18/November/2024

پاک افغان سرحد کے قریب وادی تیراہ میں حھڑپیں، 8 پاکستانی کمانڈوز اور 9 شدت پسند ہلاک

👁️ 70 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاک افغان سرحد کے قریب وادی تیراہ میں حھڑپیں، 8 پاکستانی کمانڈوز اور 9 شدت پسند ہلاک

پاک افغان سرحد کے قریب وادی تیراہ میں حھڑپیں، 8 پاکستانی کمانڈوز اور 9 شدت پسند ہلاک

واشنگٹن (ش ح ط) صوبہ خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کے 8 اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 9 عسکریت پسند بھی مارے گئے۔

ڈیلی اردو کے مطابق قبائلی ضلع خیبر کی دور افتادہ وادی تیراہ میں کے علاقے میدان میں رات بھر ہونے والی لڑائی میں پاکستانی فوج کی فرنٹیئر کور (ایف سی ) کے 8 کمانڈوز بھی مارے گئے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے ابھی تک وادیٔ تیراہ میں عسکریت پسندوں کے حملوں کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب سرکاری ذرائع نے ڈیلی اردو کو بتایا ہے کہ وادی تیراہ کے علاقے میدان میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے سینئر کمانڈر سمیت آٹھ عسکریت پسند بھی مارے گئے۔ عسکریت پسند اپنے زخمی ساتھیوں اور لاشوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق وادی تیراہ میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ تاحال جاری ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ جھڑپ کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔

اس جھڑپ کے حوالے سے کسی عسکریت پسند گروہ یا کسی شدت پسند تنظیم سے وابستہ فرد نے کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا اور نہ ذمہ داری قبول کی۔

دوسری جانب عسکریت پسند باغ بازار کے قریب گھروں پر قبضہ کر کے سیکورٹی فورسز کے کیمپ اور پولیس تھانہ پر مسلسل فائرنگ کر رہے ہیں۔

دونوں اطراف بھاری ہتھیاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ تیراہ کے باغ بازار پر ماٹر گولہ گرنے سے 7 دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔

قبائلی ضلع خیبر کی دور افتادہ وادی تیراہ کے طول و عرض اور ملحقہ دیگر علاقوں میں کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر اسلام پاکستان اوع تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مجاہدین اور جنگجو سرگرم عمل ہے۔

پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں 2021ء میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آ جانے کے بعد سے پاکستان میں ممنوع قرار دی گئی مقامی طالبان کی تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی طرف سے کیے جانے والے ہلاکت خیز حملوں میں واضح اضافہ ہو چکا ہے۔

وادی تیراہ ماضی میں بھی دہشت گروں اور عسکریت پسندوں کا گڑھ رہے ہیں اور افغانستان کے ساتھ سرحد کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے وہاں پاکستانی طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے حملے آج بھی بار بار دیکھنے میں آتے ہیں۔

یاد رہے کہ وادی تیراہ کے مشرق میں اورکزئی، جنوب مغرب میں کرم جبکہ شمال میں ننگرہار افغانستان کے ساتھ طویل 65 کلومیٹر سرحد واقع ہے۔ تین سو کلومیٹر پر پھیلی اس وادی کا بیشتر حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے جہاں کالعدم شدت پسند تنظیموں نے اپنی پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں۔

تین قبائلی علاقوں کے سنگم پر واقع یہ وادی عسکری اعتبار سے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ دیگر قبائلی علاقوں میں تعینات اہلکاروں کو رسد کی ترسیل کیلئے جو راستہ استعمال کیا جاتا ہے وہ تیراہ ہی سے ہو کر گزرتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C