14/May/2025

بی جے پی وزیر وجے شاہ کے خلاف کرنل صوفیہ قریشی سے متعلق توہین آمیز بیان پر مقدمہ درج

👁️ 242 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بی جے پی وزیر وجے شاہ کے خلاف کرنل صوفیہ قریشی سے متعلق توہین آمیز بیان پر مقدمہ درج

بی جے پی وزیر وجے شاہ کے خلاف کرنل صوفیہ قریشی سے متعلق توہین آمیز بیان پر مقدمہ درج

نئی دہلی (ڈیلی اردو رپورٹ) بھارت کے ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما کُنور وجے شاہ کے خلاف بھارتی فوج کی خاتون افسر کرنل صوفیہ قریشی سے متعلق توہین آمیز اور فرقہ وارانہ تبصرے کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی بدھ کے روز مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی ہدایت پر عمل میں آئی، جس نے شاہ کے بیان کو “گٹر جیسی زبان” قرار دیتے ہوئے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو شام 6 بجے تک ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔

متنازع بیان اور عدالت کی مداخلت

وجے شاہ نے ایک عوامی تقریب کے دوران کرنل صوفیہ قریشی کا نام لیے بغیر کہا: “جنھوں نے ہماری بیٹیوں کے سندور اجاڑے تھے، ہم نے اُن ہی کی بہن بھیج کر کے اُن کی ایسی کی تیسی کروائی۔”

اس بیان کو انڈین میڈیا، خبر رساں اداروں اے این آئی اور پی ٹی آئی نے کرنل قریشی سے منسوب کیا، جو مسلمان ہیں اور جنہوں نے 7 مئی کو پاکستان میں کیے گئے مبینہ “آپریشن سندور” کی پریس کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

بیان کی ویڈیو منگل کے روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس پر شدید عوامی، سیاسی اور سماجی ردعمل سامنے آیا۔ عدالت نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے تعزیرات ہند کی نئی دفعات 152، 196(1)(b) اور 197(1)(c) کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

بی جے پی وزیر کی صفائی اور معذرت

وجے شاہ نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا:
“اگر غصے میں میرے منہ سے کچھ نکل گیا اور کسی کو بُرا لگا تو میں کہنا چاہوں گا کہ میں خدا نہیں بلکہ انسان ہوں۔ میں دس مرتبہ معافی مانگتا ہوں۔”

سیاسی اور سماجی ردعمل

بی جے پی وزیر کے بیان پر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں نے شدید تنقید کی۔ کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے نے کہا: “بی جے پی اور آر ایس ایس کی ذہنیت خواتین مخالف رہی ہے۔ پہلے پیلگام حملے میں مارے جانے والے افسر کی اہلیہ، پھر سیکریٹری خارجہ کی بیٹی، اور اب کرنل صوفیہ قریشی بی جے پی وزرا کے نشانے پر ہیں۔”

رکن پارلیمان رئیس شیخ نے بیان کو “فرقہ وارانہ زہر” قرار دیا، جبکہ سینٹر فار سوشل ریسرچ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر رنجنا کماری نے اسے “غداری کے مترادف” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بی جے پی وزیر کی پارٹی رکنیت ختم کی جائے۔

سوشل میڈیا پر بھی عوامی ردعمل شدید تھا۔ روشن رائے نامی صارف نے کہا: “کرنل قریشی نے انڈیا کا سر فخر سے بلند کیا، ایسے تبصرے صرف بی جے پی رہنماؤں سے ہی آ سکتے تھے۔” پرتاپ نامی صارف نے لکھا: “بی جے پی کی مسلم مخالف نفرت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔”

کرنل صوفیہ قریشی کون ہیں؟

کرنل صوفیہ قریشی انڈین آرمی کی اعلیٰ افسر ہیں جن کا تعلق ریاست گجرات سے ہے۔ وہ 2016 میں اس وقت خبروں میں آئیں جب انہوں نے پونے میں منعقدہ کثیر القومی فوجی مشق “فورس 18” میں انڈین فوجی دستے کی قیادت کی۔ وہ اس مشق میں کمان کرنے والی پہلی انڈین خاتون افسر تھیں۔

صوفیہ قریشی نے بائیو کیمسٹری میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے اور ان کے دادا بھی انڈین فوج میں افسر رہ چکے ہیں۔ وہ چھ سال تک اقوام متحدہ کی امن فوج میں خدمات انجام دے چکی ہیں، جن میں 2006 میں کانگو میں امن مشن شامل ہے۔

وزارت دفاع نے 2016 میں ان کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C