18/December/2024

پاکستان: دو واقعات میں سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک

👁️ 31 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان: دو واقعات میں سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک

پاکستان: دو واقعات میں سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک

پشاور + اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں حکام کے مطابق منگل کے روز دہشت گردی کے پہلے واقعے میں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن کے علاقے زرکانی میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو ایک دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا، جس میں تین فوجی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اشفاق، مختار ولی اور عارف کے نام سے کی گئی ہے جب کہ فرزند اور سمیع نامی دو فوجی زخمی ہوئے، جنہیں مقامی ہسپتال میں علاج کے لیے بھرتی کیا گیا۔

میڈيا ادارے ڈان نے مقامی حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ دھماکے کے فوری بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور امدادی کارروائیوں کے ساتھ ہی تلاشی آپریشن شروع کی گئی۔

فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے فوری طور پر اس واقعے کے بارے میں کو ئی بیان جاری نہیں کیا۔

ادھر خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال تشویشناک ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی مبینہ بے عملی پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ انتظامیہ محض تماشائی بنی ہوئی ہے۔

ایک بیان میں گورنر نے سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے کو پاکستان، اسلام اور انسانیت کے خلاف عناصر کی سازش قرار دیا۔

دہشت گردی کا دوسرا واقعہ

منگل کے روز ہی تشدد کے دوسرے واقعے میں شانگلہ کی تحصیل چکسر کے علاقے گنگر میں مسلح افراد نے پولیس چوکی پر دھاوا بول دیا، جس کے نتیجے میں ایک اے ایس آئی سمیت دو اہلکار ہلاک اور دیگر تین زخمی ہوئے۔

شانگلہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) عمران خان نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے ایک مربوط حملہ کیا، جس میں راکٹ گولے اور دستی بم استعمال کیے گئے۔ یہ پولیس چوکی دریائے سندھ کے قریب دور دراز علاقے میں واقع ہے۔

حکام کے مطابق حملے میں کانسٹیبل نثار احمد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ اے ایس آئی محمد حسن بٹگرام ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔ زخمیوں کی شناخت ارشد اقبال، ارشد علی اور رفعت اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔

ڈی پی او عمران خان نے بتایا کہ جوابی فائرنگ سے ایک عسکریت پسند بھی زخمی ہوا لیکن راستے میں خون کے دھبے چھوڑ کر قریبی پہاڑوں میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

عسکریت پسندی کے خلاف احتجاج

پولیس اہلکاروں کی تدفین کے بعد سول سوسائٹی کے ارکان سمیت مقامی رہائشیوں نے الپوری چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ضلع میں امن کی بحالی اور دہشت گردانہ حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر عسکریت پسندی کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ اس کے خلاف دھرنے پر بیٹھیں گے۔

وفاقی وزیر انجنیئر امیر مقام نے شانگلہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “بزدلانہ کارروائی” قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعات ملک کی سکیورٹی فورسز کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C