی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ جون میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے بعد خطے میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ حکام نے 79 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ ان واقعات کے دوران انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز پر پابندیوں نے زمینی صورتحال کی آزادانہ تصدیق کو بھی مشکل بنا دیا تھا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے 29 اگست 2026 کو جاری کردہ اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں آزاد کشمیر کی کشیدہ صورتحال کی وجوہات میں اداروں پر عدم اعتماد، اظہار رائے اور مواصلاتی ذرائع پر پابندیوں اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے طاقت کے مبینہ غیر متناسب استعمال کی نشاندہی کی تھی۔ کمیشن نے مختلف فریقوں کے متضاد بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے جامع مذاکرات پر زور دیا تھا۔

تازہ آپریشن کے بعد راولا کوٹ کے مرکزی بس ٹرمینل سے دھرنا ختم کرا دیا گیا ہے، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور حکومت کے ساتھ اختلافات بدستور موجود ہیں۔ اس صورتحال میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی درست تعداد کا تعین، گرفتار افراد سے متعلق معلومات کی فراہمی اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اہم سوالات بن گئے ہیں۔

تاحال فریقین کے بیانات میں نمایاں اختلاف موجود ہے۔ ایکشن کمیٹی سکیورٹی فورسز پر مظاہرین کے خلاف براہ راست فائرنگ کا الزام عائد کر رہی ہے، جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مسلح افراد نے پہلے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C