04/April/2020

تحریک طالبان پاکستان سیکیورٹی اداروں پر اب بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، احسان اللہ احسان

👁️ 59 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
تحریک طالبان پاکستان سیکیورٹی اداروں پر اب بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، احسان اللہ احسان

تحریک طالبان پاکستان سیکیورٹی اداروں پر اب بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، احسان اللہ احسان

اسلام آباد (ش ح ط) پاکستان تحریک طالبان کو امریکی اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے آپریشنز سے حالیہ برسوں میں نقصان ضرور پہنچا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کے شہروں میں سیل موجود ہیں اور اب بھی حملے کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ بات پاکستان تحریک طالبان کے سابق ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہا جو کہ اس کا فرار ہونے کے بعد پہلا انٹرویو ہے۔

احسان اللہ احسان نے مزید کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس کے اتحادی آج بھی مشرقی افغانستان میں متحرک ہیں جس کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان تحریک طالبان اور جماعت الاحرار مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ان کا یقینی طور پر سیٹ اپ موجود ہے لیکن وہ ایک منصوبہ بندی کے تحت خاموش ہیں۔

احسان اللہ احسان نے ‎الجزیرہ ٹیلی ویژن کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ جیل میں نہیں بلکہ ایک عام رہائشی علاقے میں”ہاؤس اریسٹ” تھا، اس ہاوس میں انکے ساتھ بیوی اور بچے بھی رہائش پذیر تھے جہاں تمام تر سہولیات (انٹرنیٹ اور سمارٹ فون) بھیء دستیاب تھیں۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ پچھلے دروازے سے فرار ہونے کے لیے اس نے آن لائن ٹیکسی بُک کروائی۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل انڈین اخبار سنڈے گارجئین نے یہی خبر شائع کی تھی جس کے بعد بھی حکام کی جانب سے کسی قسم کی کوئی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر شئیر کیے گئے احسان اللہ احسان کے مبینہ آڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’پانچ فروری 2017 کو ایک معاہدے کے بعد انھوں نے خود کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کر دیا تھا‘۔

اس مبینہ آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ انھوں نے تین برسوں تک اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن سکیورٹی اداروں نے انھیں بیوی بچوں سمیت قید کر لیا تھا۔

اس پیغام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ان تین برسوں میں پاکستانی فوج نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی‘ جس کے بعد وہ ’اپنی رہائی کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے مجبور ہوئے‘۔

دو منٹ طویل اس آڈیو پیغام کے مطابق احسان اللہ احسان مبینہ طور پر 11 جنوری کو بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔

مبینہ آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی اداروں اور فوج کے بارے میں اور اپنی گرفتاری اور فرار کے بارے میں مزید تفصیلات بعد میں دیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان فوج کی جانب سے اپریل 2017 میں احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان پیش کیا گیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کر رہے تھے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے اس اعترافی بیان کی ویڈیو میں انھوں نے اپنا اصلی نام لیاقت علی بتایا اور کہا کہ ان کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔

احسان اللہ احسان کے مطابق انھوں نے زمانہ طالب علمی ہی میں تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور وہ بعد میں تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے ترجمان بھی رہے۔

احسان اللہ احسان نے طالبان کے ساتھ اپنے دس سال کے تجربے کی بنیاد پر کہا تھا کہ ’تحریک طالبان پاکستان اسلام کے نام پر لوگوں کو اور خاص طور پر نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ شامل کرتی ہے‘۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’طالبان رہنما خود اپنے نعروں اور دعوؤں پر پورا نہیں اترتے‘۔

احسان اللہ احسان نے اس ویڈیو میں مزید کہا تھا کہ ’تحریک طالبان پاکستان کے لیے افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس اور انڈین ایجنسی ‘را’ پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے اہداف مقرر کرتی تھیں اور ان اہداف کو حاصل کرنے کی قیمت بھی ادا کی جاتی تھی‘۔

احسان اللہ احسان نے کالعدم شدت پسند تنظیموں کے ترجمان کی حیثیت سے دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جن میں 16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والا وہ خوفناک حملہ بھی شامل تھا جس میں 138 معصوم بچوں سمیت 150 کے قریب افراد شہید ہوئے تھے۔ بعد ازاں پاک فوج کے اعلی حکام کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہوتا ہے۔

احسان اللہ احسان نے بحثیت ٹی ٹی پی کے ترجمان ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

پاکستان فوج کی جانب سے اپریل 2017 میں جاری کیے گئے اس بیان کے چند روز بعد احسان اللہ احسان نے پاکستانی نیوز چینل جیو کو بھی انٹرویو دیا تھا۔

احسان اللہ احسان ہے کون؟

احسان اللہ احسان کا اصل نام لیاقت علی مہمند ہے اور ان کا تعلق پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقے مہمند سے ہے، جو پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں میں سے ایک تھی۔ اب یہ علاقہ خیبر پختونخوا میں ضم ہو چکا ہے اور اسے ضلع کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ احسان اللہ احسان کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے تھا اور وہ کافی عرصے تک اس کا ترجمان بھی رہا۔ اس نے ترجمان کی حیثیت سے کئی طالبان حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔  بعد ازاں ٹی ٹی پی میں تقسیم کے بعد وہ جماعت احرار کے ترجمان بن گئے اور اس دہشت گرد تنظیم کے بھی کئی اہم حملوں کی ذمہ داری احسان اللہ احسان نے قبول کی۔ اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ماضی میں صحافت سے بھی وابستہ رہا ہے اور اسے شاعری کا بھی شوق رہا۔

ٹی ٹی پی، پنجابی طالبان اور سپاہ صحابہ

احسان اللہ احسان کو پنجابی طالبان کے سربراہ عصمت اللہ معاویہ کا قریبی دوست سمجھا جاتا ہے۔ معاویہ کے بارے میں خیال کیا جاتا کہ وہ ماضی میں کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان اور کالعدم جہادی تنظیم جیش محمد کا حصہ رہا ہے۔ سپاہ صحابہ کے ذرائع نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ کبھی بھی ان کی تنظیم کا حصہ نہیں رہا۔ عصمت اللہ معاویہ نے دو ہزار چودہ میں ٹی ٹی پی چھوڑ دی تھی اور سکیورٹی اداروں کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے اور ایک آڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ اب ترویج دین کے لیے کام کرے گا اور افغانستان میں نیٹو کی فوج کے خلاف جہاد کرے گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ معاویہ نے احسان اللہ احسان اور سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کرایا، جس کے بعد احسان اللہ احسان نے اپریل دو ہزار سترہ میں ہتھیار ڈال دیے اور ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا کہ ٹی ٹی پی غیر ملکی ایجنسیوں کے لیے کام کر رہی تھی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C