09/June/2021

مسلم خاندان کا قتل دہشت گردانہ حملہ تھا، کینیڈین وزیراعظم

👁️ 111 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مسلم خاندان کا قتل دہشت گردانہ حملہ تھا، کینیڈین وزیراعظم

مسلم خاندان کا قتل دہشت گردانہ حملہ تھا، کینیڈین وزیراعظم

اونٹاریو (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے/اے پی/اے ایف پی/روئٹرز) کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں اتوار کو ایک نوجوان نے ایک مسلم خاندان کے پانچ افراد کو اپنے پک اپ ٹرک سے کچل دیا تھا، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ایک بچہ زخمی ہو گیا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے صوبے اونٹاریو کے لندن میں ایک پاکستانی نژاد خاندان کے چار افراد کے قتل کو ‘دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”یہ قتل کوئی حادثہ نہیں تھا۔ یہ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا، جو ہماری کمیونیٹیزمیں سے ایک کے دل میں پنپنے والی نفرت کا نتیجہ تھا۔”

انہوں نے مزید کہا ”اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ اس ملک میں نفرت اور نسل پرستی نہیں ہے تو میں ان سے کہنا چاہوں گا کہ ہم اس کی کیا توضیح کریں گے کہ تشدد کا شکار ایک بچہ ہسپتال میں زیر علاج ہے؟ ہم کس طرح اس کے رشتہ داروں سے آنکھ ملا کر یہ کہہ سکیں گے کہ ‘اسلاموفوبیا‘ کی کوئی حقیقت نہیں ہے؟“

متاثرہ کنبے کے دور کے رشتہ داروں نے ایک بیا ن جاری کرکے ہلاک ہونے والوں کی تفصیلات بتائی ہیں۔ ان کے مطابق 46 سالہ سلمان افضل، ان کی اہلیہ 44 سالہ مدیحہ، ان کی بیٹی پندرہ سالہ یمنی اور سلمان افضل کی 74 سالہ والدہ کی موت ہوگئی۔ جب کہ نو سالہ بیٹا فائز ہسپتال میں زیر علاج ہے اور صحت یاب ہو رہا ہے۔ متاثرہ کنبے کے دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ خاندان چودہ برس قبل کینیڈا آیا تھا۔

حملہ مسلمانوں سے نفرت کا نتیجہ

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا مزید کہنا تھا”ہم سب امید کرتے ہیں کہ اس چھوٹے بچے کے زخم جلد ٹھیک ہو جائیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اس بزدلانہ اسلامو فوبک حملے کی وجہ سے اسے طویل عرصے تک دکھ، افسوس اور غصے کے ساتھ زندگی گزارنا ہو گی۔”

کینیڈا کے وزیر پبلک سیفٹی بل بلیئر نے بھی اس حملے کو اسلامو فوبیا کا خوفناک اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ”میرا ماننا ہے کہ اس خاندان کو اس کے عقیدے کی وجہ سے نشانہ بنا یا گیا اور یہ حملہ بظاہر حملہ آور کی مسلمانوں سے نفرت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔”

حادثے کے بعد حکام نے اسی روز ایک قریبی پارکنگ لاٹ سے واقعے میں ملوث بیس سالہ نوجوان کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس کا نام نیتھانیئل ویلٹ مین بتایا گیا ہے۔ اس پر پہلے درجے کے قتل اور اقدام قتل کے چار الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ خاندان پر حملے کی وجہ ان کی مذہبی شناخت تھی۔

پورے ملک میں غم و غصے کی لہر

اس حملے کے نتیجے میں ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور لندن کی طرح ٹورنٹو، وینکوور اور کینیڈا کے دوسرے شہروں میں بھی تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔لندن میں منعقدہ ایک تعزیتی تقریب میں لندن مسجد کے امام عبدالفتح توکل نے کہا”یہ ہمارا شہر ہے۔ کبھی کسی کو آپ کی رنگ، نسل، عقیدے یا جائے پیدائش کی بنیاد پر ایسا محسوس نہ کروانے دیں۔ یہ ہمارا شہر ہے اور ہم کہیں نہیں جائیں گے۔”

ان کا مزید کہنا تھا‘’یہ ایک شیطانی فعل تھا۔ لیکن آج یہاں کے لوگوں کی روشنی اور افضل کے خاندان کی زندگی کی روشنی ہمیشہ تاریکی کو مٹاتی رہے گی۔“

وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر ہزاروں افراد موم بتیوں، پھولوں اور کارڈز کے ساتھ شریک ہوئے۔ کینیڈا کے حزب اختلاف کے رہنما ایرن او ٹول، این ڈی پی کے رہنما جگمیت سنگھ سمیت دیگر سیاسی رہنما اور اونٹاریو کے پریمیر ڈگ فورڈ بھی اس تقریب میں شریک تھے۔

کینیڈا کی مسلم ایسوسی ایشن نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس خوفناک حملے کے خلاف نفرت اور دہشت گردی کے قوانین کے تحت کی کارروائی کی جائے۔

دریں اثنا پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ حملہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ مغربی ملکوں میں اسلاموفوبیا میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C