02/October/2026

یمن جانے اور حوثیوں کی مبینہ مدد کی کوشش، امریکی محکمہ توانائی کے انجینئر گرفتار

👁️ 82 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن جانے اور حوثیوں کی مبینہ مدد کی کوشش، امریکی محکمہ توانائی کے انجینئر گرفتار

یمن جانے اور حوثیوں کی مبینہ مدد کی کوشش، امریکی محکمہ توانائی کے انجینئر گرفتار

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی حکام نے محکمہ توانائی سے وابستہ 51 سالہ برقی انجینئر اشٹن حامد الابودی کو مبینہ طور پر حوثی باغیوں کو تکنیکی معاونت اور وسائل فراہم کرنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق واشنگٹن کے شہر رچ لینڈ سے تعلق رکھنے والے الابودی پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران نواز حوثی باغیوں کی مواصلاتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے تکنیکی مشاورت، آلات اور دیگر معاونت فراہم کرنے کی کوشش کی۔ امریکی حکام نے حوثیوں کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوا جب الابودی نے ستمبر 2025 میں عمان کا سفر کیا اور وہاں سے غیر قانونی راستے کے ذریعے یمن میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تفتیشی دستاویزات کے مطابق ان کا مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا تک پہنچ کر تنظیم کے بعض عہدیداروں سے رابطہ قائم کرنا تھا، تاہم وہ صنعا تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق وطن واپسی پر الابودی نے کسٹمز حکام کو بتایا کہ وہ سرکاری ذمہ داری کے تحت مشرق وسطیٰ گئے تھے، تاہم محکمہ توانائی کے ان کے نگران نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ انہیں اس علاقے میں کسی سرکاری دورے کے لیے تعینات نہیں کیا گیا تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تفتیشی دستاویزات میں الابودی کی جانب سے یمن میں میزائل دفاعی نظام کے معائنے سے متعلق ایک مشن کا دعویٰ بھی سامنے آیا، جس کی ان کے نگران نے تصدیق نہیں کی۔

تحقیق کے دوران الابودی کی ایک ایسے شخص سے بات چیت بھی سامنے آئی جسے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے لیے خفیہ ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس ذریعے نے خود کو ایک حوثی عہدیدار کا نمائندہ ظاہر کیا اور یمن بھیجے جانے والے ایسے آلات کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی جو ایک متحرک مواصلاتی مرکز میں استعمال ہوسکتے تھے۔

حکام کا الزام ہے کہ الابودی نے اپنی برقی انجینئرنگ کی مہارت استعمال کرتے ہوئے شمسی توانائی سے چلنے والے جنریٹرز اور مواصلاتی آلات کے حوالے سے مشاورت کی، ان کے استعمال اور باہمی ربط سے متعلق خاکے فراہم کیے اور مزید آلات کے حصول کے بارے میں تحقیق اور تکنیکی رہنمائی بھی دی۔

امریکی تحقیقات میں ایسے کیمیائی مواد اور مختلف پرزہ جات کی خریداری کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہیں حکام کے مطابق مقامی طور پر دھماکا خیز آلات تیار کرنے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بعض ایسے پرزوں کی خریداری کا بھی سراغ ملا جو بغیر پائلٹ طیاروں اور ریموٹ کنٹرول فضائی نظام کی تیاری میں استعمال ہوسکتے ہیں۔

تاہم امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ موجودہ فردِ جرم یا شکایت کا تعلق حوثیوں کو مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کی کوشش سے ہے۔ اس مرحلے پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ مذکورہ مواد سے واقعی دھماکا خیز مواد تیار کیا گیا یا خریدے گئے آلات حوثی باغیوں تک پہنچائے گئے۔

امریکی حکام کے مطابق الابودی کو وفاقی عدالت میں پیش کیا جانا تھا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ شکایت میں عائد الزامات محض الزامات ہیں اور عدالت سے جرم ثابت ہونے تک ملزم کو بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C