12/November/2021

افغانستان: ننگرہار میں نماز جمعہ کے دوران دھماکا، 3 افراد ہلاک، 20 زخمی

👁️ 129 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان: ننگرہار میں نماز جمعہ کے دوران دھماکا، 3 افراد ہلاک، 20 زخمی

افغانستان: ننگرہار میں نماز جمعہ کے دوران دھماکا، 3 افراد ہلاک، 20 زخمی

کابل (ڈیلی اردو) افغانستان کے صوبے ننگرہار کی مسجد میں دھماکے سے تین افراد ہلاک اور بیس سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دھماکا مشرقی صوبے کے اسپن غر ضلع میں ہوا جو اگست میں ملک میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے داعش کی سرگرمیوں کا گڑھ ہے۔

دوسری جانب افغان میڈیا کا بتانا ہے کہ نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے میں 3 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

تاہم، عینی شاہدین نے اطلاع دی ہےکہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ ضلع اسپن گھر میں واقع اس مسجد کا تعلق سنی مسلک سے ہے۔

مقامی افراد کے مطابق دھماکا مسجد کے اندر ہوا اور اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتیں بھی لرز اٹھیں۔

کسی بھی گروپ کی جانب سے ننگر ہار میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ داعش پہلی مرتبہ 2015 میں ننگرہار میں سامنے آئی تھی، طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے افغانستان میں ہونے والے خونریز حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔

گزشتہ ماہ کے وسط یعنی 16 اکتوبر کو دہشت گرد تنظیم داعش نے افغانستان کے مغربی شہر قندھار میں نماز جمعہ کے دوران ہوئے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جہاں 100 سے زائد شیعہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

قبل ازیں اکتوبر میں ہی صوبے قندوز کی شیعہ مسجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 55 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

اس دھماکے میں بھی اہلِ تشیع برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

خیال رہے کہ داعش نے مزید پر تشدد کارروائیوں کی دھمکی دی ہے لیکن اس مرتبہ طالبان بطور ریاست کردار ادا کررہے ہیں کیونکہ امریکی فوجی اور ان کی اتحادی افغان حکومت رخصت ہوچکی ہیں۔

طالبان نے امریکا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عسکریت پسند گروپ پر نگرانی رکھیں گے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ 15 اگست کو طالبان کے ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے داعش کے حملوں میں اچانک اضافے کے ساتھ وہ اپنے عہد پر برقرار رہ سکیں گے یا نہیں۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں ’انتہا پسندی سے متعلق پروگرام‘ کے ریسرچ فیلو اینڈریو مائنز نے کہا کہ داعش نے زیادہ تر حملوں میں ریاست کو نشانہ بنایا ہے جبکہ اب امریکا اور بین الاقوامی فورسز جا چکی ہیں، داعش اب ریاست کے خلاف فعال ہے اور وہ ریاست طالبان ہے۔

اس حوالے سے افغانستان کے قائم مقام ڈپٹی وزیر اطلاعات و ثقافت ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ دہشت گرد تنظیم داعش ہمارے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، اس کی افغانستان میں نمایاں حیثیت نہیں ہے اور داعش کے تمام اراکین افغان ہیں، ان میں کوئی غیر ملکی نہیں ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C