پاکستان نے ’افغان امن کانفرنس‘ منسوخ کر دی
👁️ 55 بار دیکھا گیا
پاکستان نے ’افغان امن کانفرنس‘ منسوخ کر دی
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے ) اس کانفرنس کو ابتدا میں جولائی کے وسط میں منعقد کرنے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ تاہم اسے پہلے ملتوی اور اب افغان رہنماوں کے مبینہ پاکستان مخالف رویے کے سبب انتہائی خاموشی اور غیر محسوس طریقے سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق افغان حکومت کے رویے سے مایوس ہو کر پاکستان نے مجوزہ ‘افغان امن کانفرنس‘ منسوخ کی ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد جنگ زدہ ملک میں امن کے قیام کی کوشش تھی اور اس میں افغانستان کی اعلی سیاسی قیادت نے بھی شرکت کرنا تھی۔ تاہم پاکستان کے ایک اعلی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس منصوبے کو اب ترک کر دیا گیا ہے۔
یہ امن کانفرنس پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں سترہ سے انیس جولائی کے درمیان ہونا تھی۔ گزشتہ ماہ ازبکستان میں افغان صدر اشرف غنی نے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران مجوزہ کانفرنس کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد پاکستانی حکام نے اعلان کیا تھا کہ چونکہ افغان رہنما طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے دوحہ میں ہوں گے لہذا کانفرنس کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ افغان رہنما پاکستانی حکام کے ساتھ انفرادی ملاقاتوں میں مختلف طرح کے مطالبات کرتے رہے ہیں اس لیے سوچا یہ گیا تھا کہ مجوزہ کانفرنس پاکستان کے حوالے سے افغان رہنماوں کے توقعات اور مطالبات معلوم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
دریں اثنا ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اور وزرائے خارجہ کی سطح پر افغانستان پر ایک علاقائی کانفرنس منعقد کرنے پر غور کر رہی ہے۔
کانفرنس کی منسوخی کی وجہ کیا باہمی تلخی ہے؟
حالیہ ہفتوں کے دوران افغان اور پاکستانی عہدیداروں نے ایک دوسرے کے خلاف جو بیانات دیے ہیں، ان سے دونوں کے درمیان تلخی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں تشدد میں اضافے کے ساتھ ہی اسلام آباد اور کابل کے مابین تعلقات میں کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے جولائی کے اواخر میں اسلام آباد میں پاک افغان یوتھ فورم کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے افغانستان کے بحران کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے کے حوالے سے افغان رہنماؤں کے بیانات کو افسوس ناک قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا، ”پاکستان نے پہلے امریکا اور پھر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے طالبان کو قائل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کی۔ خطے کا کوئی دوسرا ملک پاکستان کی کوششوں کی برابری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔‘‘
اس سے قبل افغان رہنماوں نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی حکومت اور آرمی دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہے اور طالبان کو فضائی امداد بھی فراہم کررہی ہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے بھی پاکستان پر طالبان کو مدد کرنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ دس ہزار جہادی جنگجو افغانستان میں داخل ہو گئے ہیں۔ نائب صدر امر اللہ صالح اور قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نے بھی پاکستان پر دہشت گرد گروپوں کی مدد کرنے کا الزام لگایا تھا۔
پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے امراللہ صالح کے اس بیان کے جواب میں کہا تھا کہ افغانستان کے اعلیٰ عہدیداروں کے ‘احمقانہ بیانات‘ سے خود افغانستان کی بے عزتی ہو رہی ہے اور یہ عہدیدار جان بوجھ کر پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
معید یوسف نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا، ”چند بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر جو بد قسمتی سے ہمارے افغان بہن بھائیوں پر بطور اعلیٰ عہدیدار کے مسلط ہیں، کی جانب سے تلخ اور غلط بیان بازی، دو طرفہ تعلقات کی مسلسل خرابی کی وجہ بن رہے ہیں جس کا مقصد اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔‘‘
اس سے قبل اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے واقعے کے بعد افغانستان نے پاکستان سے اپنے سفیر اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا تھا۔
‘پاک افغان تعلقات مزید خراب ہوں گے‘
مبصرین کا خیال ہے کہ پاک افغان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید نا خوشگوار ہوں گے اور جب تک افغانستان میں جنگ چلتی رہے گی ان تعلقات میں بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار مختار باچا نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف جذبات بہت زیادہ بڑھ رہے ہیں۔ اسلام آباد کو افغانستان کی شکایات ہمدردی سے سننی چاہیے اور الزامات کا معقول جواب دینا چاہیے۔
مختار باچا نے مزید کہا، ”مثال کے طور پر اگر کابل کا یہ الزام ہے کہ دس ہزار دہشت گردوں کو پاکستان نے تربیت دے کر افغانستان بھیجا ہے۔ اگر حقائق ایسے نہیں ہیں، تو پاکستان کو کوئی ایسا جواب دینا چاہیے جو معقول ہو۔ بالکل اسی طرح افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کے حوالے سے بھی معقول جواب دیا جانا چاہیے۔ بعض اوقات اسلام آباد کی طرف سے جو جواب آتا ہے وہ جلتی پہ تیل کا کام کر دیتا ہے اور تعلقات کو بہتر کرنے کے بجائے مزید بگاڑ دیتا ہے۔”
اسلام آباد کی پرسٹن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر امان میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے سفارتی محاذ اور دیگر محاذوں پہ ہمیشہ تعلقات خراب رہے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل سابق شامی جنرل طارتوس سے گرفتار
07/September/2026 👁️ 4 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے اہم فوجی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا، حوثیوں ساتھ صومالی جنگجوؤں کی موجودگی کا انکشاف
07/September/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
سنٹرل کرم میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ، دو شہری ہلاک
07/September/2026 👁️ 47 بار دیکھا گیا
وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایرانی شہری سمیت متعدد دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
مستونگ میں تھانے پر دستی بم سے حملہ، پولیس اہلکار زخمی
07/September/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : کارگو ٹرانسپورٹ پر 6 روزہ پابندی، دفعہ 144 نافذ
07/September/2026 👁️ 47 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26276 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11809 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9104 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7395 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5092 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C