13/May/2020

بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا

👁️ 70 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا

بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد (ڈیلی اردو/آئی این پی) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی سینیٹ میں دیا گیا بیان واپس لیں ورنا استعفیٰ دیں، شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی یا وزیراعظم کا نہیں اپنا سیاسی لوہا منوانے کی بات کررہے ہیں، وفاقی وزیر ہمیں مجبورنہ کریں کہ ہم پھر کہیں کس نے آپ کو وزیراعظم بننے کا خواب دکھایا ہے

مجھے پتہ ہے کون شاہ محمود قریشی کو تحریک انصاف میں لے کر گیا، وفاقی حکومت ہر موقع پر سیاست کرتی ہے کام نہیں کرتی، ہم قومی یکجہتی کی بات کررہے ہیں مگر آپ سیاسی لوہا منوانیکی بات کررہے ہیں، شوگر کا تماشا ہی رہے گا، یہ اپنے مخالفین کو کھینچنا جانتے ہیں، ان کو کوئی دلچسپی نہیں کہ انصاف ہو، ہم شوگر ڈرامے کو بے نقاب کریں گے، ٹڈی دل کے حملوں کے سبب پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کا بڑا خطرہ پیدا ہو گیا، ٹڈی دل پاکستان کی معیشت اور زراعت کیلئے بڑا مسئلہ ہے، اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو اپنی ذمے داری ادا کرے، وزیراعظم نے کسی غریب آدمی کو کچھ نہیں دیا، حکومتی پیکج سے صرف انیل مسرت جیسے لوگوں کو فائدہ ہوا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج نرسز کا عالمی دن ہے، نرسز اور ڈاکٹرز کو سلام پیش کرتے ہیں، ہیلتھ ورکرز آپ کی صحت کیلئے اپنی صحت خطرے میں ڈال رہے ہیں، موجودہ صورتحال میں ہیلتھ ورکرز فرنٹ لائن پرکام کررہے ہیں، ہیلتھ ورکرز کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، وفاقی حکومت شعبہ صحت کو بھی ریلیف فراہم کرے، انہوں نے کہا کہ اگر ہم عالمی وبا کے دوران تعمیراتی شعبے اور ریئل اسٹیٹ کو ریلیف پہنچا سکتے ہیں تو وفاقی حکومت ذمے داری اٹھاتے ہوئے طبی عملے اور نظام صحت کو بھی ریلیف فراہم کرے۔ حکومت ہمارے فرنٹ لائن پر موجود طبی عملے کو تمام تر حفاظتی سامان کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی تحفظ دینے کے لیے اقدامات کرے۔

سندھ میں ابھی کنٹریکٹ پر بھرتیاں کر رہے ہیں لیکن سندھ حکومت کی کوشش ہو گی کہ وبا کے دوران کنٹریکٹ پر جن ملازمین کو بھرتی کیا جائے گا انہیں مستقل کیا جائے اور سب کو رسک الاؤنس دیا جائے گا اور امید ظاہر کی کہ تمام صوبے اسی طرح کے اقدامات اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم وبا سے معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کی بات کرتے ہیں لیکن میں آج خصوصی طور پر فوڈ سیکیورٹی پر بات کرنا چاہ رہا تھا جو اس وقت دنیا بھر میں تمام تر حکومتوں اور ریاستوں کے لیے ایک مسئلہ اور چیلنج بنا ہوا ہے۔اقوام متحدہ نے کہا کہ 25 سال بعد ٹڈی دل کے سب سے بڑے حملوں کی وجہ سے پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی کو زیادہ خطرہ ہے اور ہم نے اس سلسلے میں وفاق سے مدد بھی طلب کی تھی۔ ہم نے پچھلے سال بجٹ کے دوران بھی ٹڈی دل کے حملوں کے معاملے کو اٹھایا اور حکومت سے اقدامات کا مطالبہ کیا لیکن وفاقی حکومت اس سلسلے میں ناکام رہی اور جو کام ان کو کرنا چاہیے تھا، وہ نہیں کر سکے۔

حکومت کو تیاری کے لیے ایک سال کا وقت ملا لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا جبکہ مارچ میں سندھ حکومت سے انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ٹڈی دل کے اسپرے کے لیے جہاز بھیجیں گے لیکن ایسا بھی نہ ہو سکا۔ چیئرمین پی پیپلز پارٹی نے بتایا کہ 1993 میں شہیڈ محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں اس طرح کا حملہ ہوا تھا، انہوں نے ایران اور متحدہ عرب امارات سے جہاز منگوائے اور اتدا میں ہی ٹڈی دل کے حملے کو ناکام بنا دیا لیکن یہ لگاتار دوسرا سال ہے کہ ہم وفاقی حکومت سے ذمے داری ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ٹڈی دل پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کیلئے خطرہ ہے، وفاقی حکومت ٹڈی دل کے تدارک کیلئے وعدہ پورا کرے، ٹڈی دل پاکستان کی معیشت اور زراعت کیلئے بڑا مسئلہ ہے، ٹڈی دل کے مقابلے کیلئے ایک سال کاوقت ملا مگر وفاقی حکومت نے کوئی اقدام نہیں کئے، لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ، نوابشاہ و دیگر شہروں میں ٹڈی دل نے تباہی مچادی ہے، وفاق کو ہاری اور کسان کو بچانا ہوگا کیونکہ اس سے عام آدمی شدید متاثر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے معاملے پر بھی وفاقی حکومت نے صوبوں کی خاطر خواہ مدد نہیں کی۔ وفاقی حکومت ہر موقع پر سیاست کرتی ہے کام نہیں کرتی۔ وفاقی حکومت کورونا وائرس اور ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے صوبوں کی مدد نہیں کررہی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم کو پارلیمنٹ اجلاس میں آنا چاہیے تھا۔ وزیراعظم کو کل کہا تھا بیٹنگ لائن میں تبدیلی کریں۔ ایک وفاقی وزیر کا سینیٹ میں بیان ناقابل قبول ہے جس کی مذمت کرتا ہوں، جب مسائل کی بات کرتا ہوں تو مجھ پرسندھ کارڈ کھیلنے کا الزام لگتا ہے، جب کشمیری عوام کی بات کروں تو کیا کشمیر کارڈ کھیل رہا ہوں، ہم بلوچستان کی پسماندگی کی بات کرتے ہیں تو کیا بلوچستان کارڈ کھیلتے ہیں؟ خیبر پختونخوا اور فاٹا کی بات کرتا ہوں تو کیا مجھ پر خیبر پختونخوا یا فاٹا کارڈ کا الزام لگتا ہے؟ ایسے بیانات سے نقصان ہوگا۔ کیا آپ سندھ میں سیاسی لوہا منوائیں گے؟، سنجیدہ لوگ اگر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے تویہ ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی سینیٹ میں دیا گیا بیان واپس لیں۔ شاہ محمود قریشی اگر اپنا بیان واپس نہیں لیتے تو استعفیٰ دیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم قومی یکجہتی کی بات کررہے ہیں مگر آپ سیاسی لوہا منوانیکی بات کر رہے ہیں، وفاقی حکومت نے اس کو سبوتاژ کردیا، شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی یا وزیراعظم کا نہیں اپنا سیاسی لوہا منوانے کی بات کررہے ہیں۔ وفاقی وزیر ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم پھر کہیں کس نے آپ کو وزیراعظم بننے کا خواب دکھایا ہے۔

مجھے پتہ ہے کون شاہ محمود قریشی کو تحریک انصاف میں لے کر گیا۔ان کا کہنا تھا کہ شوگر کا تماشا ہی رہے گا، شوگر کمیشن کا سارا ڈرامہ دیکھ رہا ہوں۔ یہ اپنے مخالفین کو کھینچنا جانتے ہیں۔ ان کو کوئی دلچسپی نہیں کہ انصاف ہو۔ ہم شوگر ڈرامے کو بے نقاب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آج تک وزیر اعظم نے کتنے کاروباری لوگوں سے ملاقاتیں کیں، مگر کسی کسان یا غریب کے نمائدے سے ملاقات نہیں کی، بتائیں عمران خان کتنے ٹریڈ یونینز اور مزدوروں کے نمائندوں سے ملے؟ وزیراعظم نے کسی غریب آدمی کو کچھ نہیں دیا۔موجودہ حکومت عوام کے تحفظ میں سنجیدہ نہیں ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت پہلے سے بہتر ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C