27/May/2025

بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے سینئر رہنما اظہر الاسلام رہا، سزائے موت کالعدم

👁️ 223 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے سینئر رہنما اظہر الاسلام رہا، سزائے موت کالعدم

بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے سینئر رہنما اظہر الاسلام رہا، سزائے موت کالعدم

ڈھاکا (ڈیلی اردو) بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے جماعت اسلامی (بنگلہ دیش) کے رہنما اظہر اسلام کو جنگی جرائم کے الزامات کے تحت دی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں فوری رہا کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

یاد رہے کہ دسمبر 2014 میں بنگلہ دیش میں ایک ٹرائبیونل نے اظہر اسلام کو سنہ 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔

جس سات رُکنی اپیلنٹ بینچ نے اظہر اسلام کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم جاری ہے اس کی سربراہی بنگلہ دیش کے چیف جسٹس ڈاکٹر سید رفعت احمد کر رہے تھے۔

عدالت نے کہا ہے کہ اگر اظہر اسلام کے خلاف اور کوئی کیس موجود نہیں ہے تو انھیں فوری رہا کیا جائے۔

30 دسمبر 2014 کو بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ٹرائبیونل نے اظہر اسلام کو سنہ 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔

انھوں نے اس سزا کے خلاف اپیل کی تھی تاہم اپیل میں بھی فیصلہ ان کے خلاف آیا اور 31 اکتوبر کو اپیلنٹ ڈویژن نے ان کی موت کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

جولائی 2020 میں انھوں نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی تھی جس پر آج فیصلہ سنایا گیا ہے۔

یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسے انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم بدلہ نہیں بلکہ انصاف چاہتے تھے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ انصاف کو دبایا نہیں جا سکتا۔۔۔‘

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں سنہ 2010 میں دو مختلف ٹرائبیونلز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جن کا کام مبینہ جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کرنا تھا۔ ان عدالتوں کی تشکیل سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔

سنہ 2010 کے بعد ان ٹرائبیونلز نے جن افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق بنگلہ دیش کی حزبِ اختلاف کی پارٹی جماعتِ اسلامی سے تھا۔ یاد رہے کہ جماعت اسلامی پاکستان سے علیحدگی کی مخالف رہی تھی۔

جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے اور بند کمروں میں ہونے والی ان عدالتی کارروائیوں کے ناقدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C