افغانستان: کابل میں ایرانی سفارت خانے پر راکٹوں سے حملہ
👁️ 55 بار دیکھا گیا
افغانستان: کابل میں ایرانی سفارت خانے پر راکٹوں سے حملہ
کابل (ڈیلی اردو) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہفتے کی صبح مرکزی اور شمالی علاقوں میں ہونے والے راکٹ حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے ہیں۔
کابل کے گرین زون میں، جہاں ایران سمیت متعدد سفارت خانے اور بین الاقوامی کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں، راکٹ حملے صبح نو بجے کے قریب کیے گئے۔
The signs/ proofs of the #proxy_war of the #terrorist allies of #US in today missile attack on the Embassy of the Islamic Republic of Iran. pic.twitter.com/aVfYDCs0Rt
— Embassy of the I.R. Iran in Kabul, Afghanistan (@IRANinKabul) November 21, 2020
فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق افغانستان کے وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے ان حملوں کا الزام طالبان پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی طرف سے کل 23 راکٹ فائر کیے گئے۔
دوسری طرف طالبان کی طرف سے راکٹ حملوں سے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر حملے نہیں کرتے۔
ان حملوں کی ذمہ داری فوری طور پر کسی عسکری گروہ نے قبول نہیں کی۔
وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان کا مزید کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کابل پولیس کے ترجمان کی طرف سے بھی راکٹ حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گرین زون میں گرنے والا ایک راکٹ پھٹ نہ سکا۔
ایران کے سفارت خانے کا ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ سفارت خانے کی مرکزی عمارت راکٹ حملے سے متاثر ہوئی ہے۔ تاہم اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
The place of the Second Rocket hited (fortunately unexploded) in the yard of the Embassy of the Islamic Republic of Iran in #Kabul. Arrangments for defusing under process. pic.twitter.com/XaHtci2jsm
— Embassy of the I.R. Iran in Kabul, Afghanistan (@IRANinKabul) November 21, 2020
راکٹ حملوں کے بعد آن لائن دستیاب ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملوں سے عمارتوں کی دیواریں اور کھڑکیاں متاثر ہوئی ہیں۔ جب کہ ایک میڈیکل کمپلیکس کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
Missile hits #Iran embassy in #Kabul https://t.co/11msvNjxvB pic.twitter.com/bGtOuwf5nJ
— IRNA News Agency (@IrnaEnglish) November 21, 2020
کابل میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے حملوں میں، جن میں تعلیمی اداروں پر ہونے والے دو حملے بھی شامل ہیں، لگ بھگ 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق کابل میں حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
افغان حکومت ان حملوں کا الزام طالبان پر لگاتی رہی ہے۔ جب کہ طالبان ان حملوں سے لا تعلقی کا اعلان کرتے رہے ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان کا کابل میں ہونے والے حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کابل کے دو تعلیمی اداروں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم ‘داعش’ نے قبول کی تھی۔ تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں طالبان کا حقانی نیٹ ورک شامل تھا۔
امریکی وزیر خارجہ کا دورہ قطر
طالبان اور افغان مذاکرات کاروں کے درمیان رواں سال ستمبر سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم ان میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ جب کہ افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا جمعے کو کہنا تھا کہ اس ضمن میں اگلے چند دنوں میں پیش رفت متوقع ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو دوحہ میں طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات کاروں سے ملاقات کریں گے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں نائین الیون حملوں کے بعد سے افغانستان میں جاری جنگ ختم کرنے کے بارے میں متعدد بار بیان دے چکے ہیں۔
امریکہ کے صدارتی انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج میں اکثریت حاصل کرنے والے ڈیمو کریٹک امیدوار جو بائیڈن بھی اس نکتے پر اپنے حریف صدر ٹرمپ سے متفق ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ جو بائیڈن افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا میں اتنی جلدی نہیں کریں گے۔
اس ہفتے کے اوائل میں پینٹاگون کا کہنا تھا کہ لگ بھگ دو ہزار امریکی فوجی افغانستان سے جلد نکال لیے جائیں گے۔
افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے اس ہفتے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران طالبان نے 53 خودکش حملے اور ایک ہزار 250 دھماکے کیے ہیں۔ جن میں ایک ہزار 210 عام شہری ہلاک اور دو ہزار 500 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہفتے کی صبح دو چھوٹے دھماکے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ جن میں ایک حملہ پولیس کی گاڑی پر کیا گیا۔ جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ
یاد رہے کہ افغانستان میں امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں برس 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا۔
اس معاہدے میں افغان حکومت تو شامل نہیں تھی البتہ اس میں افغان حکومت اور طالبان کے قیدیوں کے تبادلے کے علاوہ بین الافغان مذاکرات، آئندہ برس کے وسط تک غیر ملکی افواج کا افغانستان سے مکمل انخلا، طالبان کی اس عرصے کے دوران غیر ملکی افواج کو نشانہ نہ بنانے کی ضمانت اور افغانستان میں افہام و تفہیم سے نئی حکومت کے قیام سمیت دیگر نکات شامل تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل سابق شامی جنرل طارتوس سے گرفتار
07/September/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے اہم فوجی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا، حوثیوں ساتھ صومالی جنگجوؤں کی موجودگی کا انکشاف
07/September/2026 👁️ 58 بار دیکھا گیا
سنٹرل کرم میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ، دو شہری ہلاک
07/September/2026 👁️ 48 بار دیکھا گیا
وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایرانی شہری سمیت متعدد دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
مستونگ میں تھانے پر دستی بم سے حملہ، پولیس اہلکار زخمی
07/September/2026 👁️ 54 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : کارگو ٹرانسپورٹ پر 6 روزہ پابندی، دفعہ 144 نافذ
07/September/2026 👁️ 49 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26276 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11809 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9104 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7396 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5092 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C