سانحہ کارساز: 13 برس گزر جانے کے بعد بھی ملزمان کا سراغ نہ ملا
👁️ 43 بار دیکھا گیا
سانحہ کارساز: 13 برس گزر جانے کے بعد بھی ملزمان کا سراغ نہ ملا
کراچی (ڈیلی اردو) سانحہ کارساز کراچی کو 13 سال بیت گئے۔ دردناک واقعے میں پیپلزپارٹی کے 177 کارکنان اور جیالے ہلاک ہوئے، ہر سال واقعہ کی یاد میں اس دن شہدا کو یاد کیا جاتا ہے۔
کراچی میں کارساز کے مقام شاہراہ فیصل پر وہ سانحہ ہوا جو 13 سال گزرجانے کے باوجود بھلایا نہیں جاسکا۔
پیپلزپارٹی کے جیالے ملک بھر سے سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پر ان کا استقبال کرنے کراچی پہنچے تھے۔
18 اکتوبر 2007 کو عوام کا ایک جم غفیر محترمہ کے استقبال کے لیے موجود تھا، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹوکا قافلہ جلسہ گاہ کی طرف بڑھ رہا تھا اس موقع پر کارکنان کی خوشی دیدنی تھی، ہر ایک کا چہرہ اپنی قائد کو دیکھ کر جگمگا رہا تھا۔
پیپلزپارٹی کے کاروان جمہوریت اور جانثاران بے نظیر کو اس وقت خون میں نہلا دیا گیا جب وہ کارساز پہنچے۔ ٹھیک رات بارہ بج کر 52 منٹ پر 50 سیکنڈ کے وقفے سے یک باد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں۔ 20 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 177 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے واقعے میں القاعدہ، لال مسجد اسلام آباد کے عسکریت پسندوں اور جنداللہ کو سانحہ کارساز میں ملوث قرار دیا تھا۔
جبکہ حکومتی اداروں نے عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ چیف فاہد محمد علے مسلم اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود کو ملوث قرار دیا تھا۔
سانحہ کارساز کے ضمن میں دو مقدمات درج کیے گئے۔ دوسری ایف آئی آر سندھ کے سابق وزیر اعلی سید قائم علی شاہ نے درج کرائی۔
اہم بات یہ ہے کہ دھماکے کی جگہ کو بھی اسی رات دھو دیا گیا تھا جس کی وجہ سے کئی اہم ثبوت ضائع ہو گئے۔ پولیس نے مختلف افراد کو حراست میں لیا لیکن ٹھوس ثبوت نہ ملنے پر ان کو بھی رہا کردیا گیا۔
اس حوالے سے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں جس حزب المجاہدین کے قاری سیف اللہ اختر کا ذکر کیا اس سے بھی تفتیش کی گئی۔
سیف اللہ اختر کا امیگریشن ریکارڈ چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ محترمہ کے کراچی کے جلوس میں دھماکے کے وقت وہ دبئی میں تھا اس لئے اسے چھوڑ دیا گیا جو بعد میں ڈرون حملے میں مارا گیاتھا ۔
سانحہ کارساز کے انویسٹی گیشن آفیسر ڈی ایس پی نواز رانجھا کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔
بےنظیر بھٹو کی پلاکت کی تفتیش کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے کراچی کا بھی دورہ کیا اور اس واقعہ کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔
تفتیشی ٹیم کی جانب سے دوسری ایف آئی آر کا سبب بننے والے محترمہ بے نظیر بھٹو کا وہ اہم خط بھی بارہا درخواست کے باوجود تفتیشی حکام کو نہیں ملا ہے جس کی وجہ سے تفتیش آگے نہ بڑھ سکی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پاکستانی وزیراعظم امریکہ، ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ
21/June/2026 👁️ 139 بار دیکھا گیا
لبنان میں جھڑپیں جاری، ایک اور اسرائیلی فوجی ہلاک
20/June/2026 👁️ 194 بار دیکھا گیا
بنوں میں مسافر گاڑیوں کے قریب دو دھماکے، 7 افراد ہلاک، 6 زخمی
20/June/2026 👁️ 122 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 5 افراد ہلاک، 12 زخمی
20/June/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
لکی مروت: دو مختلف مقامات سے تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد
20/June/2026 👁️ 122 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، امریکہ کی تردید
20/June/2026 👁️ 198 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8845 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4593 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2466 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2114 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1915 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C