حسن نصرااللہ کے بعد حزب اللہ اب اسرائیل کیخلاف لڑائی میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتا؟
👁️ 69 بار دیکھا گیا
حسن نصرااللہ کے بعد حزب اللہ اب اسرائیل کیخلاف لڑائی میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتا؟
لندن (ڈیلی اردو/بی بی سی) حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کی نماز جنازہ اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی ہلاکت کے تقریباً پانچ ماہ بعد اتوار کو بیروت میں ادا کر دی گئی ہے جس میں حزب اللہ کے ہزاروں حامیوں اور شہریوں نے شرکت کی۔
ان کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ ہاشم صفی الدین کی بھی تدفین کی گئی۔ لبنان کے صدر جوزف عون کے نمائندوں اور ملک کے وزیر اعظم نے بھی حزب اللہ کے رہنماؤں کے جنازوں میں شرکت کی۔
لبنان کی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ بیروت کے جنوب میں ایک مضافاتی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔ کچھ عرصے بعد حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ اور گروپ کے ڈی فیکٹو سیکنڈ ان کمانڈ، ہاشم صفی الدین، جو حسن نصر اللہ کے بعد متوقع سربراہ تھے وہ بھی اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔
اسرائیل نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اس گروپ کے موجودہ سیکرٹری جنرل نعیم قاسم کی مدت مختصر رہے گی۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اتوار کو اپنے خطاب میں کہا کہ ’اس قدر وسیع اور مقبول جنازہ لبنان میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔‘ انھوں نے دسیوں ہزار افراد کی شرکت کو ’قومی اتحاد‘ کی علامت قرار دیا۔
ایران کے حمایت یافتہ نصر اللہ حزب اللہ کے بانی اراکین میں شامل تھے اور تین دہائیوں تک تنظیم کے سربراہ رہے۔ ان کی ہلاکت اس تنظیم کے لیے ایک زبردست دھچکہ تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حسن نصراللہ کے بعد حزب اللہ کا مستقبل کیا ہوگا۔
یہ بات تو واضح ہے کہ اس وقت حزب اللہ اسرائیل سے براہ راست لڑائی مول لینے کے حسن نصرااللہ کے فیصلے پر کھڑی نظر نہیں آ رہی ہے۔
اس گروپ کے موجودہ سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا کہ یہ لبنان کے مفاد میں نہیں ہے کہ وہ ’اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رکھے‘۔
تاہم نعیم قاسم نے غزہ پر اسرائیل کے حملے میں مداخلت کے نصر اللہ کے فیصلے کی بھی تعریف کی اور کہا کہ حزب اللہ نے غزہ کی جنگ میں مداخلت کی وجہ یہ تھی کہ اسرائیل کا ’غزہ پر حملہ کرنے کے چار دن بعد لبنان پر حملہ کرنے کا ارادہ تھا، جلد یا بدیر وہ حملہ کر دیتا۔‘
عوامی سطح پر تدفین کے ذریعے حزب اللہ اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے
خبر رساں ادارے رؤٹرز کا کہنا ہے کہ اپنے سابق رہنما کی عوامی سطح پر تدفین کے ذریعے حزب اللہ اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے کیونکہ گذشتہ سال کی جنگ کے بعد یہ گروہ کمزور ہو چکا ہے۔
حزب اللہ کے ایک مشکل یہ بھی ہے کہ عوام میں اس کی مخالفت بھی پائی جاتی ہے۔ لبنان میں بہت سے لوگ 2006 میں اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی ایک ماہ تک جاری رہنے والی تباہ کن جنگ کو اب بھی یاد کرتے ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ یہ گروپ ملک کو ایک اور تنازعے میں دھکیل سکتا ہے۔
حزب اللہ کے مقاصد میں سے ایک اسرائیل کی تباہی ہے، جو اس گروپ کو حماس سے زیادہ طاقتور دشمن کے طور پر دیکھتا ہے۔ حزب اللہ کے پاس ہتھیاروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جس میں ایسے میزائل شامل ہیں جو اسرائیلی علاقے میں دور تک حملہ کر سکتے ہیں۔ ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو اس کے علاوہ ہیں۔
حزب اللہ کو بطور ایک ملیشیا قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد لبنان پر حملہ کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف لڑنا تھا۔ اب یہ ایک ایسی عسکری طاقت ہے جو لبنان کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور سیاسی جوڑ توڑ میں بھی حصہ لیتی ہے۔ اس تنظیم کے ذریعے لبنان میں صحت، تعلیم اور دیگر سوشل سروسز مہیا کی جاتی ہیں۔ ایران علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے۔
حزب اللہ کے اسرائیل پر حملے
لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع گذشتہ برس 8 اکتوبر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب حزب اللہ نے اسرائیلی مورچوں کو نشانہ بنایا تھا۔
حزب اللہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ حملے اس نے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بدلے میں اور ’غزہ کی حمایت‘ میں کیے ہیں۔ خیال رہے گذشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا تھا اور اس کارروائی کو ’آپریشن طوفان الاقصیٰ‘ کا نام دیا تھا۔
اسرائیل کی جانب سے حماس کے حملوں کے جواب میں غزہ میں آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
حزب اللہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف محاذ اس وقت تک کھولے رکھے گا جب تک غزہ میں جنگ بندی نہیں ہو جاتی۔
اس کے علاوہ اس خطے میں ایک عسکری اتحاد بھی کام کر رہا ہے جس میں حزب اللہ، حماس، حوثی جنگجو، اسلامک جہاد اور دیگر عراقی گروہ شامل ہیں اور اس اتحاد کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پاکستانی وزیراعظم امریکہ، ایران مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ
21/June/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
لبنان میں جھڑپیں جاری، ایک اور اسرائیلی فوجی ہلاک
20/June/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
بنوں میں مسافر گاڑیوں کے قریب دو دھماکے، 7 افراد ہلاک، 6 زخمی
20/June/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 5 افراد ہلاک، 12 زخمی
20/June/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
لکی مروت: دو مختلف مقامات سے تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد
20/June/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، امریکہ کی تردید
20/June/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8843 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4590 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3293 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2463 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2112 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1910 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C