طالبان اور افغان فورسز کے درمیان تین صوبائی دارالحکومتوں میں شدید لڑائی جاری
👁️ 32 بار دیکھا گیا
طالبان اور افغان فورسز کے درمیان تین صوبائی دارالحکومتوں میں شدید لڑائی جاری
اسلام آباد (ڈیلی اردو/وی او اے) افغانستان میں سرکاری فورسز اور طالبان میں ایران کے ساتھ سرحد کے قریب واقع صوبہ ہرات کے دارالحکومت ہرات شہر، جنوب میں صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ جب کہ صوبہ قندھار کے دارالحکومت اور ملک کے دوسرے بڑے شہر قندھار کے گرد و نواح میں شدید لڑائی جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے لشکر گاہ کے رہائشیوں کو طالبان کے زیر انتظام علاقوں سے جلد از جلد انخلا کی ہدایت کی ہے کیوں کہ سرکاری فورسز وہاں پر بمباری کا ارادہ رکھتی ہے۔
لشکر گاہ کے مقامی صحافی عزیز احمد شفیع نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان کی کوشش ہے کہ وہ لشکر گاہ کا کنٹرول جلد حاصل کر لیں۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان نے اپنے کنٹرول میں موجود صوبہ ہلمند کے 14 اضلاع میں سے نو اضلاع سے جنگجوؤں کو لشکر گاہ منتقل کیا ہے۔ ان کے بقول اگر لشکر گاہ افغان حکومت کے کنٹرول سے نکل جاتا ہے تو یہ 2016 کے بعد طالبان کے کنٹرول میں آنے والا پہلا صوبائی دارالحکومت ہو گا۔
پانچ سال قبل طالبان نے 2016 میں کچھ وقت کے لیے صوبہ قندوز کے دارالحکومت قندوز پر قبضہ کیا تھا بعد ازاں اسے واگزار کرا لیا گیا تھا۔
عزیز احمد شفیع کا مزید کہنا تھا کہ لڑائی کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد شہر سے دوسرے علاقوں کی جانب جا رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے بھی ہلمند کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق افغان فورسز اور طالبان میں جاری لڑائی میں ہزاروں شہری پھنس سکتے ہیں۔
بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بتایا کہ رواں سال کے آغاز سے افغانستان میں کشیدہ صورتِ حال کے باعث تین لاکھ 60 ہزار افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے ہیں۔
.@UN is deeply concerned about the safety and protection of people in Lashkargah, in southern #Afghanistan, where tens of thousands of people could be trapped by fighting.
Humanitarians are committed to #StayandDeliver despite worsening conditions. https://t.co/HCN0Y8tgpc
— UN Humanitarian (@UNOCHA) August 4, 2021
صحافی عزیز احمد شفیع کا کہنا تھا کہ افغان فورسز نے بمباری کے ساتھ ساتھ گھر گھر تلاشی بھی شروع کر دی ہے تاکہ طالبان کے جنگجوؤں کو تلاش کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق افغان فورسز لشکر گاہ آنے والی تمام شاہراہوں کا محاصرہ کر چکی ہے تاکہ طالبان کے جنگجوؤں کی تازہ کمک کی منتقلی کو روکا جا سکے۔
طالبان دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے یکم مئی سے لے کر اب تک افغانستان کے نصف سے زائد اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس کے بعد اب انھوں نے بڑے شہروں اور صوبائی دارالحکومتوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کی ہیں۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان اگرچہ تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔ البتہ جہاں طالبان کا مقابلہ افغان اسپیشل فورسز سے ہوا ہے وہاں آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔
Clearing and offensive operations have started in #Lashkargah city, the capital of Helmand province last night. #Terrorists have no way to flee from Lashkargah, they will be killed. pic.twitter.com/YnkTE8QwYm
— Fawad Aman (@FawadAman2) August 5, 2021
واضح رہے کہ طالبان نے افغانستان کے بیشتر اضلاع کا کنٹرول بغیر کسی لڑائی کے حاصل کیا ہے۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مقیم دفاع اور سیکیورٹی امور کے ماہر مطیع اللہ خروٹی کا کہنا ہے کہ اس وقت پورے ملک میں لڑائی جاری ہے۔ ان کے مطابق افغان فوج دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی طرح طالبان بھی محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں۔ تاہم لڑائی سے اصل میں متاثر عام شہری ہو رہے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے مطیع اللہ خروٹی کا کہنا تھا کہ افغان عوام اس لڑائی کے اصل محرکات امریکہ اور بیرونی ممالک کو ٹھیراتے ہیں۔ کیوں کہ دیگر ممالک طالبان کی مدد کرنا بند کر دیں تو افغانستان انتشار کا شکار نہیں ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے افغان عوام تشویش اور خوف کا شکار ضرور ہیں۔ البتہ یہ تشویش اس وجہ سے نہیں ہے کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر طالبان کے کنٹرول میں آ جائے گا اور ٹیلی وژن، موبائل فون، خواتین کی تعلیم یا روزگار کے حصول جیسے مسائل کا سامنا ہو گا۔ بلکہ اصل تشویش یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ایک نئی روشن خیال نسل نے پرورش پائی ہے جو ملک کی ترقی کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے۔
ان کے مطابق بدقسمتی سے ایسے تمام افراد کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح سے افغانستان چھوڑ کر کسی محفوظ ملک چلے جائیں۔
افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے مطیع اللہ خروٹی کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کے باہر جانے سے افغانستان دوبارہ سے پستی میں جائے گا۔ اس کا نظام چلانے کے لیے کوئی قابل ذکر تجربہ رکھنے والے افراد نہیں ہوں گے۔
انہوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان دوبارہ سے نہ ختم ہونے والے بیرونی امداد پر چلا جائے گا جہاں اس کی اپنی سوچ و فکر والے افراد نہیں ہوں گے بلکہ باہر سے آنے والے افراد اس کے مستقبل کے فیصلے کریں گے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پاکستانی وزیراعظم امریکہ، ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ
21/June/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
لبنان میں جھڑپیں جاری، ایک اور اسرائیلی فوجی ہلاک
20/June/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
بنوں میں مسافر گاڑیوں کے قریب دو دھماکے، 7 افراد ہلاک، 6 زخمی
20/June/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 5 افراد ہلاک، 12 زخمی
20/June/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
لکی مروت: دو مختلف مقامات سے تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد
20/June/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، امریکہ کی تردید
20/June/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8844 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4591 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3295 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2465 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2113 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1910 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C