12/September/2026

امریکا سے افغان خاتون کی ملک بدری، داعش سے مبینہ تعلق اور دہشتگردی کی سازش میں معاونت کا الزام

👁️ 51 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکا سے افغان خاتون کی ملک بدری، داعش سے مبینہ تعلق اور دہشتگردی کی سازش میں معاونت کا الزام

امریکا سے افغان خاتون کی ملک بدری، داعش سے مبینہ تعلق اور دہشتگردی کی سازش میں معاونت کا الزام

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکا نے دہشتگردی سے مبینہ روابط کے الزام میں ایک 47 سالہ افغان خاتون کو ملک سے بے دخل کردیا۔ امریکی حکام کے مطابق نذیرہ حاجی زادہ نامی خاتون ٹیکساس میں قانونی طور پر مستقل رہائش پذیر تھی اور اسے ایک ناکام دہشتگردی کی سازش سے متعلق کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق حاجی زادہ پر الزام تھا کہ اس نے اپنے بیٹے اور داماد کے ساتھ مل کر 2024 کے صدارتی انتخابات کے روز بڑے پیمانے پر فائرنگ کی مبینہ منصوبہ بندی سے متعلق سرگرمی میں معاونت کی اور داعش سے وابستہ منصوبے کو چھپانے میں کردار ادا کیا۔

خفیہ عدالت میں کارروائی اور ملک بدری

حکام کے مطابق خاتون کے خلاف باقاعدہ فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا گیا، تاہم اس کا معاملہ کئی دہائیوں سے غیر فعال خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں حکومت کو خفیہ شواہد کی بنیاد پر غیر ملکی دہشتگرد قرار دیے گئے افراد کی ملک بدری کی کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق حاجی زادہ نے گزشتہ ماہ خود کو ملک بدری کے دائرے میں آنے والی ’’غیر ملکی دہشتگرد‘‘ تسلیم کرتے ہوئے مزید قانونی چیلنج نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جس کے بعد عدالت نے اس کی امریکا سے بے دخلی کی منظوری دے دی۔

بیٹے اور داماد کے خلاف بھی مقدمات

امریکی حکام کے مطابق حاجی زادہ کے بیٹے نے دہشتگرد تنظیم کی معاونت کے لیے آتشیں اسلحہ حاصل کرنے کے جرم میں گزشتہ سال اپنا جرم تسلیم کیا تھا اور اسے 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کا داماد بھی مبینہ طور پر داعش سے ہم آہنگ دہشتگردی کی سازش میں مرکزی کردار ادا کرنے کے الزام کا سامنا کر رہا ہے اور اس نے استغاثہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، تاہم اس کے خلاف حتمی سزا ابھی سنائی نہیں گئی۔

امریکی حکومت اور دفاع کے وکیل کا مؤقف

امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ حاجی زادہ نے اپنے خاندان کے افراد کو داعش کے انتہا پسند نظریات کی جانب راغب کرنے میں کردار ادا کیا۔ دوسری جانب اس کے مقرر کردہ وکیل میتھیو فارلی نے خفیہ عدالتی کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ قانونی طور پر مستقل رہائش رکھنے والے افراد کو ان کے خلاف استعمال ہونے والے خفیہ شواہد تک رسائی نہ دینا منصفانہ قانونی کارروائی کے اصولوں سے متصادم ہے۔

امریکی وزیرِ انصاف ٹوڈ بلانش نے خاتون کی ملک بدری کو قومی سلامتی اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ کیس اس خصوصی عدالتی طریقہ کار کے دوبارہ استعمال کی وجہ سے بھی توجہ حاصل کر رہا ہے، جسے امریکا میں غیر ملکی دہشتگردوں کی ملک بدری کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C