14/October/2026

سعودی عرب پر حوثی حملوں کی نئی لہر، ریاض اور جنوبی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائل اور ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

👁️ 51 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب پر حوثی حملوں کی نئی لہر، ریاض اور جنوبی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائل اور ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

سعودی عرب پر حوثی حملوں کی نئی لہر، ریاض اور جنوبی علاقوں کی جانب داغے گئے میزائل اور ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

ریاض (ڈیلی اردو) سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مملکت کے مختلف علاقوں کی طرف داغے گئے کروز میزائل، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک کر تباہ کر دیا گیا۔

اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ریاض اور سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کی جانب آنے والے تین کروز میزائل اور دو ڈرونز تباہ کیے گئے، جبکہ مشرقی شہر ظہران کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی ہدف تک پہنچنے سے پہلے روک لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میزائل کا ملبہ ظہران کے ایک رہائشی علاقے میں گرا، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے کارروائی شروع کردی۔ حرض کی جانب داغے گئے ایک اور بیلسٹک میزائل کو بھی فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ 13 اکتوبر کو سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ظہران میں واقع عمارت کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہاں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق آگ محدود نوعیت کی تھی اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم کمپنی سے وابستہ ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ عمارت کے بالائی تین حصوں کو نقصان پہنچا۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں بھی میزائلوں کو روکنے کے بعد ان کا ملبہ گرنے سے شہری متاثر ہوئے۔ اے ایف پی کے مطابق سعودی حکام نے بدھ کو بتایا کہ ملبے کے باعث چار افراد زخمی ہوئے، جن میں دو خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ 15 گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

ریاض میں موجود ایک عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے ایک شے کو شاپنگ مال کے اوپر سے گزرتے دیکھا، جس کے پیچھے روشنی کی لکیر اور دھوئیں کے آثار تھے، جس کے فوراً بعد دھماکے کی آواز سنائی دی۔ اس کے بقول لوگ خوفزدہ ہو کر آسمان کی طرف دیکھتے رہے۔

یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب سعودی قیادت میں قائم اتحاد یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے، جبکہ حوثی باغی سعودی تنصیبات اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ مسلسل حملوں سے خطے میں سلامتی، تیل کی تنصیبات اور فضائی و بحری نقل و حرکت کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C