افغانستان میں داعش اور القاعدہ اپنا اثر بڑھانے میں مصروف ہیں، رپورٹ
👁️ 23 بار دیکھا گیا
افغانستان میں داعش اور القاعدہ اپنا اثر بڑھانے میں مصروف ہیں، رپورٹ
واشنگٹن (ڈیلی اردو/وی او اے) واشنگٹن میں بعض عہدیداروں کی جانب سے ان خدشات کے اظہار کے باوجود کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن سکتا ہے، امریکی محکمہ دفاع اور انٹیلی جنس کے حالیہ جائزے بتاتے ہیں کہ داعش اور القاعدہ جیسے گروپ افغانستان کو مغربی ممالک کے خلاف استعمال کرنے کے لیےکسی جلدی میں نہیں ، لیکن ایک دوسرے سے مختلف حکمت عملی پر کاربند رہتے ہوئے اپنا حلقہ اثر بڑھانے میں مصروف ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے حال ہی میں ایک جائزہ رپورٹ جاری کی ہے، جسے امریکی سینٹرل کمانڈ، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی اور دیگر اداروں نے مل کر مرتب کیا ہے۔رپورٹ میں جائزہ لیا گیا ہے کہ چھ ماہ قبل امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں ممکنہ طور پر کیا نئے خطرات پیدا ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مندرجات پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کی طرف سے اکتوبرمیں بیان کیے گئے ان خدشات کے برعکس ہیں جن میں بتایا گیا تھا کہ داعش خراسان چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں مغرب اور امریکہ پر حملہ کرسکتی ہے۔ اس وقت حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ القاعدہ ایک سال تک حملے کرنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے انڈر سیکرٹری برائے پالیسی، نکولن کاہل، نے اس وقت سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا تھا کہ القاعدہ اورداعش دونوں گروپ بیرونی کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
البتہ نئے تجزیوں میں اس بات سے اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں دہشت گرد گروپ حملوں کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ان کے رہنماؤں کی ترجیحات مختلف ہیں۔مثال کے طور پر داعش خراساں اس وقت کافی طویل فاصلے پر موجود دشمن کے اہداف پر حملوں کے بجائے افغانستان میں اپنی حمایت میں اضافہ کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں داعش خراساں نے کابل کے ایک فوجی ہسپتال میں اور طالبان کی چیک پوسٹوں پر کئی حملے کیے جن میں 25 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق داعش کی جانب سے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ طالبان بنیادی سلامتی یقینی نہیں بنا سکے۔ داعش خراساں نے مقامی آبادی کے ساتھ مل کر طالبان کو غیرقانونی ثابت کرنے کا کام کیا ہے۔
ڈیفینس انٹیلی جنس کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش نے طالبان مخالف جذبات اور حکومتی عملداری میں خامیوں اور حکومت کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی بھرتیا ں کی ہیں۔
رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ یہ گروپ “وسطی اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے جنگجوؤں کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہوئے ہے، جو ممکنہ طور پر اس گروپ کو ان ممالک میں امریکی مفادات کے لیے خطرہ بنا رہا ہے۔”
اس ماہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیاہے کہ امریکی انخلا کے بعد سے اب تک داعش نے اپنی تعداد دوگنی کردی ہے، اور اب ان کی تعداد چار ہزار ہے۔ جنگجوؤں کا یہ گروپ افغانستان کے مشرق میں محدود علاقے پر کنٹرول بھی رکھتا ہے۔
طالبان نے داعش خراسان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے متعدد کوششیں کی ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں نے توجہ دلائی ہے کہ طالبان کو مختلف کارروائیوں میں محدود کامیابی ملی ہے۔
القاعدہ کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروپ کی افغانستان میں ایک طویل تاریخ ہے اور امریکی انخلا کے بعد اسے نمایاں فروغ ملا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان گروپ میں القاعدہ کے کچھ حامی طالبان حکومت میں اہم عہدوں پرفائز ہیں۔
دوسری طرف انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی ایجنسیوں کا خیال ہے کہ طالبان اب بھی القاعدہ کے اہلکاروں کو کسی حد تک الگ تھلگ رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی سینٹ کام اور ڈی آئی اے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے القاعدہ کے ارکان کو اپنی نام نہاد عبوری حکومت میں اہم کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی اور طالبان ممکنہ طور پر القاعدہ کو امریکہ پر حملے کرنے سے روکیں گے کیوںکہ وہ اپنی حکومت کے لیے بین الااقوامی توثیق چاہتے ہیں۔
لیکن امریکی حکام کا یہ بھی اندازہ ہے کہ طالبان رہنما دوحہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر واشنگٹن کو یقین دہانیوں کے باوجود القاعدہ کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کی جلدی میں نہیں ہیں۔
انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق طالبان ممکنہ طور پر افغانستان میں القاعدہ کے عناصر کو ایک کم پروفائل برقرار رکھنے کی اجازت دیں گے، تاکہ ان کے دیرینہ تعلقات برقرار رہیں۔ مزید یہ کہ طالبان کسی ایسے اقدم سے اپنے اندر موجود انتہائی عسکریت پسند اسلامی عناصر کوناراض کرنے سے گریز کریں گے۔
اقوام متحدہ کے حکام کاخیال ہے کہ القاعدہ کی اندرونی صفوں کے کئی درجن اہلکار افغانستان میں مقیم ہیں، جن میں گروپ کے سربراہ ایمن الظواہری بھی شامل ہیں۔
برصغیر میں فعال القاعدہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں اس کے 400 جنگجو موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ طالبان کی اکائیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شام: گرفتار کیے گئے 9 سابق فوجی پائلٹوں نے غوطہ، حلب، دیر الزور اور حماہ میں فضائی حملوں میں حصہ لیا
11/September/2026 👁️ 47 بار دیکھا گیا
یمن : حوثیوں کی بڑی پیش قدمی، المخا اور میون جزیرے پر قبضہ، باب المندب میں کشیدگی بڑھ گئی
11/September/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
سری لنکا: گھر پر دستی بم حملہ، دو کمسن بھائی ہلاک، والد سمیت تین زخمی
11/September/2026 👁️ 45 بار دیکھا گیا
شمالی وزیرستان: دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک
11/September/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان: گرلز سکولوں کو دھمکیوں سے ہزاروں طالبات کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ
11/September/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
کرم میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی، افغان شہری سمیت 4 دہشتگرد ہلاک
11/September/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26285 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15532 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11819 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9118 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7410 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5137 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C