میانمار: جنگی جرائم میں ‘کافی اضافہ’ ہوا ہے، اقوام متحدہ
👁️ 130 بار دیکھا گیا
میانمار: جنگی جرائم میں ‘کافی اضافہ’ ہوا ہے، اقوام متحدہ
نیو یارک (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں میانمار میں جنگی جرائم میں شدت آنے کے شواہد ملے ہیں۔ تفتیش کاروں نے تشدد، عصمت دری اور من مانی حراست کے ثبوت پیش کیے ہیں۔
اقوام متحدہ نے منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا کہ میانمار میں فوجی جنتا حزب اختلاف کو دبانے کی کوشش میں تشدد اور جنسی تشدد سمیت جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے میانمار کے آزاد تحقیقاتی میکانزم (آئی آئی ایم ایم) کے سربراہ نکولس کومجیان نے کہا، “ہم نے پورے میانمار میں سفاکیت اور غیرانسانی طور پر خوفناک سطح کے واقعات کے ثبوت جمع کیے ہیں۔”
رپورٹ، جس میں یکم جولائی 2023 سے 30 جون 2024 تک کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ تنازعہ “کافی زیادہ حد تک ” اور “خطرناک شرح سے بڑھ گیا ہے “۔
اذیت اور من مانی تشدد کی اطلاعات
تفتیش کاروں نے کہا کہ انہیں ملک بھر میں “بچوں کے خلاف تشدد، جنسی زیادتی اور بدسلوکی کے زیادہ کثرت سے اور وحشیانہ جرائم کے شواہد ملے ہیں۔”
انہوں نے قیدیوں کے جسمانی اعضا کو مسخ کرنے، سر قلم کرنے اور مسخ شدہ اور جنسی طور پر مسخ شدہ لاشوں کی عوامی نمائش کا حوالہ دیا ہے۔
رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ پرتشدد جنگی جرائم میں شدت آگئی ہے، اسکولوں، مذہبی عمارتوں اور اسپتالوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا حالانکہ وہ کوئی فوجی ہدف نہیں تھے۔
آئی آئی ایم ایم نے کہا، “ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور بہت سے لوگوں کو حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے یا ہلاک کر دیا گیا ہے،” حکومت کے مخالفین کو من مانی طور پر حراست میں لیا گیا اور “واضح طور پر غیر منصفانہ ٹرائل” کئے گئے۔
مزاحمتی گروہوں پر بھی جنگی جرائم کا الزام
میانمار میں سابقہ فوجی جنتا کے اقتدار میں رہنے کے بعد سے صرف ایک دہائی کی سویلین حکمرانی کے بعد فوج فروری 2021 میں دوبارہ اقتدار میں واپس آگئی۔
بغاوت نے آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا اور فوج مخالف مظاہروں کو پرتشدد طریقے سے ختم کر دیا گیا۔
تاہم، فوج کو طویل عرصے سے موجود نسلی باغی گروہوں اور حالیہ جمہوریت نواز قوتوں پر مشتمل مسلح مزاحمتی گروپوں سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آئی آئی ایم ایم کا آغاز 2018 میں یو ایس ہیومن رائٹس کونسل نے ملک میں ہونے والے بدترین جرائم سے متعلق شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کیا تھا، جس میں روہنگیا اقلیت کے خلاف جرائم بھی شامل ہیں، جن میں سے زیادہ تر سویلین حکمرانی کے دوران ہوئے تھے۔
تفتیش کاروں نے فوج کی طرف سے کیے جانے والے جرائم پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے، لیکن انھیں مزاحمتی گروہوں کے ذریعے کیے جانے والے جرائم کے شواہد بھی ملے ہیں۔
تفتیش کاروں نے کہا، “اس میں فوجی مخبر یا ساتھی ہونے کے شبہ میں عام شہریوں کی سزائے موت شامل ہے۔”
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل سابق شامی جنرل طارتوس سے گرفتار
07/September/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے اہم فوجی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا، حوثیوں ساتھ صومالی جنگجوؤں کی موجودگی کا انکشاف
07/September/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
سنٹرل کرم میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ، دو شہری ہلاک
07/September/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایرانی شہری سمیت متعدد دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 77 بار دیکھا گیا
مستونگ میں تھانے پر دستی بم سے حملہ، پولیس اہلکار زخمی
07/September/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : کارگو ٹرانسپورٹ پر 6 روزہ پابندی، دفعہ 144 نافذ
07/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26277 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11810 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9105 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7397 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5095 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C