حسن نصرااللہ کے بعد حزب اللہ اب اسرائیل کیخلاف لڑائی میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتا؟
👁️ 93 بار دیکھا گیا
حسن نصرااللہ کے بعد حزب اللہ اب اسرائیل کیخلاف لڑائی میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتا؟
لندن (ڈیلی اردو/بی بی سی) حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کی نماز جنازہ اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی ہلاکت کے تقریباً پانچ ماہ بعد اتوار کو بیروت میں ادا کر دی گئی ہے جس میں حزب اللہ کے ہزاروں حامیوں اور شہریوں نے شرکت کی۔
ان کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ ہاشم صفی الدین کی بھی تدفین کی گئی۔ لبنان کے صدر جوزف عون کے نمائندوں اور ملک کے وزیر اعظم نے بھی حزب اللہ کے رہنماؤں کے جنازوں میں شرکت کی۔
لبنان کی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ بیروت کے جنوب میں ایک مضافاتی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔ کچھ عرصے بعد حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ اور گروپ کے ڈی فیکٹو سیکنڈ ان کمانڈ، ہاشم صفی الدین، جو حسن نصر اللہ کے بعد متوقع سربراہ تھے وہ بھی اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔
اسرائیل نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اس گروپ کے موجودہ سیکرٹری جنرل نعیم قاسم کی مدت مختصر رہے گی۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اتوار کو اپنے خطاب میں کہا کہ ’اس قدر وسیع اور مقبول جنازہ لبنان میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔‘ انھوں نے دسیوں ہزار افراد کی شرکت کو ’قومی اتحاد‘ کی علامت قرار دیا۔
ایران کے حمایت یافتہ نصر اللہ حزب اللہ کے بانی اراکین میں شامل تھے اور تین دہائیوں تک تنظیم کے سربراہ رہے۔ ان کی ہلاکت اس تنظیم کے لیے ایک زبردست دھچکہ تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حسن نصراللہ کے بعد حزب اللہ کا مستقبل کیا ہوگا۔
یہ بات تو واضح ہے کہ اس وقت حزب اللہ اسرائیل سے براہ راست لڑائی مول لینے کے حسن نصرااللہ کے فیصلے پر کھڑی نظر نہیں آ رہی ہے۔
اس گروپ کے موجودہ سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا کہ یہ لبنان کے مفاد میں نہیں ہے کہ وہ ’اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رکھے‘۔
تاہم نعیم قاسم نے غزہ پر اسرائیل کے حملے میں مداخلت کے نصر اللہ کے فیصلے کی بھی تعریف کی اور کہا کہ حزب اللہ نے غزہ کی جنگ میں مداخلت کی وجہ یہ تھی کہ اسرائیل کا ’غزہ پر حملہ کرنے کے چار دن بعد لبنان پر حملہ کرنے کا ارادہ تھا، جلد یا بدیر وہ حملہ کر دیتا۔‘
عوامی سطح پر تدفین کے ذریعے حزب اللہ اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے
خبر رساں ادارے رؤٹرز کا کہنا ہے کہ اپنے سابق رہنما کی عوامی سطح پر تدفین کے ذریعے حزب اللہ اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے کیونکہ گذشتہ سال کی جنگ کے بعد یہ گروہ کمزور ہو چکا ہے۔
حزب اللہ کے ایک مشکل یہ بھی ہے کہ عوام میں اس کی مخالفت بھی پائی جاتی ہے۔ لبنان میں بہت سے لوگ 2006 میں اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی ایک ماہ تک جاری رہنے والی تباہ کن جنگ کو اب بھی یاد کرتے ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ یہ گروپ ملک کو ایک اور تنازعے میں دھکیل سکتا ہے۔
حزب اللہ کے مقاصد میں سے ایک اسرائیل کی تباہی ہے، جو اس گروپ کو حماس سے زیادہ طاقتور دشمن کے طور پر دیکھتا ہے۔ حزب اللہ کے پاس ہتھیاروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جس میں ایسے میزائل شامل ہیں جو اسرائیلی علاقے میں دور تک حملہ کر سکتے ہیں۔ ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو اس کے علاوہ ہیں۔
حزب اللہ کو بطور ایک ملیشیا قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد لبنان پر حملہ کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف لڑنا تھا۔ اب یہ ایک ایسی عسکری طاقت ہے جو لبنان کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور سیاسی جوڑ توڑ میں بھی حصہ لیتی ہے۔ اس تنظیم کے ذریعے لبنان میں صحت، تعلیم اور دیگر سوشل سروسز مہیا کی جاتی ہیں۔ ایران علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے۔
حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے
لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع گذشتہ برس 8 اکتوبر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب حزب اللہ نے اسرائیلی مورچوں کو نشانہ بنایا تھا۔
حزب اللہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ حملے اس نے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بدلے میں اور ’غزہ کی حمایت‘ میں کیے ہیں۔ خیال رہے گذشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا تھا اور اس کارروائی کو ’آپریشن طوفان الاقصیٰ‘ کا نام دیا تھا۔
اسرائیل کی جانب سے حماس کے حملوں کے جواب میں غزہ میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
حزب اللہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف محاذ اس وقت تک کھولے رکھے گا جب تک غزہ میں جنگ بندی نہیں ہو جاتی۔
اس کے علاوہ اس خطے میں ایک عسکری اتحاد بھی کام کر رہا ہے جس میں حزب اللہ، حماس، حوثی جنگجو، اسلامک جہاد اور دیگر عراقی گروہ شامل ہیں اور اس اتحاد کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرک : پولیس چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام، جوابی کارروائی میں 5 مبینہ دہشتگرد ہلاک
22/October/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
بنوں : پولیس پارٹی پر فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل میں نصب بم کا دھماکا، کمسن بچی سمیت 2 شہری زخمی
22/October/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
گوادر: سکیورٹی فورسز کا بروقت ردعمل، ناکام حملے کے بعد دہشتگرد فرار
22/October/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
شام: دمشق کے نواحی قصبے میں داعش کے خلاف کارروائی، سکیورٹی اہلکار ہلاک و زخمی، جھڑپوں کی اطلاعات
22/October/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کا فضائی دفاع متحرک، ریاض اور مدینہ منورہ میں 4 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ
22/October/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
ایرانی فوج غیر روایتی جنگ کے لیے تیار، ڈرون صلاحیتیں بڑھانے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز میں دشمن جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی
22/October/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26390 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15626 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11924 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9278 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7537 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5494 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C