22/August/2025

شامی جنگجو افغانستان منتقل ہوکر علاقائی خطرات پیدا کرسکتے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ

👁️ 304 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شامی جنگجو افغانستان منتقل ہوکر علاقائی خطرات پیدا کرسکتے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ

شامی جنگجو افغانستان منتقل ہوکر علاقائی خطرات پیدا کرسکتے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ

نیو یارک (ڈیلی اردو) اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی 2025 کی انسدادِ دہشت گردی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دسمبر 2024 میں سابق شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے جنگجو افغانستان منتقل ہو سکتے ہیں، جو وہاں سے علاقائی اور عالمی سطح پر خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

 

پاکستان کے معروف اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق، یہ رپورٹ بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کی گئی، جس میں داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) کے بڑھتے ہوئے خطرات پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ گروہ افغانستان اور وسیع تر جنوبی و وسطی ایشیائی خطے کے لیے سب سے سنگین چیلنجز میں سے ایک ہے اور اس کے تقریباً 2 ہزار جنگجو موجود ہیں۔

 

سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے افغانستان کو غیر مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا کہ داعش خراسان پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ایک جامع عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی اپنائے۔

 

پاکستانی عہدیدار نے واضح کیا کہ ان کا اصل مخالف خطے میں پاکستان کے خلاف سرگرمی سے دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا گروہ ہے، جو دہشت گرد پراکسیوں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے اور سرحد پار قتل و غارت میں ملوث ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ کے درمیان تعاون خطرناک ہے، کیونکہ یہ گروہ دہشت گردی کے تربیتی کیمپ شیئر کرتے ہیں، اہم ڈھانچوں اور اقتصادی منصوبوں کو نشانہ بناتے ہیں اور عام شہریوں کو بھی ہدف بناتے ہیں۔

 

سفیر نے بتایا کہ تحریکِ طالبان پاکستان افغان سرزمین سے کام کرنے والا سب سے بڑا اقوامِ متحدہ کی جانب سے نامزد دہشت گرد گروہ ہے جو براہِ راست پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

 

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ شام میں تقریباً 3 ہزار جنگجو اب بھی سرگرم ہیں، جو دوبارہ کارروائی کی صلاحیت بحال کرنے اور مقامی سیکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ان میں سے بعض افغانستان منتقل ہو سکتے ہیں۔ شمال مشرقی شام کے کیمپوں میں قید دسیوں ہزار افراد پر بھی تشویش ظاہر کی گئی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور کہا گیا کہ غیر محفوظ حالات میں طویل عرصہ قید رہنے سے انتہا پسندی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے ان افراد، خصوصاً بچوں کی محفوظ، رضاکارانہ اور باعزت واپسی کی اپیل کی گئی۔

 

اقوامِ متحدہ کے عہدیداران نے خبردار کیا کہ داعش نوجوانوں کو بھرتی کرنے، فنڈز جمع کرنے اور پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع اور مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال کر رہا ہے، جس سے ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔

 

پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے جامع نقطۂ نظر اپنانے پر زور دیا، جس میں ریاستی جبر اور قبضے جیسے بنیادی عوامل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے اجتماعی سزا، انسانی حقوق کی پامالی، آبادیاتی تبدیلیوں اور بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کے بیانیے کے غلط استعمال کی مذمت کی اور زور دیا کہ دہشت گردی کو ان عوامی جدوجہدوں سے الگ کیا جائے جو غیر ملکی قبضے کے خلاف کی جاتی ہیں۔

 

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی ڈھانچوں میں موجود جانبداری پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی فہرست میں شامل تمام نام مسلمان ہیں، جبکہ غیر مسلم انتہا پسند اکثر نظرانداز کیے جاتے ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C