بلوچستان: غیرملکی سرمایہ کاروں پر حملے کرینگے، بلوچ عسکریت پسند
👁️ 107 بار دیکھا گیا
بلوچستان: غیرملکی سرمایہ کاروں پر حملے کرینگے، بلوچ عسکریت پسند
برلن (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) سونے اور کاپر کے وسیع ذخائر کے حامل ریکوڈک منصوبے کے نئے معاہدے میں بلوچستان کی آئینی حیثیت پھر نظرانداز کردی گئی۔ کینیڈین کمپنی کےساتھ معاہدے میں اس صوبے کو صرف ایک چھوٹے شراکت دار کی حیثیت دی گئی۔
مبصرین کہتے ہیں پاکستانی تاریخ کے متنازعہ ترین منصوبے ریکوڈک کا خفیہ معاہدہ یکطرفہ حکومتی اقدامات کے باعث تنازعات کا شکار ہوا ہے۔
بلوچ عسکریت پسندوں نے صوبے میں غیرملکی سرمایہ کاروں پر حملے تیز کرنے کی دھمکی دی ہے۔ دوسری طرف قوم پرست سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی آڑ میں بلوچ وسائل لوٹنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔
ریکوڈک کا نیا معاہدہ کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن اور پاکستانی حکومت کے درمیان ففٹی ففٹی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ نئےمعاہدے پر کام کا باقاعدہ آغاز اگلے ماہ 14 اگست سے ہوگا۔ ایران اور افغانستان سے متصل بلوچستان کےسرحدی ضلع چاغی میں ریکوڈک منصوبے پر تنازعے کے باعث گزشتہ کئی سال سے کام بند تھا۔ اس تنازعے کے سبب ٹھیتیان کاپر کمپنی نے ثالثی کے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا تھا۔ مقدمے پر بلوچستان کی سابقہ حکومت کو مجموعی طور پر سات ارب روپے سے زائد کے اخراجات اٹھانے پڑے تھے۔
عالمی ثالثی فورم انٹرنشینل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ایکسڈ) نے ٹی سی سی کے 16 ارب ڈالر ہرجانے کے دعوے پر پاکستان کو پانچ ارب 97 کروڑ ڈالر کی رقم بطور جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت کی تھی۔
مبصرین کہتے ہیں سب سے بڑی ناانصافی یہ ہے کہ بلوچستان کو اس معاہدے میں بڑے حصہ دار کی بجائے ماضی کی طرح صرف ایک چھوٹے شراکت دار کے طور پر رکھا گیا ہے۔ بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے خلاف نیا محاذ؟
ریکوڈک کے سابقہ معاہدے کو بھی نواب محمد اسلم رئیسانی کے دورحکومت میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر منسوخ کیا گیا تھا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نواب زادہ حاجی لشکری رئیسانی کہتے ہیں مرکزی حکومت نےماضی کی طرح ریکوڈک کےحالیہ معاہدے میں بلوچستان کے مفادات کو یکسر نظرانداز کیا ہے۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا ،”کیندڈین کمپنی کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو ہم کسی صورت تسلیم نہیں کرسکتے۔ ہماری سرزمین سے معدنیات نکالنے کے لیے مرکزی حکومت خلاف ضابطہ معاہدے کررہی ہے۔ اگر حکومت کو بلوچستان کے مفادات کی واقعی کوئی فکر لاحق ہوتی تو اس معاہدے میں بلوچستان کا شئیر سب سے زیادہ ہوتا۔ پیپلزپارٹی کے سابقہ دور میں بلوچستان کی مخلوط حکومت بھی اسی لیے ختم کی گئی تھی کیونکہ یہاں ٹھیتیان کاپر کمپنی کے ساتھ ریکوڈک کا معاہدہ ختم کیا گیا تھا۔ صوبے کی حقیقی قیادت کو تاریکی میں رکھ کرکیا گیا کوئی معاہدہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ۔‘‘
لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کے نئے معاہدے کے حوالے سے بھی صوبے کی حقیقی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے ۔
سینیئر قانون دان اور بلوچستان بار کونسل کے صدر راحب خان بلیدی کے بقول ریکوڈک کا حالیہ معاہدہ جان بوجھ کر خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ حقائق منظر عام پر نہ آسکیں۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا،”حکومت ریکوڈک معاہدے کے حوالے سے حقائق منظر عام پر لانے سے کیوں کترا رہی ہے؟ اگر یہ معاہدہ ضابطے کے مطابق ہے تواسے خفیہ کیوں رکھا گیا ہے؟ بلوچستان اسمبلی میں کئی گھنٹوں تک اس معاہدے پر ان کیمرہ بریفنگ کی بجائے پارلیمنٹ میں اس پر بحث مباحثہ کیوں نہیں کرایا جاتا؟‘‘
راحب بلیدی کا کہنا تھا کہ ریکوڈک معاہدے کے حوالے سے اب تک جو بھی تحفظات سامنے ائے ہیں ان پر مرکزی اورصوبائی حکومت نے خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔
کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن نئے معاہدے کے تحت بلوچستان حکومت کو پہلے سال پانچ ملین ڈالر جبکہ دوسرے سال ساڑھے سات ملین ڈالرکی رقم ادا کرے گی۔
سونے اور تانبے کی کمرشل پیداوارکے آغاز تک ہر سال بلوچستان کو 10 ملین ڈالر سالانہ ادا کئے جائیں گے۔ ان ادائیگیوں کا مجموعی حجم 50 ملین ڈالرز سے زائد بتایا گیا ہے۔
بیرک گولڈ کارپوریشن کے صدرمارک برسٹو کا 19 جولائی کو کوئٹہ میں ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ ریکوڈک طویل مدتی کان ہے جس کی کم از کم عمرچالیس سال کے قریب ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ”فیزیبلٹی اسٹڈی کی نظرثانی کے نتائج کی بنیاد پر ریکوڈک کان کی منصوبہ بندی روایتی اوپن پٹ اور ملنگ آپریشن پرکی جائے گی۔
ریکوڈک سے اعلیٰ معیار کے سونے اور تانبے کا ‘کنسٹریٹ‘ (concentrate) حاصل ہو گا۔ اسک پلانٹ کی تعمیر دو مرحلوں میں کی جائے گی۔ پلانٹ 40 ملین ٹن سالانہ کے حساب سےدھات کی پراسسنگ کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت 12 ہزار سے زائد افراد کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔‘‘
مارک برسٹو کا کہنا تھا کہ ریکوڈک مںصوبہ سن 2028 سے اپنی پیداوار شروع کردے گا اوراس کان سے سالانہ 4 ہزار ٹن تانبا، سونا اور دیگر دھاتیں نکلنے کی امید ہے۔
واضح رہے ریکوڈک کا پہلا معاہدہ امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر سن 1993 میں کیا گیا تھا۔
سابقہ دور میں حکومت نے لائسنس کی تجدید کے لیے یہ شرط بھی عائد کی تھی کہ متعلقہ کمپنی کو خام مال کی ریفائنری بیرون ملک نہیں بلکہ چاغی میں ہی تعمیر کرنا ہوگی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شام: دمشق کے نواح میں اسلحہ ڈپو میں زور دار دھماکا
12/September/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
امریکا سے افغان خاتون کی ملک بدری، داعش سے مبینہ تعلق اور دہشتگردی کی سازش میں معاونت کا الزام
12/September/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
بنوں : پولیس اہلکار فائرنگ سے ہلاک، دہشتگرد فرار
12/September/2026 👁️ 82 بار دیکھا گیا
شام: گرفتار کیے گئے 9 سابق فوجی پائلٹوں نے غوطہ، حلب، دیر الزور اور حماہ میں فضائی حملوں میں حصہ لیا
11/September/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
یمن : حوثیوں کی بڑی پیش قدمی، المخا اور میون جزیرے پر قبضہ، باب المندب میں کشیدگی بڑھ گئی
11/September/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
سری لنکا: گھر پر دستی بم حملہ، دو کمسن بھائی ہلاک، والد سمیت تین زخمی
11/September/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26286 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15532 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11820 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9121 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7411 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5139 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C