03/October/2025

برطانیہ: مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر حملہ، 3 افراد ہلاک، 4 شدید زخمی

👁️ 285 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
برطانیہ: مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر حملہ، 3 افراد ہلاک، 4 شدید زخمی

برطانیہ: مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر حملہ، 3 افراد ہلاک، 4 شدید زخمی

لندن (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں جمعرات دو اکتوبر کی صبح ایک شخص نے اپنی گاڑی ایک یہودی عبادت گاہ کے قریب راہ گیروں پر چڑھا دی اور بعد ازاں گاڑی سے اتر کر چاقو سے حملہ کر کے ایک سکیورٹی گارڈ کو زخمی بھی کر دیا۔

 

پولیس کے مطابق اس حملے میں دو افراد ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے جبکہ حملہ آور کو پولیس نے گولی مار دی۔

 

لندن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ حملہ مانچسٹر شہر کے شمالی حصے میں کرمپزال کے مقام پر ہیٹن پارک سیناگوگ یا کنیسہ کے سامنے کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس کے اہلکار اس وقت موقع پر پہنچے جب ایک عینی شاہد نے فون کر کے بتایا کہ اس یہودی عبادت گاہ یا کنیسہ کے پاس ایک شخص نے اپنی گاڑی عام لوگوں پر چڑھا دی تھی اور پھر ایک سکیورٹی گارڈ کو چاقو سے حملہ کر کے زخمی بھی کر دیا تھا۔

 

برطانیہ میں کرَمپسال مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر ہونے والے حملے سے متعلق اب سے کُچھ دیر قبل کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے اسسٹنٹ کمشنر لارنس ٹیلر نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔

 

اسسٹنٹ کمشنر نے اس واقعے کے حوالے سے ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا ’ہم اس واقعے پر ’انتہائی افسردہ‘ ہیں۔ ہم اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہیں۔‘

 

یہودی عبادت گاہ پر ہونے والے حملے میں اب تک حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم اس حملے کے بعد اب سے کُچھ دیر قبل دو مزید گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

 

مانچسٹر میں واقع یہودی عبادت گاہ پر حملے کرنے والے شخص کی شناخت جہاد اشامائی کے نام سے ہوئی ہے۔ مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور 35 سالہ برطانوی شہری ہے۔ اُن کا خاندان شام سے برطانیہ منتقل ہوا تھا۔

 

پولیس کے مطابق حملہ آور اشامائی بچین میں شام سے برطانیہ آئے تھے اور 2006 میں انھیں برطانوی شہریت ملی تھی۔

 

دوسری جانب گریٹر مانچسٹر پولیس کے چیف کانسٹیبل سٹیفن واٹسن نے کہا ہے کہ ’مانچسٹر کی یہودی برادری کے دو افراد بدقسمتی سے اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

 

انھوں نے مزید بتایا کہ ’مشتبہ شخص کو ابتدائی کال کے سات منٹ کے اندر پولیس اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’چار مزید افراد شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔‘

 

اسی دوران چند لمحے پہلے برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر ڈاؤننگ سٹریٹ پہنچے ہیں جہاں وہ ایمرجنسی کوبرا کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرنےجا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیرِاعظم کوپن ہیگن میں سربراہی اجلاس میں موجود تھے لیکن اس واقعے کے بعد وہ اپنا دورہ مختصر کر کے برطانیہ واپس پہنچ گئے ہیں۔

 

دیگر رپورٹوں کے مطابق ہلاک والے دو افراد کے علاوہ زخمی ہونے والے چاروں افراد کی حالت بھی تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ ان کا ایک مقامی ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

 

اس واقعے کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ہیٹن پارک سیناگوگ کے پاس پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے ایک شخص کو گولی مار دی۔ اس کے ساتھ ہی زمین پر ایک شخص زخمی حالت میں گرا ہوا تھا اور اس کا خون بہہ رہا تھا۔

 

یہ حملہ مانچسٹر کے مذکورہ کنیسہ کے باہر ایسے وقت پر کیا گیا، جب یہودی کیلنڈر کے مقدس ترین دن اور یوم کیپور کی چھٹی کے موقع پر اس کنیسہ میں کافی بڑی تعداد میں یہودی جمع تھے۔

 

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملہ اس وجہ سے خاص طور پر قابل مذمت ہے کہ یہ ایک انتہائی اہم یہودی مذہبی تہوار کے موقع پر کیا گیا۔

 

کرَمپسال مانچسٹر میں واقع یہودی عبادت گاہ کے گرد پولیس کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔

 

علاقے میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہے جبکہ اس حملے کے بعد بڑی تعداد میں یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ یہودی مذہب کے ایک اہم اور مقدس دن ’یومِ کپور‘ پر پیش آیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C