پاکستان، چین اور روس کا طالبان پر جامع حکومت بنانے پر زور
👁️ 49 بار دیکھا گیا
پاکستان، چین اور روس کا طالبان پر جامع حکومت بنانے پر زور
اسلام آباد (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان، روس اور چین کے سفارتی نمائندوں نے منگل کے روز کابل میں طالبان کے قائم مقام وزیر اعظم سے ملاقات کی اور ایک جامع حکومت قائم کرنے پر زور دیا۔
کابل میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی سفیر محمد صادق، روس کے سفارت کار ضمیر کابولف اور چین کے سفارتی نمائندے یوی شی یونگ نے کابل کے دورے میں افغانستان کے قائم مقام وزیر اعظم محمد حسن اخوند اور سینئر عہدے داروں سے ملاقات کی، جس دوران امن، استحکام اور جامع حکومت کے قیام کے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔
طالبان کی نئی حکومت میں اس ملک کے تمام نسلی گروپس کی شمولیت بین الاقوامی برادری کے ساتھ ساتھ افغانستان کے تمام ہمسایہ ملکوں کا سب سے اہم مطالبہ ہے۔
گزشتہ ہفتے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر سائیڈ لائنز ملاقاتوں میں روس، چین، پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے افغانستان میں قومی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا جس کے ذریعے ایک جامع حکومت کا قیام عمل میں آ سکے اور وہ ملک کے تمام سیاسی اور نسلی گروپس کے مفادات کا خیال رکھ سکے۔
بی بی سی کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘اس کی وجہ سے طالبان کو آگے بڑھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگر طالبان نے حکومت میں دوسرے فرقوں کو شامل نہ کیا تو جلد یا بدیر انہیں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے’۔
“حکومت میں تمام گروپس کی شرکت اور خواتین کے حقوق کے وعدوں کے باوجود طالبان کی کابینہ وفاداروں پر مشتمل ہے جس میں اقلیتی گروپس کے کچھ لوگ تو ہیں لیکن کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہو گا ایک غیر مستحکم اور ایک غیر منظم افغانستان جو دہشت گردوں کے لیے ایک مثالی جگہ ہو گی۔ یہ چیز پریشان کن ہے”۔
افغانستان کی صورت حال کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
طالبان کابینہ کا دفاع کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ایک گزشتہ پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ یہ ایک عبوری بندوبست ہے جو بعد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے طالبان رہنماؤں نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ انہیں یہ منصوبہ قبول کرنے میں ہچکچاہٹ ہے۔
طالبان کے ایک لیڈر محمد مبین نے اتوار کو افغانستان کے آریانہ ٹی وی پر جامع حکومت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ”ہم کسی کو یہ حق نہیں دے سکتے کہ وہ ہمیں ایک جامع حکومت بنانے کے لیے کہے”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ”جامع حکومت سے ان لوگوں کا مطلب یہ ہے کہ طالبان ہمسایہ ملکوں کے جاسوسوں کو اپنی حکومت میں شامل کریں”۔
وسطی ایشیا میں افغانستان کا ایک ہمسایہ ملک تاجکستان بھی طالبان کے سخت ناقدین میں شامل ہے۔ تاجک نسل کے لوگ افغانستان کی کل آبادی کا 20 فی صد ہیں۔ یہ افغانستان کا واحد گروپ ہے جو طالبان کے گزشتہ اقتدار کے دور میں مسلسل ان کے خلاف مزاحمت کرتا رہا ہے۔ افغانستان کا قومی مزاحمتی اتحاد یعنی این آر ایف اے پنچ شیر میں قائم ہے۔
طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پنج شیر میں مزاحمت کو کچل دیا ہے، جب کہ اس گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجو پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں اور خود کو ایک طویل گوریلا جنگ کے لیے منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
طالبان کے ایک عہدے دار احمد اللہ متقی نے منگل کے روز پاکستانی، روسی اور چینی سفارت کاروں کی تصویریں توئٹ کرتے ہوئے کہا ہے اس ملاقات میں طالبان کے خارجہ امور اور مالیات کے قائم مقام وزرا بھی موجود تھے۔
PM of the Islamic Emirate of Afghanistan Mullah Muhammad Hassan Akhund is holding a meeting with the Special Representatives of Russia, China & Pakistan in the Palace. Acting Minister of Foreign Affairs, Acting Minister of Finance & others also present. https://t.co/H0Vr3y4VKJ
— Ahmadullah Muttaqi | احمدالله متقي (@Ahmadmuttaqi01) September 21, 2021
کابل کے دورے کے دوران تینوں غیر ملکی سفارت کاروں نے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔
پاکستاان کے سفیر نے کہا ہے کہ یہ ملاقات افغانستان میں دیرپا امن اور استحکام لانے کی کوششوں کا ایک حصہ تھی۔
ایک اور خبر کے مطابق طالبان نے، جن کی حکومت کو ابھی تک کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا، دوحہ میں قائم اپنے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کو اقوام متحدہ کے لیے اپنا نیا سفیر نامزد کیا ہے۔ اور اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے جاری سالانہ اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرنے کی اجازت دے۔
یہ درخواست غور کے لیے اقوام متحدہ کی ایک خصوصی کمیٹی کے پاس جائے گی جس کا اقوام متحدہ کے جاری سیشن کے دوران اجلاس ہونے کی توقع نہیں ہے۔
طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے یہ درخواست اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے نام ایک خط میں پیر کے روز کی۔
اس سے قبل طالبان 1996 سے 2001 تک اقتدار میں تھے، جس دوران اقوام متحدہ نے اس حکومت کے نمائندے کو نشست برقرار رکھنے کی اجازت دی تھی جس کا طالبان نے تختہ الٹ دیا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل سابق شامی جنرل طارتوس سے گرفتار
07/September/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے اہم فوجی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا، حوثیوں ساتھ صومالی جنگجوؤں کی موجودگی کا انکشاف
07/September/2026 👁️ 61 بار دیکھا گیا
سنٹرل کرم میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ، دو شہری ہلاک
07/September/2026 👁️ 50 بار دیکھا گیا
وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایرانی شہری سمیت متعدد دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
مستونگ میں تھانے پر دستی بم سے حملہ، پولیس اہلکار زخمی
07/September/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : کارگو ٹرانسپورٹ پر 6 روزہ پابندی، دفعہ 144 نافذ
07/September/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26276 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11810 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9104 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7396 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5094 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C