بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر
👁️ 65 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر
کوئٹہ (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقوں میں پر تشدد واقعات کی نئی لہرکے خلاف احتجاج زور پکڑ گیا۔
کوئٹہ سے 225 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ضلع دکی میں جمعرات کی شب عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے 21 افراد ہلاک جبکہ 7 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے ۔
واقعے کی ذمہ داری اب تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے ۔ ماضی میں اس نوعیت کے اکثر حملوں کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔گزشتہ دو ماہ کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں 60 سے زائد مزدور ہلاک ہوچکے ہیں ۔
عسکریت پسندوں کے اس تازہ حملے کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں مظاہرین نے ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سولات اٹھائے ہیں۔
دکی میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کے لواحقین نے فرنٹیر کور بلوچستان کے مقامی کیمپ افس کے باہر بھی شدید احتجاج کیا اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
بلوچستان میں مائن ورکرز کے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات
پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم یونائٹڈ ورکرز فیڈریشن کے مرکزی رہنما پیر محمدکہتے ہیں کہ بلوچستان کے مائن ورکرز حکومتی غفلت کی وجہ سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”کوئلے کی کانوں پر عسکریت پسند مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ مائن ورکرز کو نہ حکومت کوئی سکیورٹی مہیا کر رہی ہے نہ ہی مائن مالکان۔ دکی میں جو لوگ عسکریت پسندوں کی بربریت کا نشانہ بنے ہیں ان کا تعلق انتہائی غریب گھرانوں سے تھا۔ صوبے میں بے گناہ محنت کشوں کا بلاوجہ خون بہایا جارہا ہے۔ لیکن حکومتی سطح پر اس صورتحال کو بہتر بنانے پرکوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔‘‘
پیر محمد کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے کوئلے کی کانوں کی سکیورٹی کے لیے حکومت جو خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے، اس سے صورتحال میں کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آرہی۔ ان کے بقول، ”صوبے میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 70 ہزار سے زائد مزدوروں کی جانیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ عدم تحفظ کی وجہ سے ہزاروں لوگ یہاں سے پہلے ہی کام چھوڑ کر ملک کے دیگر حصوں میں منتقل ہوچکے ہیں ۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صوبے میں کان کنی کا شعبہ یکسر تباہ ہوسکتا ہے۔‘‘
حکومتی فیصلوں سے صوبے میں سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال
پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران خان مرتضی کہتے ہیں کہ سیاسی عدم استحکام کے باعث بلوچستان میں شورش دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا،”بلوچستان میں قیام امن کی مخدوش صورتحال اس وقت تک بہتر نہیں بنائی جاسکتی جب تک یہاں حکومتی فیصلے زمینی حقائق کے مطابق نہیں ہوں گے۔ ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں، جس میں ایک عام آدمی خود کو محفوظ تصور نہیں کر رہا۔ اگر سیاسی معاملات طاقت کے بل بوتے پر حل ہوتے توآج بلوچستان میں حالات اس قدر خراب نہیں ہوتے۔ جوعناصر قیام امن کی صورتحال ثبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کا مقصد اس خطے کو عدم استحکام کا شکار بنانا ہے۔‘‘
کامران خان کہنا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے جو پلان مرتب کیا ہے اس کا از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مذید کہا، ”بلوچستان میں قیام امن کی صورتحال خراب ہونے سے حکومت پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہاں غیرملکی سرمایہ کاری پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے وفاقی سطح پر جامع اور دور رس نتائج کے حامل اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘
پشتون علاقوں میں بڑھتی ہوئی شورش کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
دفاعی امور کے سینئر تجزیہ کار میجر ریٹائرڈ عمر فاروق کہتے ہیں کہ بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقوں میں بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملے مقامی بلوچ اور پشتون قبائل کو آپس میں بہ دست وگریبان کرنے کی ایک سازش معلوم ہوتی ہے۔
عمر فاروق کا کہنا تھا کہ دکی میں مزدوروں پر حملہ ان حملوں کا تسلسل ہے جو کہ اس سے قبل صوبے کے دیگر شمال مشرقی علاقوں میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ ان کے بقول، ”بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے۔ یہاں ترقیاتی عمل کو ثبوتاژ کرنے کے لیے بھی مزدروں پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں تاکہ صوبے میں ایک غیریقینی صورتحال پیدا کی جاسکے۔‘‘
ادھر دوسری طرف گورنر بلوچستان جعفر مندوخیل اور صوبائی وزراء نے کوئٹہ میں جمعے کو ایک مشترکہ نیوز بریفنگ میں بتایا کہ بدامنی میں ملوث گروپوں کے خلاف بلوچستان میں ٹھوس بنیادوں پر کارروائی کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
حکام نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں امن وامان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف بھی اگلے ہفتے کوئٹہ کا خصوصی دورہ کریں گے۔اس دورے کے دوران انہیں امن وامان کی صورتحال اور عسکرپت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی پر بریفنگ دی جائے گی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایڈنبرا حملے: برطانوی وزیراعظم نے واقعات کو 'مسلمان دشمنی' قرار دے دیا
21/June/2026 👁️ 2 بار دیکھا گیا
لبنان سے انخلا نہیں ہوگا، اسرائیلی فوج سکیورٹی زونز میں موجود رہیگی، وزیر دفاع
21/June/2026 👁️ 3 بار دیکھا گیا
پاکستانی وزیراعظم امریکہ، ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ
21/June/2026 👁️ 139 بار دیکھا گیا
لبنان میں جھڑپیں جاری، ایک اور اسرائیلی فوجی ہلاک
20/June/2026 👁️ 194 بار دیکھا گیا
بنوں میں مسافر گاڑیوں کے قریب دو دھماکے، 7 افراد ہلاک، 6 زخمی
20/June/2026 👁️ 122 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 5 افراد ہلاک، 12 زخمی
20/June/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8845 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4593 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2466 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2114 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1915 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C